بساط بادشاہ کو مات دینے سے پلٹے گی

imad

لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عذیر بلوچ کو بالآخر گرفتار کر لیا گیا. عذیر بلوچ کئی برس سے کراچی میں خوف اور دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا. لیاری سے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ کر نام کمانے والا یہ پہلا شخص نہیں ہے.  لیاری کا علاقہ قیام پاکستان سے قبل بھی جرائم اور مافیا کے مختلف  سرغنوں کے زیر تسلط رہا ہے .پاکستان کے قیام کے بعد لیاری میں جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی میں سیاستدان اور فوجی آمر بھی پیش پیش رہے. پیپلز پارٹی کا سیاسی  گڑھ سمجھے جانا والا لیاری کا علاقہ جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ پیداکرتا ہی چلا آیا ہے اور عذیر بلوچ کی گرفتاری پر پیپلز پارٹی کی بے چینی واضح اشارہ دیتی ہے کہ عذیر بلوچ کے انکشافات بہت سے پردہ نشینوں کو بے پردہ کرنے والے ہیں. سال 2009 میں لیاری کے انڈر ورلڈ کا ڈان بننے اور ارشد پپو کو قتل کرنے کے بعد عزیر بلوچ نے تن تنہا انڈر ورلڈ پر راج کیا.قتل اغوا برائے تاوان ڈکیتی بھتہ خوری چاینا کٹنگ غرض ہر قسم کے جرم میں یہ شخص ملوث تھا.پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں عذیر بلوچ پیپلز امن کمیٹی کا سربراہ بھی رہا اور محض لیاری کے علاقے میں نہیں بلکہ شہر قائد میں جہاں جہاں اس کا ہاتھ پڑتا تھا اس نے   پیپلز پارٹی کو سیاسی فوائد دیئے. متحدہ قومی مومنٹ کو لیاری میں زور نہ پکڑنے دینا اور شہر قائد پر قبضہ کی جنگ میں عذیر بلوچ پیپلز پارٹی کا اہم ترین پیادہ تھا. عذیر بلوچ کی گرفتاری گو اب ظاہر کر کے اسے عدالت میں پیش کر کے رینجرزکی تحویل میں تو دے دیا گیا ہے لیکن یہ کہانی اتنی سادہ نہیں ہے. عذیر بلوچ تو سال 2014  سے ہی دبئی میں جعلی دستاویزات پر سفر کرتے ہوئے گرفتار ہو گیا تھا. اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ٹیم بھی اس کو  کو واپس وطن  لانے کیلیے بھیجی تھی. دبئی کے حکام سے کونسی اہم سیاسی شخصیت اور جماعت کے تعلقات مستحکم ہیں غالبا یہ بتانے کی ہرچند ضرورت نہیں کیونکہ سندھ گورنمٹ کو ابھی بھی دبئی سے ہی چلایا جاتا ہے. عذیر بلوچ کی گرفتاری اسی صورت میں ممکن تھی کہ اگر مقتدر قوتیں اس کی پشت پر موجود اس شطرنج کے بادشاہ کو کسی بھی قسم کی گزند نہ پہنچانے کی گارنٹی دیں.اور یہ گارنٹی بھی دبئی میں بین الاقوامی سطح پر دے دی گئی. بہت سے خوش فہم حضرات جو عذیر بلوچ کی گرفتاری کے بعداس کے  متوقع انکشافات کی صورت میں اس سیاسی شطرنج کے بادشاہ اور ان کے قریبی ساتھیوں کو بھی قانون کی گرفت میں آتا دیکھنے  کی امیدیں لگائیں بیٹھے ہیں وہ شاید بہت جلد صولت مرزا کے قصے کو بھول گئے. صولت مرزا کو میڈیا ٹرائل آور متحدہ قومی مومنٹ کو سیاسی سطح پر نقصان پہنچانے کی غرض سے استعمال کرنے  کے  بعد پھینک دیا گیا تھا اور یہی کہانی عذیر بلوچ کی بھی ہے.  عذیر بلوچ کے اب تک رینجرز کی تحویل میں کیئے گئے انکشافات میں سے کوئی بھی انکشاف نیا نہیں ہے. بینظیر بھٹو کے سیکیورٹی انچارج خالد شہنشاہ کو کس کے کہنے پر قتل کیا گیا  ہر باخبر شخص اس سے واقف ہے. زمینوں پر قبضے سے لے کر  جوئے خانوں سے ہونے والی کمائی کس شخصیت تک پہنچتی تھی سب اس امر سے واقف ہیں. یہ فرمائشی گرفتاری کیوں کر عمل میں آئی اس کا اندازہ لگانا ہر چند مشکل نہیں ہے. اس طاقت  کے کھیل میں عذیر بلوچ جیسے پیادے اکثر بادشاہ کی حفاظت پر قربان کر دیئے جاتے ہیں.ایک عام فہم بات ہے کہ سیاسی پشت پناہی کے بغیر ایسے لوگ جرائم کی دنیا کے بادشاہ نہیں بن سکتے. عذیر بلوچ جیسے پیادے تو ہر آن اس بساط کیلئے تیار  کر لیئے جاتے ہیں اور وقت آنے پر قربان بھی کر دیئے جاتے ہیں لیکن ان کو استعمال کرنے والے  ہاتھ  سیاسی لبادہ اور جمہوریت کا کمبل اوڑھ کر محفوظ رہتے ہیں. قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا فرض مستعدی سے انجام تو دیتے ہیں لیکن پس پردہ معاہدوں اور بیرونی گارنٹیوں کی وجہ سے مرکزی مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈال پاتے. عذیر بلوچ کی گرفتاری کچھ عرصہ کیلئے ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز کی ریٹنگ اور اخبارات کی شہ سرخیوں میں اضافے کا باعث تو بنے گی لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں. یہ  جرائم کا نیٹ ورک کسی ایک پیادے کے جانے سے نہ تو ٹوٹتا ہے اور نہ ہی کمزور ہوتا ہے. اس کو توڑنے کیلئے اس سوچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو عذیر بلوچ جیسے ہزارہا لوگ پیدا کرتی ہے. محرومی اور غربت یہ دو ایسے مجرم ہیں جو جرائم کی شطرنج پر پیادے پیدا کیئے ہی جاتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ سیاسی اشرافیہ غربت کی روک تھام میں سنجیدہ نہیں نظر آتی.اس اشرافیہ کو ایسا معاشرہ مفادات کے حصول کے لیئے انتہائی موزوں رہتا ہے جہاں زیادہ تر آبادی انصاف اور زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم کسی  بھی طاقتور کے ہاتھوں پیادہ بننے پر مجبور ہو جائے. بدقسمتی سے ہمارے ہاں کریمنل سائیکلولوجی پر بہت کم  کام کیا گیا ہے. نفسیات کا یہ شعبہ اس امر پر تحقیق کرتا ہے کہ آخر کو معاشرے میں جرائم کی وجہ کیا ہے. عذیر بلوچ جیسے لوگ مجرم کیوں بنتے ہیں اور اس سلسلے کو کیونکر ختم کیا جا سکتا ہے. ان عوامل کو ختم کیئے بنا کبھی بھی   مجرموں کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا. ایک اور سوچ جو بحیثیت مجموعی ہم سب  نے اختیار کر رکھی ہے وہ طاقت کو سلام اور تعلقات بنا کر اپنے اپنے کام نکلوانے کی ہے. پاکستان کے مشہور اداکاروں سے لے لر کھلاڑیوں تک اور دانشوروں سے لیکر مذہبی رہنماوں تک تمام افراد کی عذیر بلوچ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کی تصاویر موجود ہیں جو کہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ جرم اور جرائم پیشہ افراد سے تعلق بنا کر ہم خود کو زیادہ طاقتور اور اثر و رسوخ والا فرد سمجھتے ہیں. برٹرینڈ رسل نے اپنی مشہور زمانہ کتاب طاقت ایک سماجی تجزیہ (power the social analysis) میں اس کیفیت اور سوچ کو یوں بیان کیا تھا کہ انسان کی زندگی کا بنیادی محرک طاقت کا حصول ہوتا ہے ہر انسان اپنی بساط اور استطاعت کے مطابق طاقت کے حصول کیلئے کوشش کرتا ہے طاقت کی مختلف اشکال ہوتی ہیں. اور زیادہ تر لوگ طاقتور افراد کے قریب رہ کر اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے ہیں.یعنی ایک طرح سے ہم جب کسی طاقتور شخصیت کے قریب رہ کر خوش ہوتے ہیں تو ہم اپنے عدم تحفظ کے احساس کو مٹا رہے ہوتے ہیں.اس منطق کے مطابق بطور معاشرہ ہم ابھی تک بے انتہا عدم تحفظ  رکھنے والی سوچ کے حامل دکھائی دیتے ہیں. خیر یہ ایک طویل بحث ہے کہ ہم کیوں اس طرح کے افراد سے مرعوب ہوتے ہیں یا میل جول رکھنا پسند رکھتے ہیں.عذیر بلوچ اور صولت مرزا جیسے کردار  اس استحصالی اور منافقانہ نظام کے بدنما وجود کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں جو اس نظام کے بدنما چہروں کو نقاب کے پیچھے  چھپائے رکھنے کے کام آتے ہیں.یہ کردار اس وقت تک پیدا ہوتے رہیں گے جب تک کہ ان کو استعمال کرنے والے ہاتھوں کے گریبانوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا. بڑے بڑے صنعت کار سیاستدان اور پراپرٹی کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد جو کہ عذیر بلوچ جیسے مجرموں کی پشت پناہی کرتے ہیں نا صرف ان سے زیادہ خطرناک اور شاطر ہوتے ہیں بلکہ معاشرے کیلئے ناسور بھی ثابت ہوتے ہیں.شطرنج کے کھیل میں جیت مہرے مات کرنے سے نہیں بلکہ بادشاہ کو مات کرنے سے ملتی ہے.اور طاقت کی اس شطرنج میں بھی فتح بادشاہ کو مات کر کے ہی نصیب ہو گی نا کہ عذیر بلوچ جیسے مہروں کو.

بساط بادشاہ کو مات دینے سے پلٹے گی” پر ایک تبصرہ

  • فروری 6, 2016 at 11:15 AM
    Permalink

    " پیپلز پارٹی کا سیاسی گڑھ سمجھے جانا والا لیاری کا علاقہ جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ پیداکرتا ہی چلا آیا ہے"

    ماشاللہ !! اگر یہ سچ ہوتا تو کراچی ٨٠ کی دہائی کے بعد بھتہ ،سٹریٹ کرائم اور ٹارگٹ کلرز کی جنت نہ بنتا بلکہ ١٩٦٧ سے ھی یہ کام شرو ع ہوجاتا لیاری نہیں عزیز آ باد نے جرایم کی دنیا کے بےتاج اور تاج والے بادشاہ پیدا کیۓ جن سے آپ صرف نظر فرما رہے ، نہ جانے کیوں ؟؟
    کہاں ایک عزیر بلوچ اور کہاں جاوید لنگڑا سے ریحان کانا اور منصور چاچا سے کامران مادھوری اور فہیم کمانڈو سے صولت مرزا اور ندیم کمانڈو سے فیصل موٹا ؟
    مزید کی لسٹ چاہیے تو گوگل کر لیں اور یہ بھی دیکھ لیں کہ لیاری "گینگ " کو امریکہ ، کینڈا نے "دہشتگرد تنظیمیں " بتایا ہے یا کسی اور جماعت کو جسے آپ آج پردے کے پیچھے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *