آفاقی کے چچا... انتظار حسین 

shahid

intizaaaarانتظار حسین پرانی قدروں کا شاہکار تھے مگروہ زمانے کے ساتھ ساتھ چلتے تھے ۔نئے خیالات اورجدت کو اپنالیتے اور دوسروں کو بھی تبدیلی کا مشورہ دیتے تھے۔انکی کامیاب ادبی و صحافتی زندگی کا یہ بھی ایک راز تھا،وہ ٹھہرے نہیں،رواں رہے ۔ آٹھ کم سوسال ۔۔۔ایک صدی کا سفر طے کرتے ہوئے انہوں نے کسی بھی دور میں اپنے خیالوں کو out dated نہیں ہونے دیا۔ان سے آخری ملاقات دسمبر ۲۰۱۵ میں الحمرا کی ادبی کانفرنس میں ہوئی تھی۔بیماری اور نقاہت کے باوجود وہ اپنے قدموں پر چل کر آئے تھے ۔اور یہی وہ قوت ارادی تھی جس نے انہیں دوسروں کے سہارے کا محتاج نہیں ہونے دیا ۔میرے استاد محترم علی سفیان آفاقی میں بھی یہ غیرت اور خود داری غالب تھی ۔وہ دوسروں کے سہارے چلنے یا بیمار پڑ کر گھر پڑے رہنا اورکتاب و اخبار سے کٹ جاناگوارہ نہیں کرتے تھے۔زندگی کو ایک عزم اور ولولے سے جینا آفاقی صاحب اور انتظار حسین صاحب کی عادت تھی۔زندہ دلی ان دونوں بزرگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔انتظار حسین صاحب نہایت حلیم اور مجلسی انسان تھے۔ وہ زندگی جینے کی امنگ رکھتے تھے، نہایت پرامید اور روشن دماغ ہستی۔۔۔ میرے استاد محترم علی سفیان آفاقی کے بے تکلف دوست اور محرم راز تھے۔ آفاقی صاحب جب پرانی یادوں کو تازہ کرتے تو منٹو، شورش کاشمیری اور انتظار حسین کو شدت سے یاد کرتے اورگھنٹوں انکی باتیں کرتے رہتے ۔پھریہ ہدایت فرماتے ’’اگر کسی نے ادب اور صحافت میں کام سے نام کماناہو تو چچاانتظارحسین سے ملا کرے۔اورہاں آپ لوگ انتظار حسین سے فلاں واقعہ پوچھنااور انہیں میرا سلام کہنا‘‘ وہ پیار سے انہیں چچا کہتے تھے۔آفاقی صاحب مہینے میں ایک آدھ بار بالمشافہ نہ مل پاتے تو فون پر لازمی بات کرلیتے،پرانی یادوں کے علاوہ کسی واقعہ کی تصدیق کا مسئلہ ہوتا تو وہ انتظار حسین صاحب سے رجوع کرتے اور کہتے ’’بھئی جب تک دم ہے چچا کا ساتھ نہیں چھوڑا جاسکتا‘‘
انتظار حسین آفاقی صاحب جیسے کھلنڈرے، خوش مزاج صحافیوں اور ادیبوں کے منہ بولے چچا بھی تھے اور ماموں بھی۔ آفاقی صاحب کی ہدایت پرمیں جب بھی انتظار حسین صاحب سے ملا، وہ سینے سے لگاتے اور کہتے’’ یار یہ آفاقی کبھی بوڑھا نہیں ہو گا۔ دل چاہتا ہے کہ میں بھی اسے چچا کہہ سکوں‘‘ میں دو بزرگوں کے جملے سن کر ظرف کی کشادگی کا سبق لیتا اور کبھی کبھارعرض کرتا’’ آپ انہیں بھتیجاکہہ کر بدلہ لے سکتے ہیں۔‘‘
’’وہ بڑا نٹ کھٹ ہے۔ میں نے بھتیجا کہہ کر پکارا تو مجھے کسی اور رشتے کی گانٹھ میں باندھ دے گا‘‘۔دوستوں میں آفاقی صاحب کے شگوفے اور برجستہ جملے بڑے معروف تھے ،شاید ہی کوئی دوست انکی حس مزاح سے محفوظ رہا ہو۔انتظار حسیں صاحب انکے جملے سن کر دھیمے دھیمے مسکراتے اور کبھی کبھار بے ساختہ قہقہہ بھی لگاتے۔ آفاقی صاحب اپنے چچا کا بہت احترام کرتے تھے مگر بے تکلفی دیکھ کر کوئی گمان نہیں کر سکتا تھا کہ یہ دونوں ایک دوسرے کا لحاظ بھی کرتے ہوں گے۔
1953ء میں روزنامہ آفاق شروع ہواتو آفاقی صاحب نے اس ادارے کو ایک شوبز صحافی کے طور پر جوائن کرلیا۔ انتظار حسین صاحب بھی آفاق سے وابستہ ہوئے اور یوں ان کی قربتیں اور شرارتیں بھی بڑھ گئیں۔ آفاقی صاحب انتظار حسین صاحب سے دس سال چھوٹے تھے ،دونوں کومیرٹھ کی مٹی نے قربتوں اور بے تکلفی کے رشتہ میں باندھ رکھا تھا۔ آفاقی صاحب نے بھی میرٹھ میں تعلیم حاصل کی تھی اور انتظار حسین نے بھی وہاں سے گریجویشن کی تھی۔ جمیل الدین عالی رشتے میں آفاقی صاحب کے ماموں تھے۔ آفاقی صاحب بتایاکرتے تھے کہ عالی ماموں ددھیال کی طرف سے مرزا غالب اور ننھیال کی جانب سے میردرد کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ ایک بار ماموں عالی نے کہا ’’ارے سوفی جانتے ہو انتظار حسین میرا ماموں ہے‘‘۔
آفاقی صاحب چونکے اور کہا ’’ماموں کیا بات کرتے ہیں۔ آپ ہمیں کس الجھن میں ڈال رہے ہیں ،صاف صاف بتائیں مرزا غالب سے یا میر درد کی جانب سے وہ کس رشتے سے ہمارے ماموں بنتے ہیں ۔‘‘
’’ ارے اس میں الجھن کیسی؟۔بس وہ ہمارے ماموں ہیں ‘‘ جمیل الدین عالی نے دوٹوک کہا۔
’’ماموں اگر وہ آپ کے ماموں ہیں تو اس لحاظ سے وہ ہمارے نانا لگے۔اگر ہم ان کے احترام کو مدنظر رکھیں گے تو پھرچھیڑا کیسے کریں گے۔دفتر میں روزانہ ملنا ہوتا ہے اب ہم انہیں نانا کہیں گے تو ناراض ہی نہ ہوجائیں‘‘
’’ مگر اب آپ انہیں نانا نہ بولنا۔ کوئی اور رشتہ جوڑ لینا میاں‘‘۔ آفاقی صاحب دفتر آ کر انتظار حسین صاحب کے ڈیسک پر بیٹھ گئے اور کہا ’’مسئلہ یہ ہے چچا۔ اگر مائنڈ نہ کریں تو یہ معاملہ طے کرلیتے ہیں کہ اب ہم آپ کو کیا کہہ کر پکاراکریں‘‘۔
انتظار حسین آفاقی صاحب کی رگ ظرافت سے خوب آگاہ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ نٹ کھٹ اور چھلاوہ روزانہ کوئی نئی کہانی گھڑ کر لاتا ہے لہٰذا اس کی بات میں کوئی نیا شگوفہ ہو گا۔
’’کیا ہوا سوفی‘‘ علی سفیان آفاقی صاحب کو عام طور پر آفاقی صاحب کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ چھوٹا کیا بڑا۔ مگر قریبی اور بے تکلف احباب ’’سوفی‘‘ بھی کہہ لیتے تھے۔ آفاقی صاحب نے عالی صاحب کا حوالہ دیکر معاملہ سمجھایا تو انتظار حسین صاحب ہولے ہولے سے مسکراتے ہوئے بولے’’ تم سے معاملہ طے کربھی لیا جائے تو جان کہاں چھوڑنے والے ہو ۔جو دل کہتا ہے وہ ہی کہہ لیا کرو‘‘۔
یہ سن کر آفاقی صاحب نے قہقہہ لگایا ’’ٹھیک ہے آج سے ہم آپ کو چچا کہا کریں گے اور جب ذائقہ بدلنے کیضرورت ہوگی تو ماموں بھی کہہ لیا کریں گے‘‘ آفاقی صاحب بتایا کرتے تھے کہ ایسی نوک جھونک سے دل اور دماغ دونوں تازہ اور وسیع ہوجاتے تھے۔اسکا مظاہرہ میں نے بیس بائیس سال تک آفاقی صاحب کی رفاقت میں کئی بار دیکھا۔منیر نیازی اور مسعوداشعر بھی جب فیملی میگزین میں آتے تو انکے دفترمیں محفل جم جاتی اور پرانی باتیں ہی کیا گرماگرم جملے بھی ایک دوسرے کو کستے نظر آتے تھے۔
آفاقی صاحب کی ہم عصر دوستوں کے ساتھ بڑی انسیت تھی۔ اے حمیدمرحوم فیملی میگزین کے دفتر آتے تو دور سے نعرہ لگاکر پوچھا کرتے ’’اوئے آفاقی کتھے‘‘۔ لیکن لحاظ ومروّت اور ادب آفاقی صاحب کی گھٹی میں شامل تھا، دوستوں کے ساتھ خوب ہنسی مذاق کرتے، لطیفے سناتے مگر کبھی انہیں اوئے، تُوئے نہیں کیا۔ وہ گالی یا ڈانٹ سے نوازتے تو تب بھی ’’آپ‘‘ کہہ کر اس کی شدت کم کر دیتے تھے۔ آفاق کے زمانے میں انتظار حسین کے علاوہ وہ سعادت حسن منٹو کو چھیڑا کرتے اور اسی خوشگوار اور برداشت کی فضا میں ایسی نابغہ روزگار ہستیاں اپنی ادبی و نثری اور صحافتی معراج تک پہنچی تھیں۔ مگر اب ایسا ماحول اور برداشت کی فضا کہاں ۔یہ تو برسوں پہلے ختم ہوگئی تھی لیکن ،ایک دو سال پہلے تک۔۔۔انتظار حسین اور علی سفیان آفاقی نے نئی نسل کوپرانی قدروں کا سبق دینا نہیں چھوڑاتھا ۔محنت برداشت،دیانت،وضع داری اور شائستگی کا سبق۔۔۔کسی نے یاد رکھا اور کسی نے ’’نئی قدروں‘‘ سے سمجھوتہ کرکے بھلا دیا۔

آفاقی کے چچا... انتظار حسین ” پر ایک تبصرہ

  • فروری 5, 2016 at 9:20 PM
    Permalink

    شاہد چودھری صاحب! بہت زبردست۔دونوں شخصیات کا آپ نے جس خوب صورت انداز میں تذکرہ کیا ہے،واقعی لاجواب ہے۔اب نوجوانوں کو سکھانے والے نہیں رہے اور ان کے بگڑے ہوئے فن اور آداب کو ہم ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *