چند خوشگوار ساعتیں گجرات یونیورسٹی میں

Intizarانتظار حسین

کسی یونیورسٹی کی دعوت پر وہاں جانا‘ تھوڑے وقت کے لیے وہاں کی تعلیمی اور علمی فضا میں سانس لینا‘ اساتذہ سے تبادلہ خیال کرنا‘ طلباء اور طالبات کے اٹھائے ہوئے سوالات کو سننا اور ان سے عہدہ برا ہونے کی کوشش کرنا اپنی جگہ ایک خوشگوار تجربہ ہے بشرطیکہ وہ یونیورسٹی ابھی سیاسی گروپوں کی زد میں نہ آئی ہو اور وہاں کی تعلیمی اور علمی فضا کی پاکیزگی میں ابھی کوئی کھنڈت نہ پڑی ہو۔ اپنے شہر سے نکل کر گجرات پہنچنا اور وہاں کی یونیورسٹی میں قدم رکھنا‘ اس کے در و دیوار کے بیچ تھوڑا وقت گزارنا ہمارے لیے کچھ ایسا ہی تجربہ تھا اور ہاں جب ایسی فضا میں طلبا اور طالبات کے سوالات سے پالا پڑتا ہے تو وہ گویا نوخیز ذہنوں کے ساتھ ایک مکالمہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

گجرات یونیورسٹی ابھی نئی نئی ہے۔ وہاں کے اساتذہ نے بتایا کہ چوہدری پرویز الٰہی کی وزارت اعلیٰ  کے زمانے میں یہ منصوبہ پروان چڑھا۔ اس منصوبے کی کامیابی سے پروان چڑھنے میں ان کی کوششوں کو بہت دخل ہے بلکہ ان کی کوششوں ہی کا یہ ثمر ہے۔ تب ہم نے سوچا کہ اگر ہمارے ملک کی صوبائی حکومتیں اپنے پنے صوبوں میں اپنی سیاست سے ہٹ کر کچھ ایسے منصوبوں پر بھی توجہ صرف کرتیں تو اب تک یہ ملک کہاں سے کہاں پہنچ جاتا۔ اب دیکھئے ہمیں اساتذہ نے بتایا کہ اس یونیورسٹی میں 70 فیصد طالبات ہیں اور 30 فیصد طلبا ہیں۔ ارے واقعی‘ ہم حیران رہ گئے۔ کتنی خوشگوار حیرت ہوئی یہ جان کر کہ بڑے شہروں سے دور پاکستان کی اندرونی بستیوں میں بھی نسوانی تعلیم کی لہر اپنے عروج پر ہے۔ اب یہ ساری طالبات گجرات ہی کی تو نہیں ہوں گی۔ آس پاس کی بستیوں سے بھی لڑکیاں کھنچ کر یہاں پہنچی ہوں گی۔

اور ہاں جب طلبا کی طرف سے کتنے ہی سوال ہو چکے تو ہم نے طالبات کی صفوں پر ایک نظر ڈالی کہ ادھر سناٹا کیوں ہے۔ بس جیسے وہ اشارے کی منتظر تھیں۔ پھر ادھر سے سوالات اتنے ہوئے کہ انھیں بتانا پڑا کہ وقت بہت گزر گیا ہے۔ ہمیں واپس بھی جانا ہے۔ تھوڑا سانس لو۔

اور مسئلہ کیا تھا۔ ترجمے کے مسائل‘ کیا اس سرگرمی کے آداب ہیں‘ کیا ایچ پیچ اور کیا اس کی نزاکتیں ہیں‘ اور ترجمہ کرنے والے اگر ان آداب کو پیش نظر نہ رکھیں تو کیسی کیسی ٹھوکریں کھاتے ہیں کہ اچھی بھلی محنت میں نقائص پیدا ہو جاتے ہیں۔

مگر سب سے بڑھ کر ہمیں خوشی ہوئی کہ اس یونیورسٹی نے ترجمہ کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ اس کی اہمیت کو جانا اور سمجھا ہے اور اس اہمیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے یونیورسٹی میں ایک سینٹر قائم کیا ہیر ’’سینٹر فار لینگوئجز اینڈ ٹرانسلیشن اسٹڈیز‘‘ مہذب ملکوں میں حکومتیں جہاں اور علمی اور تعلیمی ادارے قائم کرتی ہیں وہاں ٹرانس لیشن بیورو قسم کا ادارہ بھی قائم کیا جاتا ہے۔ سوویت روس تو خیر سوپر پاور تھی۔ اس نے بڑے پیمانے پر ایشیائی علمی ادبی سرمائے سے ترجمہ کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کیا تھا جس نے اس ذیل میں بہت سرگرمی دکھائی تھی ہمارے جن دوستوں نے ایران کے پھیرے لگائے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ شاہ کے زمانے میں وہاں ٹرانس لیشن بیورو قائم ہوا تھا اور وہ اپنے کام میں اتنا سرگرم تھا کہ ادھر یورپ‘ امریکا میں کسی علمی شاخ کے ذیل میں کوئی نئی کتاب شایع ہوئی ادھر ہاتھ کے ہاتھ فارسی میں اس کا ترجمہ ہو گیا۔ شاہیت کے تختہ الٹنے کے بعد جو لوگ برسراقتدار آئے ہیں اور جن کا تخصیص کے ساتھ مذہبی روایت سے تعلق ہے ا نہوں نے بھی اس ادارے کو برقرار رکھا ہے۔ سو آج فارسی کا دامن نئے پرانے علوم سے اور کیا مشرق کیا مغرب ان کے علمی ادبی سرمائے سے بھرا ہوا ہے۔

پاکستان کی حکومتیں ایسے کاموں سے بے نیاز رہی ہیں۔ ہمارے یہاں اردو میں ترجمہ کی سرگرمی نظر آتی ہے جو انفرادی ذوق و شوق کی حد تک ہے اور یہ سرگرمی اردو کی ادبی روایات سے مخصوص ہو کر رہ گئی ہے۔ ہماری ادبی روایت تو کسی سرکاری سرپرستی کی یا یونیورسٹیوں کی نوازشات کی مرہون منت نہیں ہے۔ یہ روایت اپنے زور پر پھل پھول رہی ہے۔ دوسرے علوم ایسی سرگرمی کے لیے یونیورسٹیوں کے محتاج ہیں اور ہماری پرانی یونیورسٹیاں ایسے تجربوں کا خطرہ شاذ ہی مول لیتی ہیں۔ نئی یونیورسٹیوں میں سے بعض یونیورسٹیاں بہت سرگرم نظر آتی ہیں۔ مگر ٹرانس لیشن کے متعلق مرکز قائم کرنے کا انھیں بھی خیال نہیں آیا۔ یہ قدم گجرات یونیورسٹی نے اٹھایا ہے۔ بہت مستحسن اقدام ہے۔ ایک اشد قومی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش جس کے لیے وہ داد کی مستحق ہے۔

خیر ابھی تو اس مرکز کا آغاز ہے۔ یہ آنے والے سال بتائیں گے کہ اس ادارے کی کارکردگی کیا ہے۔ اس کے کیا پروجیکٹ ہیں‘ کیا علمی ادبی منصوبے ہیں‘ مگر اتنا تو ہوا کہ جو کام اب تک الل ٹپ ہوتا رہا ہے اس کی یہاں باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے۔ اور الل ٹپ کام میں تو یہی ہوتا ہے کہ معیاری کام کم ہوتا ہے۔ ترجمے ہو رہے ہیں مگر ترجمہ میں مہارت نہ ہونے کی وجہ سے ناقص ترجمے زیادہ ہیں ۔ اب یہاں باقاعدہ تعلیم و تربیت دی جا رہی ہے کہ ترجمے کے کیا آداب‘ کیا تقاضے ہیں۔ انھیں جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

نئی پرانی انگریزی اصطلاحیں بالعموم مترجم کو پریشان کرتی ہیں۔ بالخصوص وہ جو ادبی تنقید یا جدید نفسیات‘ یا نئے فلسفوں کے حوالے سے معرض وجود میں آتی ہیں۔ مثلاً

Image, Archetype,Oedipus Complex,behaviour- pattern,cliche,black comedy Existentialism,Structuralism-

کتنے ایسے مسائل ہیں جو مترجم کو اپنے کام میں پیش آتے ہیں۔ ان مسائل کا حل کیا ہے۔ ان کے ترجمے یاروں نے کیے ہیں۔ جس کی جیسے مزاج میں آئی وہ ترجمہ کر ڈالا۔ بعض ترجمے چل گئے‘ بعض کو اردو کا مزاج قبول نہیں کر سکا۔ پھر کیا کیا جائے۔ یہی کہ اس سینٹر سے متعلق اساتذہ خود سوچیں سمجھیں۔ وقتاً فوقتاً ایسی شخصیتوں کو جو علم و ادب کے میدان میں قدم رکھتی ہیں انھیں مدعو کیا جائے۔ ان کی بصیرت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ گجرات یونیورسٹی میں یہ تجربہ ہونے لگا ہے۔ دیکھئے اس سے کیا برآمد ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *