پاکستان میں کسی مسیحا کا انتظار

Ahmed Rashid (b. 1948 in Rawalpindi) durاحمد رشید

جس دوران پاکستان کے عوام، غیر ملکی سفارت کار اور عالمی رہنما دم سادھے وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف سے توقع کررہے تھے کہ وہ کئی ماہ کے تذبذب اور ہچکچاہٹ کے بعد بالاخرپاکستان طالبان کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے جارہے ہیں، تو اُنھوں نے سب کو یہ کہہ کر سکتے میں ڈال دیا کہ وہ پرامن مذاکرات کو ایک موقع دینا چاہتے ہیں۔ انتیس جنوری کو پارلیمنٹ میں خطاب سے چند گھنٹے پہلے طالبان نے بڑے فخرسے اعلان کیا تھا کہ اُنھوں نے ہی وہ دھماکہ کیا جس میں کراچی میں رینجرز کے تین اہل کار ہلاک اور کئی ایک زخمی ہوگئے تھے ۔ جنوری کے آغاز میں طالبان کی طرف سے سڑک پر نصب شدہ بم پھٹنے سے کراچی کے ایک اہم ترین پولیس افسر، چوہدری اسلم، شہید ہوگئے تھے۔ اس وقت دوکروڑ کی آبادی کے اس اہم ترین شہر کا عملی طور پر کنٹرول طالبان ، جن کا ہیڈکوارٹر پندرہ سومیل دور شمال میں ہے، کے ہاتھ ہے۔ گزشتہ چند ماہ ، جس دوران حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے گڑگڑا رہی ہے، فوج پر بھی حملوں میں شدت آگئی ۔ بیس ستمبر کو ایک خود کش حملہ آور، جو کچرا اکٹھا کرنے والے کے بھیس میں تھا، نے راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹر ، جو انتہائی محفوظ جگہ سمجھی جاتی تھی، کو نشانہ بنایا ۔ اس حملے میں سات فوجی ہلاک اورچونتیس زخمی ہوئے جبکہ پانچ شہری ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ اس سے ایک دن پہلے بنوں چھاؤنی پر حملے میں چوبیس فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
اسی طرح ملک بھر میں مختلف مقامات پر ایک سنی انتہا پسند گروہ، لشکرِ جھنگوی، جس کے طالبان سے قریبی تعلقات ہیں، فرقہ وارنہ بنیادوں پر سینکڑوں اہلِ تشیع کو ہلاک کرچکا ہے۔ گزشتہ ماہ کوئٹہ کے نزدیک شیعہ زائرین کے قافلے پر خود کش حملہ کیا گیا۔اس حملے میں بائیس افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح اقلیتوں، جیسا کہ عیسائیوں، کو بھی نشانہ بنایا جانا ایک معمول کی بات ہے۔ اس وقت پاکستان میں نہ صرف شمال، جہاں طالبان کا کنٹرول ہے، بلکہ تمام ملک میں تشدد کے غیر معمولی واقعات پیش آنا ایک معمول بن چکا ہے۔ہیومین رائٹس واچ اپنی سالانہ رپور ٹ میں لکھتا ہے...’’ پاکستان بھر میں انتہا پسند گروہ انتہائی دیدہ دلیری سے قتل و غارت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے یاتو ان سے اغماض برتتے ہیں یا ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی کاروائیوں سے باز آجائیں۔‘‘اس رپورٹ کے مطابق طالبان کے حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ریاست کوئی ردِ عمل کا اظہار نہیں کررہی۔
طالبان نے اب تک پولیو کے قطرے پلانے والے بیس کے قریب رضاکاروں، جن میں زیادہ تر خواتین تھیں، کو ہلاک کردیاہے جبکہ مسٹر بل گیٹس، جن کی تنظیم پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانے کے لیے فنڈزمہیا کرتی تھی، کاکہنا ہے کہ وہ اپنے پروگرام کو معطل کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے بائیس جنوری کونیویارک میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا...’’پاکستان میں جاری تشدد شیطانیت کی انتہا ہے‘‘اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک سات ماہ کے دوران نواز شریف نے طالبان کو بات چیت کرنے کی تین مرتبہ پیش کش کی لیکن ہر مرتبہ اُنھوں نے بہت حقارت سے اسے ٹھکرادیا۔ تاہم بہت سے افراد سوچتے ہیں کہ اس مرتبہ معاملہ مختلف ہوگا۔ اس وقت کم و بیش روزانہ کی بنیاد پر فوج کی اعلیٰ قیادت وزیرِ اعظم کو باور کراتی ہے کہ ان انتہا پسندوں کا صفایا کرنے کے لیے حتمی فیصلہ کرنے کا وقت آچکا ہے لیکن حکومت کے خیال میں پہلی ترجیح فوجی کاروائی کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرنا ہے۔ اخباری رپورٹس کے مطابق ان کی حکمران جماعت، پی ایم ایل (ن) کے بہت سے ارکان فوجی کاروائی کے حق میں ہیں لیکن کچھ سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس کی مخالف ہیں۔
اس دوران، جب فوجی کاروائی کا ماحول گرم ہورہا تھا، تیرہ ہزار کے قریب قبابلی افراد اپنے خاندانوں سمیت شمالی وزیرستان سے ہجرت کرتے ہوئے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرچکے ہیں۔ اس مرتبہ لوگ کیوں سوچتے ہیں کہ معاملہ مختلف ہوگا؟ درحقیقت مسٹر شریف نے حسبِ معمول طالبان کو بات چیت کی پیش کش کی ۔ اس مقصد کے لیے اُنھوں نے چار رکنی کمیٹی، جس میں دو معروف صحافی شامل ہیں، قائم کرتے ہوئے طالبان تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس دوران، جب کہ یہ کوشش جاری ہے، ہمیں یہ علم نہیں کہ حکومت کس حد کو سرخ لکیر سمجھتی ہے اور طالبان کو اسے عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک اور ابہام سیز فائز کے حوالے سے ہے کہ کیا طالبان اس کی پابندی کرتے دکھائی دیں گے؟اب تک کا تجربہ بتاتا ہے کہ طالبان نے کبھی اپنے مقصد... پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کو تباہ کرکے اپنی تشریح کردہ شریعت نافذکرنا... سے انحراف کا عندیہ نہیں دیا۔ ابھی حال ہی میں ان کے ترجمان کا بیان میذیا میں شائع ہوا کہ شریعت کے نفاذ پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی؟تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذاکرات کس موضوع سے شروع کیے جائیں گے؟کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ کیا مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا ہے؟
اگر حکومت ان انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے بہت سی معروضات کو مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان طاقتور فوج رکھتا ہے لیکن فوج چاہتی ہے کہ سیاسی حکومت اپریشن کی ذمہ داری اٹھائے۔ اس کے علاوہ اپریشن شروع ہونے کے بعد طالبان کی طرف سے خودکش حملوں میں شدت آجائے گی۔ چناچہ مسٹر شریف کو عوام کو جنگی بنیادوں پر متحرک کرنا ہے تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے لیے تیار رہیں۔اس کے علاوہ اپریشن کی صورت میں بے گھر ہونے والے افراد کی رہائش کا انتظام بھی کرنا ہوگا۔ حکومت کو اس بات کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ اگر وہ مذاکرات کی پیش کش کرتی رہے جبکہ طالبان اپنی کاروائیوں سے باز نہ آئیں تو اس سے ریاست کی کمزری کا اظہار ہوگا ۔ اس سے پہلے مسٹر بلاول وزیرِ اعظم کو کہہ چکے ہیں کہ وہ چرچل ، نہ کہ چمبرلین، بن کر میدان میں آئیں تو پوری قوم ان کے ساتھ ہوگی۔ اگر اس وقت پاکستان کی قیادت کمزوری دکھاتی ہے تو اسے دفاعی طور پر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *