جہازوں کی مناسب چیکنگ نہ ہونےکے باعث حادثات کااحتمال ہے

PIA1

پی آئی اے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ترجمان نصراللہ آفریدی کا کہنا ہے کہ حکومت نے فلائٹ آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی جلدی میں مسافروں کی حفاظت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ذرائع سے بات کرتے ہوئے نصراللہ آفریدی نے الزام عائد کیا ہے کہ عملے کو ایجنسیوں کے ذریعے ڈرا دھمکا کر ڈیوٹی پر بلایا گیا ہے جو سول ایویشن کے قوائد وضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
نصر اللہ آفریدی کے مطابق فلائٹس پر بھیجے جانے والے عملے کو کام نہ کرنے کی صورت میں نوکری سے برخاست کرنے کی دھمکی دی گئی ہے لہذا یہ لوگ اعصابی تناؤ میں کام کر رہے ہیں جو سول ایشن کے صحت اور حفاظت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اپنی تمام تر طاقت کے استعمال کے باوجود حکومت صرف تین چار فلائٹس اڑانے میں ہی کامیاب ہوئی ہے۔ نصر اللہ آفریدی نے الزام لگایا ہے کہ گراؤنڈ سٹاف کے ہڑتال پر ہونے کے باعث جہازوں کی پرواز سے قبل مناسب چیکنگ نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کسی بھی وقت حادثہ ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے ذرائع سے بات کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے لگائے گئے تمام تر الزامات کی تردید کی ہے۔ حکومت نے پی آئی اے میں لازمی سروس ایکٹ نافذ کر رکھا ہے اور وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ ہڑتال پر جانے والے ملازمین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ دانیال گیلانی کے مطابق ملک میں جزوی فلائٹ آپریشن بحال کر دیا گیا ہے اور تمام فلائٹس کو مکمل قوائد وضوابط کے تحت اڑایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکمل تربیت یافتہ عملہ جہاز اڑا رہا ہے اور عملے پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں دانیال گیلانی نے بتایا کہ پرواز سے قبل انجینیرز طیاروں کی مکمل جانچ پڑتال کرکے ان کو پرواز کے لیے کلیئر کر رہے ہیں۔ پی آئی اے کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ گذشہ شب سعودی عرب جانے والی دو پروازیںجدہ سے 725 زائرین کو لے کر اسلام آباد پہنچ گئیں ہیں۔ دانیال گیلانی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ جلد دیگر ائیر پورٹس سے بھی فلائٹ آپریش بحال کیا جائے۔ یاد رہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی نجکاری کے خلاف ملازمین دو فروری سے ہڑتال پر ہیں:-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *