آصف ہاشمی کے خلاف کاروائی کرنا نیب کا امتحان ہے ، صدیق الفارق

s-2

sf

( شاہد نذیر چوہدری، گل نوخیزاختر)

پاکستان میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں ،زمینوں اور انکی متروکہ املاک کے حوالے سے بہت تحفظات پائے جاتے ہیں ۔خاص طور پر ان املاک اور زمینوں پر بہت سے بااثر لوگ قابض ہوچکے ہیں ،ان قبضہ گروپوں کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے بعض ملازمین کی بھی مدد حاصل ہوتی ہے لہذا متروکہ وقف املاک بورڈمیں کرپشن کی گنگا بہتی نظر آتی رہی ہے۔لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔جب متروکہ وقف املاک بورڈپاکستان کے موجودہ چیئرمین محمد صدیق الفاروق کا تقرر ہوا ہے ،متروکہ وقف املاک بورڈکی کارکردگی کا گراف بھی بلند ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ایک کامیاب اور باہمت سیاستدان اور شریف برادران کے دست راست کی حیثیت سے s-1یہ عہدہ محمد صدیق الفاروق کی سیاسی زندگی کا یہ بڑا کڑا امتحان سمجھا جاتا ہے۔اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے آصف ہاشمی اس بورڈ کے چیئرمین تھے جس پر نیب بھی انکے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔ متروکہ وقف املاک بورڈپاکستان کی ذمہ داریوں اور اسکی کارکردگی سے عام کیا خاص لوگ بھی آگاہ نہیں لہذا یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس ادارہ کی نااہلی کے سبب اقلیتوں کا رویہ بھی تبدیل ہوگیا تھا مگر اب نئے چیئرمین نے انہیں دوبارہ قومی دھارے میں شامل کیا ہے اورانہیں باور کرایاہے کہ وہ پاکستان کے معزز شہری ہیں اور انکی عبادتگاہوں کا تحفظ حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے۔اس حوالے سے ہم نے متروکہ وقف املاک بورڈپاکستان کے چیئرمین محمد صدیق الفاروق کے ساتھ نشست رکھی اور مختلف سلگتے موضوعات پر گفتگو کی۔
س۔ سب سے پہلے یہ بتائیے کہ آپ نے اب تک کون کونسے اہم کام کئے ہیں؟
ج۔میں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کواسکے نصب العین کے مطابق فعال بنایا ہے۔یہ جن اقلیتوں کا تحفظ کرتا ہے اسکو لٹیروں سے بچارہاہوں۔پاکستان میں 40 لاکھ کے قریب ہندو آباد ہیں ،وہ سب پاکستانی شہری ہیں مگر ان کے مندروں کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے۔ میں آپ کو بتادوں کہ ہندو پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت ہیں،عیسائی ان کے بعد ہیں ،سکھ تیسرے نمبرپر ہیں۔یہی وجہ ہے کہ میں نے ہندوؤں کی بہبود پر توجہ دی ہے۔انہیں بہت زیادہ نظر انداز کیا گیاتھا۔اب انہیں قومی دھارے میں واپس لارہا ہوں ،کچھ طبقے اس بات پر مجھ سے خفا بھی ہیں ۔خیر جس طرح کٹاس راج ان کے شیو مہاراجکے حوالے سے معروف ہے۔میں وہاں بڑا پراجیکٹ کررہا ہوں۔وہاں چار تہذیبیں دفن ہیں۔ہندو اشوکا کے زمانے کا واٹ، ہری سنگھ نلوا کی حویلی اور ایک مسجد بھی ہے۔ وہاں میں سوا پانچ کروڑ روپے سے یاتریوں کیلئے ایک رہائشی کمپلیکس بنوا رہا ہوں۔ اس کی ڈیڑھ کروڑ روپے سے لینڈ سکیپننگ ، چیئر لفٹ ، ایک چھوٹا سا چڑیا گھر اور ریستوران بنوا رہا ہوں۔ ہماری کاٹیج انڈسٹری سیاحوں میں بے حد مقبول ہے۔ان کی شاپس اور ٹوائلٹس بنوا رہا ہوں۔ یہ جگہ موٹر وے سے لنک ہے۔ موٹر وے کے ساتھ ہی کلرکہار ہے جو اس سے 26 کلومیٹر کے فاصلے پر تحصیل چوہاسیدن شاہ میں واقع ہے۔اس جگہ اشوکا کے زمانے کا اسٹوپا بھی ہے جسکی دوبارہ زیبائش و آرائش کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کیلئے محکمہ آثار قدیمہ کو بھی شامل کیاہے۔ یہ کمپلیکس اگلے چار مہینوں میں مکمل ہو جائے گا۔ پھر اس کا افتتاح کرائیں گے۔
س۔ کیا ہندو کمیونٹی کوئی فیڈبیک دیتی یا فنڈنگ کر تی ہے؟
ج۔ نہیں، البتہ ہندو اس کام پر بہت زیادہ خوش ہیں۔ میں نے انڈین ہائی کمشنر کو بلوایا تھا۔ ایک تقریب کروا کر اس کا افتتاح سپیکر ایاز صادق سے کروایا تھا۔ اس کے علاوہ سکھرمیں ہندوؤں کا سادھو بیلا نامی مندر جو سائز کے اعتبار سے سب سے بڑا مندر ہے، اس کی دس لاکھ سالانہ گرانٹ بڑھا کر بیس لاکھ کر دی ہے۔ انہیں فائبر گلاس کی کشتی کیلئے دس لاکھ فنڈز دئیے۔انہوں نے کہا کہ پندرہ بیس لاکھ میں بنے گی تو میں نے کہا کہ وہ بھی دیں گے۔ ان کی اور بھی ضرورتیں پوری کر رہا ہوں۔ پھر ان کی ایک اور تیرتھ یاترا بلوچستان میں میں ہے جو کراچی سے لسبیلہ روڈ پر 270 کلومیٹر اندر ہنگول نیشنل پارک کے اندر واقع ہے۔اسے ہنگ لاج ماتا جی مندر اور ہنگ لاج ماتا تیرتھ بھی کہتے ہیں۔ میں متروکہ وقف بورڈ کا پہلا چیئرمین ہوں جو پچھلے سال دسمبر اور اس سال چھ اپریل کو وہاں گیا۔ چھ اپریل کو میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا کہ وہاں پانچ لاکھ ہندو یاتری آئے۔ پاکستان میں ہونیوالے اس تیرتھ میں زیادہ ترہندو سندھ اور صادق آباد سے آئے۔ اس جگہ بے شمار مسائل اور ضروریات ہیں۔میں بلوچستان کے وزیر اعلٰی سے بات کروں گا۔ تاکہ وہاں پانی مہیا کیا جا سکے۔ پینے کاپانی بہت دور دراز ہے۔ سیکورٹی کے اور کچھ دیگر مسائل ہیں۔اس دوران میں نے کرشنا مندر لاہوراورراولپنڈی کی بحالی کرادی ہے ،ان کی تعمیرو مرمت بھی ہے۔
س۔ جین مندر ابھی تک آپ نے بحال کیوں نہیں کروایا؟
ج۔ میں نے ابھی تک جین مندر دیکھا ہی نہیں ہے۔ جین ایک مختصر کمیونٹی ہے۔ بہت مشہور ہے میں اسے دیکھوں گا۔لیکن یہ دیکھیں کہ میں آرام سے نہیں بیٹھا،کام کررہاہوں۔ اب میں نے کام کرنا شروع کیا ہے۔سر گنگا رام کی سما دھی کی آرائش و زیبائش کی ہے۔ وہاں ایک ڈسپنسری بنا رہا ہوں۔جانکی دیوی ہسپتال بھی ہمارے زیر کنٹرول ہے۔ وہاں پولیس نے زبردستی قبضے کی کوشش کی تھی، ہم لاہور ہائیکورٹ میں چلے گئے اور حکم امتناعی حاصل کر رکھا ہے۔ جانکی دیوی ہسپتال ایکسٹینشن کی ہم نے منظوری دی ہے۔ ایک پارٹی آئی ہے جو اس کا نقصان خود لینا چاہتی ہے۔ ایک سال کے بعد منافع دینا شروع کر دے گی۔ ایکسٹینشن اور ہسپتال بھی دونوں اس میں شامل ہیں۔ وقف بورڈ سے اصولی منظوری لے لی ہے۔ پھر بریڈلے ہال کیلئے پچاس لاکھ روپے رکھے ہیں۔ اس کی تعمیر نو کریں گے۔ دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کو کمپیوٹرائز کرنے کیلئے ایک کروڑ روپے رکھا ہے لیکن وہاں کچھ ٹیکنیکل مسائل ہیں۔ پھر جس مندر کو 92ء کو بابری مسجد کے ری ایکشن میں بہت زیادہ نقصان پہنچا۔ وہ پراہلد پوری مندرPrahladpuri ہے جو تیرتھ بھی ہے۔ وہاں سے ان کی ہولی کی رسم چلی تھی اور وہ مزار حضرت بہاؤ الدین زکریا سے منسلک ہے۔ تاریخی اعتبار سے کہوں تو وہ دو ہزار سال پرانا مندر ہے۔ حضرت بہاؤ الدین زکریا نے اس کے باہر بیٹھ کر تبلیغ شروع کی۔ بعد میں ان کا مزار وہاں بنا۔ میں اسے بحال کرنے جا رہا ہوں۔ اس کیلئے پچاس لاکھ روپے رکھے ہیں۔ اس کیلئے ایک کمیٹی بنائی ہے۔ کمیٹی میں چاروں اقلیتوں کے نمائندے ہیں۔
س۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہندو اپنی ہولی میں مجھ پر بھی رنگ پھینکیں، آپ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج۔ اس میں کوئی شرک والی بات نہیں ہے۔ ایک خوشی کے اظہار کے موقع پر وہ ایک دوسرے پر رنگ پھینکتے ہیں۔ ایک ایسے موقع پر جب پاکستان کا امیج دہشت گردی کے مرکز کے طور پر دنیا بھر میں بدنام ہو رہا ہے۔ اس میں حکومتی سطح پر ان کی خوشیوں میں شریک ہو کر ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ان کی خوشیوں میں شریک ہیں لیکن ہم پوجا میں شامل نہیں ہیں۔ ہم ان کے کسی بت کے سامنے جا کر سجدہ نہیں کرتے۔ البتہ اس تہوار میں علامتی شرکت کرتے ہیں۔ جیسے دیوالی بھی ہے۔ وزیراعظم صاحب نے ایک علامتی بات کی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسلام کے نام پر وہ لوگ باتیں اور ترجمانی کی کوشش کرتے ہیں جنہیں خود اسلام کی روح کا پتہ نہیں ہوتا۔ انہیں رسول اللہ کے اسوہ حسنہ کا پتہ نہیں ہوتا اور جس کے بارے میں اللہ نے کہا ہے ،ترجمہ ،تمہارے لئے تقلید کا نمونہ محمد مصطفٰیؐ کی ذات میں ہے۔ حتٰی کہ حضرت ابوبکر نے اتباع کرنی ہے تو حضور پاکؐ کی ذات سے کرنی ہے۔ حضور پاکؐ نے اپنی زندگی میں نجران کے یہودیوں کو مسجد نبویﷺ میں مدعو کیاجب وہ ایک معاہدہ کرنے آئے تھے۔ اللہ کا رسولﷺ اپنی موجودگی میں عیسائیوں کو اپنے طریقے سے مسجد نبویﷺ میں عبادت کی اجازت دے رہا ہے۔ یہاں پاکستان میں ہر مکتبہ فکر کی مسجدیں بنی ہوئی ہیں۔ اللہ کے گھروں کو تقسیم کر دیا گیا ہے۔
س۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا ہے کہ لبرل پاکستان ہونا چاہئے، اس حوالے سے کیا کہیں گے؟
ج۔ اس لبرل ازم کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر سودے بازی کر لی جائے۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ اللہ فرماتے ہیں ہم نے رشدو ہدایت اور گمراہی کو الگ الگ کر دیا ہے ۔جو رشد کی جانب جائے اور جو گمراہی کی جانب جائے فیصلہ اللہ نے کرنا ہے۔ اس لبرل ازم کا مطلب یہ ہے کہ ہم سب قانون کے پابند ہیں۔ رسول اللہؐ نے خطبہ حجتہ اللہ میں فرمایاکہ جان کی حرمت اس کعبہ سے زیادہ ہے جو اللہ کا گھر ہے۔ انسان کی جان کو کعبہ سے زیادہ قیمتی کہاگیاہے۔ یہ لبرل ازم ہے۔
س۔ ابھی آپ ہندوؤں کی ویلفیئر کی بات کرتے ہیں، ہمارے اسکالرز اور عالم مخالفت تو نہیں کر رہے؟
ج۔ کوئی عالم یا سکالر اس کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ حضور پاکؐ نے تو یہاں تک فرمایا کہ تمہارا خون ہمارا خون ہے۔ رسول پاکؐ نے انہیں مواحد قرار دیا۔ مواحد وہ شہری ہے جو اسلامی ریاست کا شہری ہو جس نے اپنی مرضی سے تلوار سے یہ علاقہ فتح نہ کیا ہو۔ 1947ء میں یہ لوگ ہندوستان واپس جا سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے پاکستانی شہریت اختیار کی۔ اب وہ پاکستانی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر مسلمان یا اکثریتی مسلمان کسی مواحد کے ساتھ زیادتی کرے گا تو اللہ کی عدالت میں اس کیخلاف مقدمہ دائر کروں گا۔ اس بات کی سنجیدگی پرکوئی سوچے تو وہ اپنی جان دے دے لیکن مواحد کے حقوق پر زد نہیں آنے دے گا۔
س۔ ان کی مخالفت کون کرتا ہے؟
ج۔ جاہل، جنہوں نے اپنی دکانیں چمکانی ہیں۔ جن کا فرقہ پرستی میں مفاد ہے۔ جو لوگوں کو جھوٹے نعرے لگا کر اپنے پیچھے لگاتے ہیں۔ اپنی ذات کیلئے ،وہ اپنی ذات کا بت بنا کر پوجتے ہیں۔یہ وہ مشرک ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسولﷺ کو مانتے ہیں لیکن اپنے اندرکے بت کو اللہ اور رسولﷺ کی تعلیمات کے مقابلے میں پوجتے ہیں۔
س۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب بابری مسجد شہید کی گئی تو اس کامعمالہ سلجھایا نہ گیا۔لیکن آپ کی باتوں سے تاثر ملتا ہے کہ آپ ہندوؤں کی ویلفیئر اور انکے مندر بنانے میں لگے ہیں ؟
ج۔سوال یہ ہے کہ ہم کوئی مندر بنائیں تو کیا یہ انڈیا کیلئے بناتے ہیں یا بھارت کے ہندوؤں کیلئے بناتے ہیں؟بھائی آپ کیا بات کرتے ہیں۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ ہمارے چالیس لاکھ ہندوشہری بھائی اور بہنیں ادھر ہیں۔ یہی پچھلے 67 سالوں میں مس کنسیپشن ہوئی ہے۔ یہ مواحد ہمارے شہری ہیں۔ یہ ادھر رہ رہے ہیں۔ ہم نے ہندوستان میں ہونیوالے کسی ردعمل کے طور پر ان کیخلاف کچھ نہیں کرنا۔ نہ اسکا کوئی جواز ہے۔
س۔ آپ ہندو یاتریوں کیلئے بہت اچھے کام کر رہے لیکن اس کا ردعمل بھارت سے کیوں نہیں آتا۔ وہ واپس بھارت جا کر ہمارا پیغام کیوں نہیں دیتے اور اپنی حکومت کو کیوں نہیں بتاتے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا جاتا ہے لہذا بھارتی سرکار کو اقلیتوں کا خیال رکھنا چاہئے؟
ج۔ الحمد اللہ اب یہ پیغام جانا شروع ہو گیاہے۔ پچھلے سال 85 یاتری کٹارس راج آئے۔ میں ہر آنیوالے وفد کا خود استقبال اور انہیں الوداع بھی کرتا رہا۔انکے اعزاز میں ایک شاندار تقریب کی تومیں نے تقریب میں دیکھا کہ فرنٹ پر ہمارے تمام لوگ بیٹھے ہیں اور یاتری پچھلی نشستوں پر بیٹھے ہیں۔ میں نے فرنٹ قطار سے انہیں اٹھایا اور یاتریوں کو پہلی نشست پر بیٹھایا۔پھران میں سے ایک بزرگ خاتون کو ساتھ بٹھایا اور ایک بچے کو کہا کہ بیٹا آپ کوئی گیتا پڑھو۔ یاتریوں نے اپنی تقریر میں ہماری مہمان نواز کی تعریف کی۔ میں نے انہیں کہا کہ آپ 85 یاتری نہیں بلکہ 85 کروڑ بھارتیوں کے نمائندے ہیں۔ یہ باتیں جو آپ یہاں کہہ رہے ہیں واپس جا کر بھی کہنا۔ مجھے بھارت میں پاکستانی سفیر عبدالباسط نے بھی کہا کہ اس دفعہ کیا ہو گیا ہے کہ پہلے تو ہندو یاتری مخالفانہ باتیں کرتے تھے۔ اب واپس آ کر تعریفیں کر رہے ہیں۔ میں ہمیشہ اپنی تقریروں میں کہتا ہوں کہ بارڈر کے اُس پار بھی انسان رہتے ہیں۔ ہم یہاں اچھے کام کریں گے۔ ان سے محبت سے پیش آئیں گے اور محبت کا پیغام دیں گے۔ ابھی وزیراعظم میاں نواز شریف ہندوؤں کی دیوالی کی تقریب میں گئے تو ہندوستان کی اکثریت نے محسوس کیا۔ بھارتی میڈیا نے بھی اسے محسوس کیا۔ انہوں نے کالم بھی لکھے کہ بھارت میں ایسا کیوں نہیں ہورہا ہے جیسا پاکستان کا وزیراعظم کر رہا ہے۔
س۔ بھارتی یاتریوں کی حفاظت پنجاب حکومت یا مرکزی حکومت کرتی ہے؟
ج۔ یہ مرکزی حکومت کا سبجیکٹ ہے۔ تاہم ان کی حفاظت مرکز اور صوبے دونوں کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر لاء اینڈ آرڈر صوبے کا معاملہ ہے لیکن وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، پی آئی اے کا نمائندہ، پاکستان ریلوے، کسٹم، آئی بی، پولیس کی سپیشل برانچ، پولیس سی آئی ڈی، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور پولیس کی سیکورٹی میٹنگ بلواتا ہوں اور دو میٹنگ کرتا ہوں۔ بھارتی یاتریوں کے آنے سے پہلے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیتا ہوں۔ ان کو ٹارگٹ دیتا ہوں اور دوسری میٹنگ دس پندرہ دن بعد کرتا ہوں اور ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے کیا کیا۔ اس مرتبہ اداروں کی طرف سے دہشت گردی کے خطرے کی بات ہو رہیتھی۔ ہمارے پاس واک تھرو گیٹ کی کمی تھی۔ میں نے بڑی تعداد میں واک تھرو گیٹ خرید لئیاور ایمرجنسی نافذ کر دی۔ اسی طرح میٹل ڈی ٹیکٹر لے لئے۔ نفری بڑھا دی۔ پولیس کے علاوہ ایلیٹ فورس بلوا لی۔ اس سلسلے میں وزیر اعلٰی پنجاب نے ہماری بہت مدد کی۔ پنجاب پولیس، پنجاب انٹیلی جنس کے ادارے۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سے معاونت لی۔ س۔ جس طرح ہماری مسجدمیں فنڈزدئیے اور مزاروں پر پیسے چڑھائے جاتے ہیں۔ ان کی طرف سے دئیے جانیوالا پیسہ کہاں جاتا ہے،مندورں ،گوردواروں پر بھی ایسا فنڈز اکٹھا ہوتا ہے؟
ج۔ بھارت سے آنیوالے ہندو یاتریوں کے پاس پیسے تو زیادہ نہیں ہوتے۔ البتہ ہمارے سکھ بھائی اپنے گوردواوں میں پیسے دیتے ہیں۔ میرے آنے سے پہلے آمدنی کم تھی۔ اب کہیں ساٹھ اور کہیں سترہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ آمدنی پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی جمع کرتی ہے۔
س۔سنا ہے آپ نے بورڈ آف گورنرز کے اختیارات کی بات کی ہے۔ اختیارات میں کمی کیلئے عدالت میں کیس کیوں داخل کیا گیا تھا، یہ کیا ایشو تھا؟
ج۔ یہ کوئی ایشو نہیں تھا۔ ایک وکیل صاحب جن کو اندر کے ایک آدمی کے کہنے پر میں نے اعتماد کرتے ہوئے لیگل ایڈوائزر کیلئے نامزد کیاتھا۔ ان کے کچھ پیشہ وارانہ معاملات سامنے آئے تو میں نے ان کا نام واپس لے لیا۔ انہوں نے اِدھرُ ادھر افواہیں پھیلانا شروع کر دیں۔ ایک بورڈ آف گورنر متروکہ وقف بورڈ کو چلا رہاہے۔ یہ 1975 ایکٹ کے مطابق کام کر رہا ہے۔ میں نے وزیراعظم کومتروکہ بورڈکی پروپوزل دی تھی۔ اس میں ایک بھی سیاسی ورکر شامل نہیں ہے۔ ہر شعبے کے ماہر ہیں۔ اس میں ایم این ایز، چاروں اقلیتوں کی نمائندگی شامل ہے۔ انجینئرنگ، آڈیٹر، قانون، ای ٹی پی بی پی کے ماہر بھی شامل ہیں۔ عیسائی بھائیوں سے الیگزینڈر جان کو لیا ہے۔ میں بورڈ کی میٹنگ کا ایک ایک سیکنڈ آڈیو اور ویڈیو ریکارڈ کرتا ہوں کہ ہم نے کونسا فیصلہ کیوں کیا۔ اس پر کتنی دیر بحث ہوئی اور اس پر کتنے دلائل آئے۔اسکا مقصد کام کو شفاف رکھنااور اقلیتوں کو ایک پیج پر لانا ہے۔
س۔ یہ فرمائیں کہ 47ء سے لیکر اب تک متروک وقف املاک کے دائرہ کارمیں پراپرٹی کتنیرہی ہے؟
ج۔ متروکہ وقف بورڈ کی تو کوئی بڑی پراپرٹی نہیں ہے۔ یہ ٹرسٹ کی پراپرٹی ہے۔ ہندو اور سکھ تو یہاں سے چلے گئے۔ انہوں نے ٹرسٹ بنائے ہوئے تھے۔ اس کی باسٹھ اقسام ہیں۔ ان میں تعلیمی، صحت کے مراکز اور بعض زمینیں چھوڑ کر گئے تھے۔ وہ ٹرسٹ کی زمینیں ہمارے پاس ہیں۔ ٹرسٹ کی ہمارے پاس ساڑھے چار ہزار عمارتیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈیڑھ ہزار عمارتیں اور بھی ہیں جن پر چند لوگوں خاموشی سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ یہ ہماری جگہ نہیں ہے۔ اسی طرح چالیس پچاس ہزار ایکڑ زمین لوگوں کے پاس قبضہ ہے۔ ہمارے پاس اس وقت پورے پاکستان میں ایک لاکھ پندرہ ہزار ایکڑ زمین ہے۔ اب لوگوں کے پاس خفیہ زمین واگزار کرا رہے ہیں۔ میں نے ننکانہ صاحب سے زمین واگزار کرائی ہے۔ لاہور میں انارکلی سے تین جگہ واگزار کرائی ہے۔ راولپنڈی، سرگودھا اور ایک اور جگہ سے کروائی ہے۔
س۔ ان جگہوں کو واگزار کرانے کے بعد ان کا کیا مصرف ہوتاہے؟
ج۔ ان کو نیلامی کے بعد ڈویلپمنٹ کیلئے دیتے ہیں، ساڑھے سات آٹھ ارب کی زمین واگزار کرا چکا ہوں۔
س۔ یہ زمین اور عمارات کرائے بھی دیتے ہیں؟
ج۔ اب کرائے کے مکان کیلئے بھی بولی ہوتی ہے۔ ماضی میں بہت یہ سارے کام ملی بھگت سے ہوتے تھے۔ اس وقت تین کنال کا مکان سات سو روپے میں نیلام ہوتا تھا۔ میں نے جب سے نیلامی سنبھالی ہے اس کا ریٹ اڑھائی گنا بڑھ گیا ہے۔ پچھلے سال 10 فیصد زمین نیلامی ہوئی تھی۔ اس سال مارچ میں 40 فیصد زمین نیلام ہو گی۔ ہر تین سال بعد نیلامی ہوتی ہے۔ حال ہی ساہیوال میں زمین کی نیلامی کی تھی جو پہلے سات آٹھ ہزار میں نیلامی ہوتی تھی ۔ اس مرتبہ 41 ہزار ایکڑ میں نیلام کی۔
س۔ متروکہ وقف بورڈ کی زمینوں پرقبضہ کرنیوالوں کا کیا علاج کرتے ہیں؟
ج۔ متروکہ وقف بورڈ کی زمینوں پرقبضے میں اکثر اوقات میرے محکمے کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور پولیس کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔زمین جائیداد میں مال پانی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں کرپشن بھی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ماضی میں اس کی طرف کسی نے زیادہ توجہ نہیں دی۔ میں اس پر پوری توجہ دے رہا ہوں۔ میں نے بورڈ سے اجازت لے لی ہے کہ جو بااثر لوگ نیلامی نہیں ہونے دیتے اورہماری زمینوں پر قبضے کئے ہوئے ہیں اور وہاں جانے والوں کو بھگا دیتے ہیں اور خود بھی نیلامی میں حصہ نہیں لیتے ،انکا علاج کیا جائے۔ان میں سے بعض نے دو سو تین سو کنال زمین ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا کر بیچ دی ہیں۔ ہم نے ان کو چھ ہفتے کا نوٹس دیا ہے۔ اس کے بعد جو جواب نہیں دے گا اس کا کیس نیب کو بھجوا دیں گے۔
س۔سابق چیئرمین آصف ہاشمی کیس کا انجام کیا ہو گا؟
ج۔ ان کے بہت سے کیس ہم نے نیب کے سپرد کر دئیے ہیں۔ اب یہ نیب کی آزمائش ہے کہ وہ کرپٹ لوگوں کو جن کے ثبوت ہم نے دے دئیے ہیں ان کیخلاف کیا کارروائی کرتا ہے۔
س۔ آپ کو امید ہے کہ آصف ہاشمی کے ریڈ وارنٹ جاری ہوں گے؟
ج۔ نیب میں فرشتے تو نہیں ہیں، میں نے انہیں جو ثبوت دئیے ہیں ہم اس کا نتیجہ دیکھیں گے۔ مثال کے طور پر ایک شخص نے میرے خلاف درخواست نیب کودی۔ نیب نے درخواست پر نوٹس بھجوا دیا کہ آپ اپنی دو فرموں کے کوائف بھجوائیں۔ آصف ہاشمی کے پانچ سال سے نوٹس جاتے رہے لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ یہ کارکردگی ہے۔
س۔ سندھ میں نیب ڈاکٹر عاصم اور دیگر لوگوں کیخلاف کارروائی رہا ہے مگر آپ یہاں ثبوت بھی دے رہے ہیں ان پر کارروائی نہیں ہو رہی،حیرت ہے؟
ج۔ کارروائی تو ہو رہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نیب کا امتحان ہے اس کیس کے بارے میں اسمبلی میں بھی رپورٹ ہو چکیہے ۔ان کے ہم بھی ثبوت دے چکے ہیں۔
س۔ اپنے معصوم ملازموں کے خلاف اسلحہ کیوں نکال لیتے ہیں آپ؟
ج۔ میرے نزدیک سب سے بڑا جرم بے گناہ انسان کی جان لینا ہے۔ کسی نے جان بوجھ کر مسلمان کو قتل کیا اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جہنم کا عذاب ہے۔میں اسلحہ تاننے پر کیوں مجبور ہوا،سن لیجئے۔ یہ آصف ہاشمی دورکے ناجائز بھرتی ملازمین تھے۔ ان پر ہم ہائیکورٹ کے حکم س
ے کارروائی کر رہے تھے۔ مجھ پر ڈیڑھ دو سو آدمی پل پڑے۔ دو دروازوں کی انہوں نے کنڈیاں توڑ دیں اور ہمارے گارڈز میں بھی ہمت نہیں تھی۔ دو پولیس والے بھی کھڑے کچھ نہیں کر رہے تھے۔ اس وقت عدالت بھی تھی۔ میں اٹھا۔ میرے پاس لائسنس یافتہ پستول تھا جو جان کے تحفظ کیلئے میرے پاس ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ یہ اندر آئیں۔ میں نے گارڈ کو کہا کہ دروازہ کھول دو۔ میں نے پستول تانی نہیں تھی۔البتہ ہاتھ میں تھام رکھی تھی۔وہ اندر آئے اور پستول دیکھ کر رک گئے۔ انہوں نے کہا کہ سر ہم تو مذاکرات کرنے کیلئے آئے ہیں۔ میں نے ان میں سے تین آدمیوں کو اندر آنے کیلئے کہا اور پھر پولیس کو بلا لیا اور انہیں گرفتار کروا دیا۔ یہ ساری پستول کی کہانی ہے۔
س۔ کینیڈا اور بھارت سے بھی یاتریوں کیلئے کوئی فنڈز آتے ہیں؟
ج۔ جو بھی فنڈز آتے ہیں وہ گولک میں ڈالتے ہیں۔ وہ پاکستان گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے پاس چلا جاتا ہے۔ ان کے جوائنٹ اکاؤنٹ ہیں۔ ان پر میں اور ان کے پربندھ دستخط کرتے ہیں۔ یہ فنڈز انہی پر خرچ ہوتے ہیں لیکن ادھر ادھر سے وہ لوگ بہت کہتے ہیں کہ ہم خرچ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اب میں ننکانہ صاحب کی ایل ڈی اے کے ساتھ مل کر ٹاؤن پلاننگ کر رہا ہوں۔ وہ ٹاؤن پلاننگ ہو جائیگی۔ وہیں گورونانک بین الاقوامی یونیورسٹی بنے گی۔ کالجز بنیں گے اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن جو سٹیک ہولڈر بھی ہیں، سب کو وہاں پلاٹس دینے کے بجائے ہم فلیٹ بنائیں گے۔ میں وہاں سو سال کی منصوبہ بندی کرنا چاہتا ہوں۔
س۔ یہ جو زلزلے آئے ہیں، ان کی وجہ سے متروکہ وقف بورڈ کی پرانی عمارتوں کی کیا حالت ہوئی ہے؟
ج۔ بعض جگہوں پر دراڑیں آئی ہیں۔ حسن ابدال میں ایک شکستہ حال عمارت ہے۔ وہاں لوگ مرنے کیلئے تیار ہیں مگر اسے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہے۔وہ وہاں سے نہیں نکلتے ہم انہیں نکال رہے ہیں۔
س۔ آپ نے کہا تھاکہ شیخ رشید نے لال حویلی پر قبضہ کیا ہوا ہے؟
ج۔ میں نے کبھی نہیں کہا کہ شیخ رشید نے لال حویلی پرقبضہ کیا ہے۔ لال حویلی جیسے بھی ہے، اس کی ہے۔ انہوں نے کلیم کے تحت یہ زمین حاصل کی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ملحقہ پانچ مرلے کا ہال ہے۔ چھ کمرے اس سے ملحقہ پیچھے پانچ مرلہ رقبہ میں ہیں۔ یہ مجموعی طور پر دس مرلے زمین ہے۔ جو بوہڑ بازارمیں واقع ہے۔ یہ کروڑوں روپے کی پراپرٹی ہے ۔جو ہمارے کرایہ دار تھے انہوں نے انہیں توجیسے تیسے بھگا دیاگیاتھا۔ اب وہاں رہنے والے پندرہ سولہ سال کرایہ بھی نہیں دیتے اور وہ ناجائز قابض ہیں۔ جب میں نے یہ معاملہ اٹھایا تو شیخ رشیدخود اور اپنے بھائی کی درخواستیں لیکر راولپنڈی کے ایڈمنسٹریٹر کی عدالت میں چلے گئے۔ پہلے وہ انتقامی سیاست کہتے تھے۔ میں عرض کروں جو جھوٹ بولنے کو سیاست سمجھتے ہیں۔ وہ ابلیسی سیاست کرتے ہیں۔ سیاست تو انبیا کی میراث اور شیوہ ہے۔ حضرت داؤد، حضرت یوسف، سلیمان، موسیٰ اور حضرت محمد مصطفٰیؐ یہ سب اپنے وقت کے حکمران تھے۔ انہوں نے اپنی قوموں کی بہبود کیلئے کام کیا۔ خلفائے راشد کی جو سیاست ہے۔ وہ سب کیلئے ہے۔ آج یہاں جو سیاست ہوتی ہے۔ مغرب میں تو وہ سیاست نہیں ہے۔
س۔ آپ خود اتنا کام کر رہے ہیں، مگر میں نے اپنی کی پارٹی کے دیگر احباب کو بھی دیکھا، وہ پارٹی کو وقت نہیں دے رہے؟
ج۔ میں خود پارٹی کو بالکل ٹائم نہیں دے رہا۔ میں اسائنمنٹ کا آدمی ہوں۔ میں دوسری طرف نہیں دیکھتا ۔ یہ زمین اور جائیداد، ہسپتال اور کالجز کاکام بہت زیادہ ہے۔
س۔ آپ میں یہ بیباکی کس کی دین ہے، کس کی تربیت کا اثر ہے؟
ج۔ یہ میرے دادا، میرے والد کی تربیت، صحابہ کی سیرت، خلفائے راشد کی سیرت۔ رسول اللہؐ کی سیرت۔ میں محمد صلی اللہ علیہ واسلم کے بعد صدیق اکبر اور عمر فاروق کو باعث تقلید سمجھتا ہوں لہذا جب میں اپنے آپ کو اللہ کا بندہ کہہ دیا تو پھر ڈرنا کیا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *