بلب نہیں جلے گا

gul

تفصیل میں جانے سے پہلے کچھ اعدادوشمار ذہن نشین کرلیجئے۔۔۔دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان میں اس وقت مختلف مکاتب کے پانچ مدارس کام کر رہے ہیں جن میں تنظیم المدارس پاکستان‘وفاق المدارس سلفیہ‘رابطہ المدارس پاکستان ‘وفاق المدارس الشیعہ اور وفاق المدارس العربیہ شامل ہیں‘ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے چھوٹے بڑے 20 ہزارمدارس اپنے وفاق سے ملحق یا رجسٹرڈ ہیں اور اسی اندازے کی رو سے 2011 ء کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے مدارس میں پڑھنے والے طلباء وطالبات کی تعداد لگ بھگ دس لاکھ بتائی جاتی ہے جو یقیناًآنے والے وقت میں مزید بڑھے گی۔یاد رہے کہ تقسیم ہند کے بعد سے ہی مدارس بننا شروع ہوگئے تھے‘ اصولی طور پر تو 65 سال کا تخمینہ لگانا چاہیے لیکن۔۔۔چلئے اتنا پیچھے نہیں جاتے‘ صرف گذشتہ20 سال کا حساب نکالتے ہیں۔فرض کر لیتے ہیں کہ 1992 ء سے 2012ء تک اوسطاً ہر مدرسے ہرسال 5 لاکھ طالبعلم فارغ التحصیل ہوئے ہوں گے‘ پانچ لاکھ کو بیس سے ضرب دیں تو یہ بنتے ہیں ایک کروڑ۔یہ تعداد ذرا ذہن میں رکھئے گا‘ یہ وہ لوگ ہیں جو عام آدمی کی نسبت دین کا علم زیادہ بہتر جانتے ہیں‘ پانچ وقت نماز بھی ادا کرتے ہیں‘ اِنہوں نے اپنے فرقے کی لگ بھگ تمام اہم دینی کتب کا مطالعہ بھی بطورِ نصاب لازماً کیا ہوگا ‘ ایامِ طالبعلمی میں روزے بھی پورے رکھے ہوں گے اور بچپن سے جوانی تک پاک صاف ماحول میں رہنے کی برکت سے ذہن بھی آلودگی سے پاک رہے ہوں گے۔
اب آئیے دوسری طرف۔۔۔اپنے اردگرد نظر ڈالیے‘ آپ کو بے شمار لوگ مدارس میں نہ پڑھنے کے باوجود پانچ وقت کی نماز ادا کرتے نظر آئیں گے‘ باریش بھی ہوں گے ‘ ہاتھوں میں تسبیح بھی ہوگی اورہمہ وقت باوضو بھی رہتے ہوں گے۔آ پ کے خیال میں پورے پاکستان میں ایسے کتنے لوگ ہوں گے؟؟؟ چلئے 18 کروڑ کی آبادی ذہن میں رکھتے ہوئے یہ تعداد بھی ایک کروڑ تصور کرلیتے ہیں۔یہ بھی یقیناًپاک صاف ماحول اور خدا کی ہدایات پر کاربند رہنے والے لوگ ہوں گے ‘ سچ بولتے ہوں گے‘ نیکی پھیلاتے ہوں گے‘ دنیاداری پر احکام الٰہی کو ترجیح دیتے ہوں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اول الذکر اور موخرالذکر دونوں طرح کے 2 کروڑلوگ آخرہیں کہاں؟؟؟ اگر یہیں موجود ہیں تو اِن کے کردار کی جھلک معاشرے میں نظر کیوں نہیں آرہی؟؟؟ ابھی تو میں نے بیس سال کا حساب لگایا ہے‘ تیس یا چالیس سال کا حساب لگانے بیٹھ جائیں تو بات کہاں سے کہاں جاپہنچے۔آپ یہ دلیل بھی دے سکتے ہیں کہ یہ دو کروڑ لوگ بھی معاشرے کی بے حسی کا شکار ہوکر اِن جیسے ہی بن گئے ہیں‘ یہ تو بڑی عجیب بات ہوگی‘ بجائے اِس کے کہ یہ لوگ معاشرے کو اپنے جیسا بناتے‘ یہ خود دوسرے جیسے بن گئے ؟؟؟
تبلیغ کا کام بھی جاری ہے‘ عبادتیں بھی عروج پر ہیں‘ وظائف بھی ہر بندے کو یاد ہیں‘مذہبی تہوار بھی پورے جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں‘روتے بلکتے گڑگڑاتے ہاتھ دعاؤں کے لیے بھی اٹھتے ہیں‘ اللہ نبی کا نام بھی ہر گھر میں لیا جاتاہے۔۔۔لیکن پتا نہیں پھر بھی اوپر کی طرف گہری خاموشی کیوں ہے؟؟؟کبھی کبھی تو یوں لگتاہے کہ خدا اور ہمارے درمیان کوئی نادیدہ دیوار حائل ہوگئی ہے جو نہ ہماری آواز اوپر تک پہنچنے دے رہی ہے نہ اُس کی رحمتیں ہم پر نازل ہورہی ہیں۔مسجد خدا کا گھر ہے لہذا ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ عبادت صرف خدا کے گھر میں ہی کی جائے لہذا اِس گھر سے باہر آتے ہی ہم ویسے ہوجاتے ہیں جیسے ہم اپنے گھروں سے باہر آکر ہوتے ہیں۔ہم اپنے گھروں میں بہت شریف ہوتے ہیں‘ بچوں کو سچ بولنے کی تلقین کرتے ہیں‘ گالیاں نہیں دیتے‘ ملاوٹ نہیں کرتے‘ گھر والوں کا خیال رکھتے ہیں‘ گھر کو صاف رکھتے ہیں‘ کوئی چیز ضائع نہیں کرتے۔۔۔لیکن گھر سے باہر آتے ہی بالکل الٹ ہوجاتے ہیں‘ ہمارا یہی رویہ خدا کے گھر کے بارے میں بھی بن گیا ہے‘ وہاں ہم بالکل ٹھیک رہتے ہیں ‘ لیکن جونہی باہر نکلتے ہیں‘ کینچلی بدل لیتے ہیں۔دہشت کا یہ عالم ہے کہ کوئی نیک سے نیک بندہ بھی کسی اجنبی مسافر کو گھر میں ٹھہرانے کو تیار نہیں‘ جو لوگ پہلے ٹی وی کو برا سمجھتے تھے‘ اب کیبل کو برا سمجھتے ہیں تاہم انٹینا والی نشریات سننا جائز گردانتے ہیں۔ نیکی اتنی نایاب ہوگئی ہے کہ جو خو د کو نیک سمجھتا ہے وہ فوراً اپنی نیکی کے خمار میں مبتلا ہوجاتاہے‘جو جتنا ایماندار ہے وہ اُتنا ہی کرخت ہے‘ ایمانداری کا پیمانہ یہ بن گیا ہے کہ سب کو دھتکار دیا جائے اور کسی سے سیدھے منہ بات نہ کی جائے۔کیا وجہ ہے کہ جیلوں میں حافظ قرآن بھی بھرے پڑے ہیں؟؟؟ وجہ صرف یہ ہے کہ یہاں ’’عاملِ قرآن‘‘ کوئی نہیں بنناچاہتا‘ عملی طور پر ہم نے مذہب کو معاشرت سے بالکل الگ تھلگ کر دیا ہے لیکن ماننے کو تیار نہیں‘ ہم غسل کے مسائل تو پوچھتے ہیں یہ نہیں پوچھتے کہ جو کمائی ہم کر رہے ہیں یا کر چکے ہیں وہ حرام ہے یا حلال ۔ نیکی کے کاموں میں مصروف بے شمار ادارے چوری کے سافٹ ویئرزکے ذریعے نیکی عام کر رہے ہیں۔ہمارے لیے تو سارے نبی محترم ہیں‘ پھر یورپ اور امریکہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بننے والی تضحیک آمیز فلموں اور تذکروں پرہم کیوں خاموش رہتے ہیں؟؟؟کوئی ایک آواز۔۔۔چھوٹی سی آواز تو اُٹھے۔۔۔!!!
اُس قوم کی دعائیں کیا قبول ہوں جس کے ہاتھ پاؤں اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ ہوں۔۔۔جو ہر چیز میں ملاوٹ کرے اور پھر بھی خود کو ایمان پر سمجھے۔۔۔جو اپنی ہر مصیبت کو آزمائش اور دوسروں کی ہر مشکل گھڑی کو عذاب قرار دے۔۔۔جو اللہ سے بھی مانگے اور اللہ کے نام پہ بھی مانگے۔۔۔ جو زکواۃ بھی دے اور رشوت بھی لے۔۔۔ جو ایک ہاتھ سے دے اور دوسرے ہاتھ سے چھین لے۔۔۔جو سنت رسولﷺ کی بات کرے لیکن اپنی توند کم نہ کرے۔۔۔جو دو کروڑ کے پرافٹ کی تمنا میں روز دو روپے خیرات کرے۔۔۔جو اسلام کو امن و آشتی کا مذہب بھی قرار دے اور اپنے عقیدے سے اختلا ف رکھنے والوں کا جینا بھی محال کردے۔۔۔جو اپنے ملک کے مسلمانوں کو چھوڑ کر باقی ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے لڑنے مرنے کا درس دے۔۔۔جو اپنے ہی مسلمانوں سے جہاد کے لیے دوسروں کے بچوں کو قائل کرے اور اپنے بچوں کوایک طرف کرلے۔۔۔جو پانی سے وضو کرکے زبان سے بے وضو ہوجائے۔۔۔جو جھوم جھوم کرمقدس ہستیوں کا ذکر کرے اور گھوم گھوم کر پیسے پکڑے۔۔۔جو خدا کو رب العالمین کی بجائے محض رب المسلمین سمجھنے لگے۔۔۔!!!
بلب کا بٹن دبائیں اور وہ نہ جلے تو شروع سے آخر تک ایک ایک چیزچیک کرنا پڑتی ہے‘ بٹن دیکھنا پڑتاہے‘سوئچ دیکھنا پڑتاہے‘ ہولڈر چیک کرنا پڑتاہے‘ بلب کی تار کا جائزہ لینا پڑتاہے‘ یہ ساری چیزیں ٹھیک بھی ہوں تو بعض اوقات بلب نہیں جلتاکیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کرنٹ نہیں آرہا ہوتا‘ ہم بھی وہ بلب بن چکے ہیں جس کی ہر چیز ٹھیک ہے لیکن کرنٹ نہیں آرہا‘ہم کرنٹ پر دھیان دیے بغیر سوئچ اور تاریں بدلتے جارہے ہیں‘ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔مین سوئچ چیک کریں‘ کہیں نہ کہیں کوئی پلگ ضرور شارٹ ہے‘ جب تک کرنٹ نہیں آئے گا‘ بلب نہیں جلے گا‘جتنی مرضی ٹکریں مار لیں۔۔۔!!!

بلب نہیں جلے گا” پر بصرے

  • جنوری 31, 2016 at 10:06 AM
    Permalink

    جی ہاں پلگ شاٹ ہے اورافسوسناک بات یہ ہے کہ یہ انکشاف کرنے والا بھی ان جانوروں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے

    Reply
    • جنوری 31, 2016 at 11:13 PM
      Permalink

      very true

      Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *