پاکستان کا یرقان زدہ نیوز میڈیا (آخری حصہ)

(آئینہ سیدہ کے قلم سے)

paki

اسی دوران  1999 میں  انڈین ائیر لائین کی ایک فلائیٹ  ہائی جیک کی گئی  اور اسکے  پاکستان میں لینڈنگ کے وا قعہ  کو بھا  رتی نیوز چینلز نےبڑی شد و مد سے  اپنے مفاد میں کیش کیا ادھر ہمارے  ہاں پاکستانی سٹیٹ چنیل  کے " ریاست نامے " کو کوئی پاکستانی بھی سننے کو تیار نہ تھا لہذا" میرے عزیز ہم وطنوں " کی صد ا  لگانے والے جتھے کو خیال آیا کہ اب ہمیں بھی پروپیگنڈا مشینوں کی سخت ضرورت ہے اس کے لیے ٢٠٠٢ سے ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت پرا ئیوٹ نیوز ، تفریحی اور موسیقی کے چینلز کو لائسنس دیۓ گئے انکے لیے ایک  ریگو لیٹری  باڈی بھی بنائی گئی مگر وہ صرف "نام " کی ریگولیٹری باڈی تھی اسکے اصولوں ،قواعد  پر عمل نہ ہونے کے برابر تھا اسی ہلے میں ایف  ایم ریڈیو چینلز بھی شر و ع کیۓ گئےجن میں ١٠ فیصد غیر ملکی مواد  کا اصول لاگو ہونا تھا مگر حقیقت یہ رہی کہ 100 فیصد بھارتی گانے نشر کیۓ جاتے اور جب تک لوکل گلوکاروں کے البم آنا بند نہیں ہوگئے اور نیے گانے والے مایوس نہیں ہوگئے ان چینلز کو چلانے والوں نے اپنے  ایجنڈے  سے ہاتھ نہ اٹھا یا . یہی حال تفریحی چینلز کا رہا جہاں پیٹ بھر کر بھارتی ڈرامے ، فلمیں اور گانے دیکھاے جاتے جس سے پاکستان کی ڈرامہ ،فلم اور سانگ ویڈیوز کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی لیکن جن چینلز نے پاکستانیوں کو "ادھ مرا " کر دیا ہے اور انہیں  مایوسی کی دھند میں بھٹکتا چھوڑ دیا ہے وہ ہیں " پاکستانی نیوز چینلز-دنیا جہاں میں نیوز چینلز خبریں اور معلومات  فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں پر پاکستان کے نجی نیوز چینلز "خبریں سناتے نہیں خود بناتے ہیں "! اور پھر اپنی اس پیلی یرقان زدہ پیداوار کو بیچنے کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کرتے ہیں  جو دنیا کے بازاروں میں ناپسندیدہ سمجھا جائے . ہر رات اینکرز اپنی دکان سجاتے ہیں اور جس طرح پیلے کالم کار اپنے کالموں میں جھوٹے الزام اور جمہوریت کا مذاق اڑانا اپنا فرض اولین سمجھتے تھے اسی طرح ایک دو سچے اور کھرے صحافیوں کو چھوڑ کر یہ تمام  یرقان زدہ خواتین و حضرا ت تین یا چار مختلف سیاسی پارٹیوں  کے نمایندوں کو مدعو کرتے ہیں اور اپنی آگ لگاتی زبان سے کوئی ایسا نکتہ چھوڑ دیتے ہیں کہ ان مہمانوں میں گھمسان کا رن پڑ جائے  اس دوران  بڑی  بے شرمی سے ان مرغوں کو ایک دوسرے پر وار کرتے دیکھتے ہیں یعنی معاملہ سوال کا جواب حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے شو کو کتے اور ریچھ کا اکھاڑہ بنا کر داد وصول کرنا ہے یا پھر کبھی کبھار کسی اکیلے مہمان کو دعوت دیتے ہیں اور اسکا پیمانہ یہ ہے کہ وہ خوب  جھوٹ بولنے  والا اور الزام لگانے  والا  ہو  تاکہ اسکے منہ سے اپنی پسند کے جھوٹ نکال کر اپنا  کینہ اور اپنے چینل کے فرضی مالک اور " اصلی " مالک کو  خوش کیا جاسکے -ہمیشہ کی طرح اس تمام دور میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ  تختہ مشق بنایا جاتا  رہا ہے.اس لئے بھی کہ چینلز کے اصلی مالکان کا وطیرہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے اور اس لیے بھی کہ اس پارٹی کی   قیادت اور ارکان کو پہلے سے خوب بدنام کر لیا گیا ہے ان پر الزام لگانا آسان ہے اور یہ واحد پارٹی ہے جس سے  کسی بڑے غنڈہ ریکشن کا کبھی بھی کوئی ڈر نہیں !  پاکستان کی دوسری سیاسی پارٹیاں اپنے خلاف خبروں پر ایڈیٹر کو "سجدے " کروانے سے لے کر چینلز کے ہیڈ آفس پرحملہ کرنے صحافیوں کو زخمی ؤ قتل کرنے تک میں ملوث ہیں مگر ان سے اخبارات ، چینلز ، کالم نگاروں اور اینکرز کا رویہ نسبتا'' بہتر ہے کیونکہ " جان ؤ مال کس کو پیارا نہیں ہوتا "تو پھر سنسنی کیسے بیچی جاۓ ؟ اس سوال کا جواب ہے کہ "رضیہ " ہے نا ۔۔۔پاکستان پیپلز پارٹی کی شکل میں ایک فل ٹائم رضیہ ہے جوفل ٹائم  پیلے غنڈوں میں پھنسی  رہتی ہے ان غنڈوں کو اچانک سے " موہنجو دڑو " کی بربادی کا خیال آجاتا ہے جب وہاں سندھ کا ثقافتی میلہ لگے ، انکو تھر یاد آجاتا ہے جسکا محل وقوع اگر 10 سال پہلے پوچھا جاتا تو یہ اینکرز / نیوز کاسٹر کندھے اچکا کر انکار کر دیتے لیکن تھر کی خوشقسمتی کہ یہ سندھ میں ہے اور اگر سندھ کی زرداری حکومت کی کھینچائی کرنی ہے توتھر زندہ باد لیکن اگر کراچی میں ناگہانی آفت سے لوگ مر رہے ہوں تو نہ تھر کی بھوک پیاس کسی کو یاد ہے نہ وہاں کے معصوم بچے ، کیوں ؟؟

جناب ! اب کراچی جو بک رہا ہے ......پختونخواہ میں طوفانی بارشوں کی تباہی ہو،زلزلے کی تباہیاں  ہوں یا آئی ڈی پیز کا قتل  ، بلوچستان سے ماؤں کے جگر گوشے لاپتہ ہوں یا اجتماعی قبریں دریافت ہوں ، پاکستان میں خوآتین کے خلاف دس ہزار زیادتی کےکیسز میں آٹھ ہزار صرف صوبہ پنجاب میں ہوں تو کیا ؟ نندی پور کرپشن  سے حکومتی وزیر مالا مال ہوں یا قصور کے سینکڑوں  بچے عمر بھر کے لیے برباد  ، حتی کہ کراچی کی گرمی  سے ہلاکتیں اور ٹارگٹ اموات  بھی پس منظر میں چلے جاتے ہیں جب کوئی محترمہ پیراشوٹ سے یہ کہتی ہوئی پاکستان میں نازل ہوتی ہیں کہ وہ فلاں فلاں کی بیوی " ہوسکتی " ہیں اور فلاں فلاں کو جنم " دے سکتی " ہیں !  ایک سے بڑھ کر ایک "معتبر" کہلانے والا   " پریزینٹر "( ایسو ں کو صحافی کہنا صحافت کی ہتک ہے )منہ اٹھاتا ہے اور محترمہ کو اپنے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا کر اپنی خواہشات کو جوابات کی صورت میں وصول کرتا ہے اس "سیمابی " صفات کے حامل نجی نیوز میڈیا کی اصل حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان جیسے رستے ناسور کے بارے میں یہ گونگا ، بہرا اور اندھا  بنا ہوا ہے . بلوچستان کے صحافی قتل بھی ہوجائیں مگر ان "نوکر پیشہ " اینکرز نے انپر ایک لفظ تک نہیں کہنا ،  خضدار سے اجتماعی قبریں پاکستان کے چہرے پر لگنے والا وہ داغ ہے جو تاقیامت نہیں دھل سکتا مگر مجال ہے کہ کوئی کالم نگار ، کوئی نامور " سینئیر تجزیہ کار " اس معاملے پر لب کشائی کرے ! حامد میر پر حملے کے بعد یوں بھی نیلے  ، پیلے  صحافیوں کو خاموش رہنے کا ایک بہانہ مل گیا ہے مگر پھر عوام انکے بارے میں یہ راۓ رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ صحافی نہیں " نوکری پیشہ"  افراد ہیں- حق تو یہ تھا کہ ایسی تمام خبریں جوپاکستان کی بااختیاراشرا فیہ، عوام سے چھپاتی رہی پاکستانی  نیوز میڈیا کے توسط سے عوام تک  پہنچتیں  مگر ہمارے نیوز بلیٹین  تو انڈین گانوں اور لطیفوں سے بھرے رہے  حال یہ رہا کہ  اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی ہو ، ریمنڈ ڈیوس کے قصاص و دیعت کا ڈرامہ  ، کراچی میں ایم کیو ایم کی  غیر سیاسی و سیاسی سر گرمیا ں ہوں  یا اگزیکٹ نامی جعلی  ڈگریاں بانٹنے والے ادارے کی صحافتی تفتیش کا معاملہ ......ہمیں ہر وہ خبر جو ہمارے وطن سے تعلق رکھتی ہے اور ایک دن میں نہیں بلکہ سال ہا سال سے کینسر کی صورت اداروں میں پنپ رہی ہوتی ہے، وہ خبر ہمیشہ "غیر ملکی خبر رساں ادارے " سے ملتی ہے. مزید افسوس یہ کہ جب بھی یہ پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دینے والی خبریں گھر پہنچتی ہیں تو "اماں کہتی ہیں ا رے ! میرا لال تو معصوم ہے کمبخت  محلے والے ہی نظریں گاڑے بیٹھے ہیں"  یوں ملبہ سازشی عناصر ، غیر ملکی اداروں اور را ، موساد پر ڈال .کر ہمارے اکثر اینکرز / تجزیہ کار اپنئی ڈیوٹی ادا کرتے اور لاکھوں جیب میں ڈال کر یہ جا وہ جا،حقیقت یہ ہے کہ  پیلا صحافی محنت کرنا نہیں جانتا وہ نہ چھپی ہوئی خبر کھوجتا ہے اور نہ تفتیش اور فالو اپ کرتا ہے  اسکے لیے آسان کام ہے الزام  لگانا اور خاص طور پر کرپشن کا الزام لگانا تو فیشن بن گیا ہے کیونکہ گلی صاف کرنے والے خاکروب سے لے کر انصاف کرنے والے منصف تک سب پاکستانی کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ کرپشن ضرور کر رہے  ہیں اور جو انسان دس روپیہ حرام کھاتا ہے اسی  کو یہ یقین ہوتا ہے کہ سامنے والا ہر صورت ہزار روپیہ حرام کھا رہا  ہوگا اور یہ انسانی فطر ت ہے  

 یہ امر افسوسناک ہے کہ ہم اپنے سامنے،  اپنی نئی نسل  کو اس " یرقان زدہ نیوز میڈیا " کے ہاتھوں  جھوٹ اور چسکے کے نشے میں مبتلا ہوتا دیکھ رہے ہیں اور کچھ نہیں کر پا رہے اس وقت یہ نسل  اسی نیوز میڈیا کی صحبت سے متاثر ہو کر معلومات کی طرف کم  مگر افواہ سازی اور فوٹو شاپ کی طرف زیادہ توجہ دے رہی ہے  مگر ایک وقت آ ئے گا کہ اس جھوٹ ، بے یقینی ، مایوسی اور افواہ سازی کے مینارے پر قائم بت کو ہمیں اپنے ہاتھوں توڑنا پڑے گا مگر اس وقت تک  بہت دیر ہوجائیگی اورواپسی کا راستہ شاید بند ہوچکا ہو -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *