ریٹائرمنٹ کا ’’اعلان‘‘

shami

وجہ جو بھی بیان (یا تلاش) کی جائے اور الزام (یا کریڈٹ) جس کو بھی دیا جائے، یہ ایک حقیقت ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اپنی ریٹائرمنٹ کی مقررہ تاریخ سے دس ماہ پہلے ہی (بذریعہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ اور انہوں نے بذریعہ ٹویٹر) اعلان کر دیا ہے کہ وہ اپنے منصب کی مدت دراز نہیں کریں گے۔ وقت مقررہ پر گھر چلے جائیں گے اور یہ کہ وہ توسیع (کے کاروبار) میں یقین نہیں رکھتے۔ کسی بھی جمہوری (یا غیر جمہوری) ملک میں اس طرح کا اعلامیہ ایک غیر معمولی بات سمجھی جائے گی، لیکن پاکستان میں جو ماحول، میڈیا، سیاست اور آئی ایس پی آر نے مل جل کر پیدا کر رکھا ہے، اس میں کسی غیر معمولی بات کو بھی معمول کی کارروائی قرار دیا (یا سمجھا) جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنرل راحیل شریف نے اپنی شخصیت اور صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف انہوں نے جس یکسوئی اور ایک طرفگی کے ساتھ کارروائی شروع کی، اس نے کراچی سے طورخم تک لوگوں کو اطمینان اور سکون کا سانس لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔ دنیا بھر میں انہیں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ ہو یا چین، برطانیہ ہو یا سعودی عرب، ایران ہو یا روس ہر جگہ ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا جاتا اور ان کی بات توجہ سے سنی جاتی ہے۔ بعض اوقات پروٹوکول کے تقاضے زمین پر دھرے رہ جاتے ہیں اور ان کی پرواز آسمانوں میں پہنچ جاتی ہے۔ جنرل موصوف اس وقت ایک محبوب و مقبول شخصیت ہیں اور ننانوے فیصد سرویز میں کسی بھی دوسرے شخص کے مقابلے میں ان کے چاہنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات یوں نہیں کہ سیاستدان تو جماعتوں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں، ان کے حامی اور مخالف الگ الگ پائے جاتے ہیں، جبکہ فوج کے سربراہ کو جماعت، علاقے، رنگ یا نسل کی حدود میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی پسندیدگی کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے۔
آپریشن ضرب عضب نے جو فتوحات حاصل کیں، کراچی میں رینجرز نے جو معرکے مارے اور بلوچستان میں جنگجوئوں کی جس طرح پسپائی ہوئی اس کا کریڈٹ فوجی قیادت کو بہرحال دیا جائے گا لیکن قومی قیادت کو بھی اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ درست ہے کہ کھانے کے ذائقے کا انحصار خاتون خانہ (یا شیف) کی صلاحیت پر ہوتا ہے لیکن اس کے اجزاء کی فراہمی تو اس کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ گوشت، سبزی،گھی کا انتظام خاندان کا ذمہ دار کرتا ہے۔ باورچی خانے میں برتن اور اوون بھی اسی کو فراہم کرنا ہوتے ہیں۔ سب اہتمام کر دیا جائے لیکن گیس کا بل ادا نہ ہونے کی وجہ سے وہ کٹ چکی ہو تو کوئی ایک لقمہ بھی پکایا نہیں جا سکتا۔ کھانا پکانے ہی پر موقوف نہیں، دنیا کا ہر کام اجتماعی کاوش کا مرہونِ منت ہے۔ گندم کو دیکھ لیجئے کہ کاشت سے لے کر لقمہ بننے تک اس کو کن کن مرحلوں اور کن کن ہاتھوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اگر چپاتی بنانے والا کام نہ جانتا ہو اور اسے جلا ڈالے تو سب کی محنت اکارت جاتی ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ سب کے کئے دھرے کا سہرا تندورچی کے سر سجا دو تو اس پر قہقہہ ہی لگایا جائے گا۔ محاذ جنگ سے جی ایچ کیو تک زنجیر کی کوئی ایک کڑی بھی ٹوٹ جائے یا کمزور پڑ جائے تو معاملہ چوپٹ ہو سکتا ہے۔
اس میں دو آراء نہیں ہیں کہ جنرل راحیل شریف اپنے حصے کا کام بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے ہر کام لیا جانا چاہیے یا لیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر کو انجینئر اور انجینئر کو معمار کی جگہ پر بٹھانے کے تجربات ہماری تاریخ میں بہت ہوئے ہیں۔ اس دوران ہم نے بہت کچھ گنوایا بھی ہے۔ اس کے باوجود ایسے عناصر آ دھمکتے ہیں جو اسی ''عطار کے لونڈے‘‘ سے دوا لینے پر اصرار شروع کر دیتے ہیں، جس کے سبب بیمار ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک زمانے میں حزب اختلاف دہائی دیا کرتی تھی اور اپنے حریفوں کو اقتدار سے محروم کرنے کے لئے ہر حد سے گزرنا قومی فریضہ گردانتی تھی۔ اب اہل سیاست کی بھاری تعداد تو کانوں کو ہاتھ لگا چکی ہے‘ لیکن ایسے مہم جو کہیں نہ کہیں موجود پائے جاتے ہیں جو دستور کے تحت کبھی برسر اقتدار آنے یا کسی موقر پارلیمانی حیثیت کے مالک ہونے کا تصور نہیں کر سکتے، اس لئے اپنے شوق انتقام کو مہمیز دیتے رہتے ہیں۔ ان میں بعض میڈیائی دانشور بھی شامل ہو کر اپنی اہمیت کا احساس دلانے میں لگ جاتے ہیں۔ ٹی وی سکرینوں پر کھڑے ہو کر دہائی دینے لگتے ہیں کہ ''چھیتی ووہڑیں وے طبیبا نئیں تے میں مر گئی آں‘‘... انہیں دستور کی پروا ہے، نہ قانون کی۔ ان پر کوئی آرٹیکل چھ لگاتا ہے نہ تعزیرات پاکستان کی کوئی دفعہ ان کی زبان روک پاتی ہے۔ ایسی مچھلیاں اگرچہ کم ہیں تاہم تالاب کو گدلا کرنے کے لئے تو ایک ہی کافی ہوتی ہے۔ ان کی نادانی (یا دانائی) انہیں یہ سمجھنے نہیں دیتی کہ پاکستان میں فوجی قیادت کو قومی معاملات میںالجھانے سے مسائل مزید الجھ جائیں گے۔ ماضی میں جو کچھ ہوا، اس میں علت جو کچھ بھی ہو معلول کا حال مختلف نہیں رہا... اب جبکہ پاکستان کو اپنی تاریخ کی انتہائی سنگین صورتِ حال کا سامنا ہے، جگہ جگہ ''نان سٹیٹ ایکٹرز‘‘ اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں لگے ہیں، ہزاروں پاکستانی (فوجی اور سول) خاک و خون میں نہلائے جا چکے ہیں، جگہ جگہ دہشت گردوں نے نرسریاں بنا رکھی ہیں۔ بچے، بوڑھے، عورتیں تک ان سے محفوظ نہیں ہیں، ایسے عالم میں فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان فاصلے پیدا (یا وسیع) کرنا گناہ کبیرہ سے بھی بڑا گناہ ہے۔
اس سارے پس منظر میں جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع پر ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا تھا۔ ان سے نہ جانے کی درخواستیں کی جا رہی تھیں اور طرح طرح کے لوگ طرح طرح کے مصرعے اٹھا رہے تھے۔ یہ ہو سکتا تھا کہ آئی ایس پی آر یا پیمرا کی طرف سے یہ ''درخواست‘‘ جاری کر دی جاتی کہ اس موضوع پر لکھنے یا بحث کرنے سے گریز کیا جائے لیکن یہ کسی نے بھی مناسب نہ جانا، گویا ہر ایک مزے لے رہا تھا، کوئی مزہ کرکرا نہیںکرنا چاہتا تھا۔ ایسے میں جنرل راحیل نے (فی الحال) اعلان کرکے سب کا منہ بند کر دیا۔ جن حالات میں یہ فیصلہ کیا گیا اگر انہیں مدنظر رکھا جائے تو پھر اسے درست ہی سمجھا جائے گا کہ غیر متنازعہ قومی شخصیات کی بے ضرورت، بے وقت، بے جا اور بے سبب پتنگ اڑانا بھی عیاری کے زمرے میں آتا ہے۔ خداوندا تیرے یہ سادہ دل بندے کدھر جائیں۔ سلطانی تو عیاری ہے ہی، درویشی بھی کچھ کم نہیں ہے

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *