جب دیوتا کا مول پانچ ہزارلگا۔۔۔

shahid nazir ch

’’دیوتا‘‘ بھی مزدورنکلا۔ میں تو سمجھا تھا بھاری بھرکم معاوضہ لینے والے اس عظیم رائٹر سے ناول لکھوانابہت مشکل سودا ہوگا مگر یہ تو پیار کے دوبول ،مواقع،اور حالات سے سمجھوتہ کرنے والے پاکستان کے ان عام ناول نویسوں جیساثابت ہوا، جو گھر کا چولہا جلانے کے لئے صفحات اور سطریں گن گن کر معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ میں نے جب جاسوسی کہانیوں کے ’’دیوتا‘‘ محی الدین نواب کو چائے کا کپ تھمایا تو ان کی بات سن کر میرا ہاتھ کانپ اٹھا۔ اعصاب مضمحل ہوئے، دماغ کو دھچکا سالگا۔ ’’نواب صاحب آپ بھی ۔۔۔‘‘ میں نڈھال سا ہو کر کرسی پر ڈھے گیا اور بے جان کھلی آنکھوں کے ساتھ ان کا چہرہ پڑھنے لگا۔ شاید وہ انکساری سے کام لیتے ہوئے خود کو’ مزدور قلم کار‘ کہہ رہے تھے۔ لیکن ان کی کشادہ پیشانی پر عُسرت، تنگ دستی کی ایک بھی لکیر نظر نہیں آرہی تھی۔لیکن نہیں ۔۔۔ خودداری اور ضبط کا پردہ ضروری تھا ۔
’’ بھائی۔ ہم مزدور ہیں لیکن اللہ کا بہت شُکر ہے،کرم ہے، اُس رازق مطلق نے نواب کوکبھی ہاتھ پھیلانے نہیں دیا،ہم نے جتنا بھی دامن پھیلایا ،اس نے بھر دیا۔ہمیں خوش رکھا ہے اللہ میاں نے‘‘۔۔۔ اپنے حال پر قانع محی الدین نواب جو کسی زمانے میں کمیونسٹ اورلبرل ہوا کرتے تھے ، ان کے منہ سے اللہ کی شکر گزاری کا جملہ سن کر اچھا لگا-
ہم ایسے لکھاری تومحی الدین نواب کا ’’دیوتا‘‘ پڑھ پڑھ کر بالغ ہوئے تھے۔وہ زمانہ بھی کیا تھا جب ’دیوتا‘ کی اگلی قسط کا انتظار محبوبہ کی دید سے بڑھ کر ہوتا تھا۔امتحانات کا زمانہ ہوتا یا رمضان کا مہینہ ،دیوتا پڑھے بغیر گزارہ نہیں ہوتا تھا۔میرے جیسادیوتا کا ہر قاری ٹیلی پیتھی کی مشقیں کرنا شروع ہوگیا تھااور فرہاد علی تیمور بننے کی کوشش کرتا تھا۔ دیوتا کے کرداروں میں عجیب سی کشش تھی جو نوجوان قاری کو اپنے حصار میں لئے رکھتی تھی۔لہذا ٹیلی پیتھی اور ماورائی علوم کے مستندکردار فرہاد علی تیمورسے متاثر ہوکر میں نے ’تیمور‘ نام کو اپنی زندگی میں بہت بڑا مقام دے رکھاتھا ۔ میرے ذہن میں نواب صاحب اور دیوتا کا فرہاد علی تیمور کوئی دو کردار نہیں تھے۔ نہایت چست،دلکش، ذہین،تیکھا، چالباز،کرشماتی فرہاد علی تیمورکا فرضی کردار حقیقت لگتا تھا۔ نواب صاحب سے ملاقات نہ ہوتی تو شاید میں دیوتا کے لافانی کردار کے سحر سے نکل نہ پاتا۔۔۔چھوٹی قامت، کشادہ چہرہ ۔۔۔ روشن اور بڑی آنکھیں،انتہائی عاجز۔۔۔ وہ فریاد علی تیمور کی شخصیت سے میل نہیں کھاتے تھے لیکن فرہاد علی تیموnawabر ان کے قلم کا میل بن گیا تھا۔ افسانے کی دنیا کاخالق اپنی تصوراتی مخلوق پر حاوی تھا۔ایک خالق کی حیثیت سے انہوں نے دیومالائی کرداروں کو اپنی آشاؤں کا مرکز بنا یا تھا لیکن خود پر ان کو غالب نہیں آنے دیا۔
اُس روز ان کے اساطیری کردار پر بات چیت کرنے کی بجائے’ فیملی میگزین‘ کے لیے ناول لکھوانے کے آئیڈیاز پر بات ہوتی رہی ۔فیملی میگزین کے لئے کسی بڑے ناول نگار سے ناول لکھوانا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ آفاقی صاحب کی شدید خواہش تھی اور قارئین بھی اکثر تقاضا کرتے رہتے کہ معروف اور تجربہ کار بڑے ناول نگاروں کے ناول شائع کئے جائیں ،ادارہ بھی یہی چاہتا تھا لیکن سب سے بڑا اور نازک مسئلہ معاوضہ تھا۔ مجید نظامی مرحوم جب فیملی کی سرکولیشن نہ بڑھنے پر استفسار کرتے تھے تو سرکولیشن والے اکثر اس بات کی نشاندہی کرتے کہ فیملی میں بڑے لکھاریوں کو شریک نہیں کیا جاتا۔آفاقی صاحب اپنی مرضی کرتے ہیں۔ معروف لوگوں سے ناول لکھوائے جائیں تو اخبار جہاں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر نظامی صاحب کہتے۔’’بھئی یہ آفاقی صاحب کا مسئلہ ہے ،ان سے پوچھو کیوں نہیں چھاپتے؟‘‘آفاقی صاحب نظامی صاحب کی فطرت جاننے کے باوجود ان کا لحاظ کرنے پر مجبور تھے ۔اکثر بڑبڑادیتے ’’ نظامی صاحب ہر معاملے کی صورتحال سمجھتے ہیں مگر جہاں پیسے دینے کا معاملہ ہوتا ہے دامن بچا جاتے ہیں۔‘‘ میٹنگ کے شرکاء اس بات کا گلہ کرتے کہ جب نظامی صاحب چاہتے ہیں تو آفاقی صاحب بڑے ناموں کو’ فیملی میگزین‘میں شامل کیوں نہیں کرتے۔ پہلے میں بھی یہی سمجھتا تھا مگر بعد میں اندازہ ہوا کہ بے چارے آفاقی صاحب کا اس میں کوئی دوش نہیں تھا۔
’’شاہد میں بھی چاہتا ہوں کہ بڑے لوگوں کو چھاپا جائے لیکن ان کے نخرے کون اٹھائے گا؟نظامی صاحب اس بات کی پرواہ نہیں کرتے ، نہ مارکیٹ اور نہ ہی رائٹر کے مقام کے مطابق معاوضہ دینے پر تیار ہوتے ہیں۔ یہ دیکھو۔ ۔۔۔‘‘ وہ دراز کھولتے اور ایسے بہت سے خطوط اور چٹیں دکھاتے جو اس بات کی گواہی دیتے کہ آفاقی صاحب نے کس کے لیے کب کب بہتر معاوضہ مقرر کرنے کی سفارش کی تھی۔ان کاغذوں پر نظامی صاحب کے مخصوص دو جملے’’بالمقطع کر لیں ۔۔۔متفق نہیں۔۔۔زیادہ ہے۔۔۔اتنا کیوں؟‘‘ وغیرہ لکھاہوتا تھا۔ ظاہر ہے ایسے حالات میں کوئی ایڈیٹر کسی بڑے رائٹر کی خدمات کیسے حاصل کرسکتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے آفاقی صاحب کے تجویز کردہ معاوضے مارکیٹ کے اعتبار سے بہت مناسب ہوتے تھے۔ وہ خود بھی ادارے کا مفاد عزیز رکھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ نظامی صاحب کشادگی کا مظاہرہ نہیں کریں گے لہٰذا خاموشی اختیار کر لیتے ۔
محی الدین نواب کے معاملے میں بھی یہی صورتحال درپیش تھی۔ ایک روز آفاقی صاحب بہت غصّے میں تھے اور بے بسی سے کہہ رہے تھے ’’شاہد میں چلا جاؤں گا اور پھر ان کو پتہ چلے گا کام کیسے چلایا جاتا ہے۔‘‘
’’کیا ہوا سر‘‘ میں ان کو برہم دیکھ کر سمجھ گیا کہ آج پھر میٹنگ میں ان پر اعتراضات کئے گئے ہوں گے۔
’’اچھا یہ بتاؤ تم ایم اے راحت یا محی الدین نواب سے بات کر سکتے ہو؟۔۔۔ اور کیا وہ راضی ہو جائیں گے؟؟؟۔۔۔‘‘ آفاقی صاحب نے میٹنگ کی روداد سنانے کے بعد کہا۔
’’کوشش کرتا ہوں مگر آپ جانتے ہی ہیں وہ کتنا معاوضہ لیتے ہوں گے۔ ہم تو اس سے آدھا بھی نہیں دیتے۔۔۔‘‘ میں نے عرض کیا۔
’’ہاں ۔۔۔بہت شرمناک معاوضہ ہے ۔ ان لوگوں کو خدا یاد نہیں۔ان کی تبلیغ دیکھو اور کردار دیکھو،منافق اورظالم لوگ ہیں ۔بس چلے تو یہ لکھاریوں کو بھوکا مار دیں۔۔۔ خیر تم کوشش کرو‘‘۔۔۔ آفاقی صاحب نے بھڑاس نکالتے ہوئے کہا۔
میں نے ایم اے راحت اور محی الدین نواب سے بات کی تو دونوں نے گرم جوشی سے کہا ’’ارے میاں’ فیملی میگزین ‘میں کون نہیں لکھنا چاہے گا۔ ملک کے بڑے معتبر ادارے کا جریدہ ہے۔‘‘یہ سن کر میرا حوصلہ بڑا ۔ ایم اے راحت سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا وہ اخبار جہاں سے ایک قسط کا ہزاروں روپے معاوضہ لیتے ہیں ،میں نے جھجکتے ہوئے اور احتراماً انہیں بتایا کہ ہم تو فی قسط ’’ڈیڑھ سے دو سو روپے‘‘ تک ادا کرتے ہیں۔۔۔ ایم اے راحت معاوضہ سن کر پریشان ہوگئے۔ پھر بولے ’’یہ تو رائٹرز کو جوتے مارنے والی بات ہے۔۔۔‘‘ آفاقی صاحب کوملاقات کی رپورٹ دی تو بولے ’’راحت صاحب ٹھیک ہی کہتے ہیں ۔لیکن نواب صاحب سے بھی بات خود ہی کرنا ، کم میں لکھنے پر راضی ہوں تو پھر میں بات کروں گا،ورنہ خوامخواہ شرمندگی ہوگی‘‘ میں نے نواب صاحب سے بات کی تو انہوں نے بتایا وہ کراچی سے لاہور آرہے ہیں لہذا دفتر میں تفصیلی ملاقات کریں گے۔چند روز بعد وہ فیملی میگزین کے دفتر تشریف لائے اور جب معاوضے کے بارے میں ان کا عندیہ معلوم کرنا چاہا تو بولے’’بھائی جو سب کو ملتاہے ،وہ ہم کو بھی دے دو،بس یہ ہے کہ خرچہ نکل آنا چاہئے ۔‘‘
’’لیکن سر یہ آپ کی شان اور مقام کی حیثیت کے مطابق نہیں ہوگا۔‘‘میں نے ادارے کی پالیسی کا حوالہ دے کر ڈرتے ڈرتے بات بڑھائی ۔’’جانتا ہوں مگر آپ تھوڑا سا معقول کرادیں۔اب یہ دیوتا کا زمانہ تورہا نہیں۔کہاں ہم بیس پچاس ہزار ایک قسط کا لیتے تھے۔لوگوں کا Taste بدل گیا ہے اور ڈائجسٹ بھی ڈاؤن جارہے ہیں۔گزارہ کرنا ہے تو کہانیاں تو لکھنی ہوں گی۔بھئی اب تو کہانی کا خرچہ اٹھانا مشکل ہوگیا ہے۔کم از کم اتنا تو ہوکہ ہمارے کمپوزر کا خرچہ نکل آئے۔‘‘
میں نے نواب صاحب کے جملوں میں طنز اور کاٹ کو محسوس کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہایت سادگی سے بات کررہے تھے۔تاہم میں حیران تھا کہ وہ ناول اپنے لئے لکھ رہے ہیں یا کمپوزر کا خرچہ نکالنے کے لئے۔میں کچھ الجھا اور پھر سوال کیا’’آپ زحمت نہ کریں تومسودہ تحریر بھیج دیں ،ہم خود کمپوز کرالیں گے‘‘
’’ارے بھائی۔۔۔‘‘وہ ہلکا سے مسکرائے ’’کمپوزر نہیں ہوگا تو کہانی کون لکھے گا؟‘‘
میں نے کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’ہاں بھئی ہم کاغذ قلم کے محتاج نہیں۔کہانی بولتے جاتے ہیں اور ہمارا کمپوزر ٹائپ کرتا چلا جاتا ہے،سمجھو وہ ہمارا سٹینو ہوتا ہے یا منشی سمجھ لو۔‘‘ نواب صاحب نے ہماری مشکل دیکھ کر اپنی بات کوآسان کرکے سمجھایا۔
’’زبردست ۔یہ تو کمال کی بات ہے۔یعنی آپ بولتے جاتے ہیں اور وہ لکھتا چلا جاتا ہے‘‘
’’شروع سے ایسا ہوتا چلاآرہا ہے۔پہلے تو ہم کہانی ریکارڈ کراتے تھے اور پھر کسی مشّاق بندے کو تنخواہ دیتے تھے۔وہ ریکارڈر سنتا اور لکھتا چلا جاتا ۔پھر ہم اسکو فائنل چیک کرتے۔اس سے تیز اور اچھا لکھا جاسکتا ہے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ صحافی لوگ لوگ انٹرویو ریکارڈ کرتے ہیں اور دوسرا اسکو کاغذپراتار لیتا ہے‘‘نواب صاحب نے مفصل سمجھایا۔
کچھ لوگ قلم سے کہانی سناتے ہیں اور کچھ زبانی۔محی الدین نواب اپنی طرز کے منفرد اور لاجواب داستان گو تھے جو قلم اٹھائے بغیر طویل ترین اورپیچیدہ کہانیاں تخلیق کرتے تھے اور یہ ہُنر کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔یہ قدرت اور ندرت کا مقام اولیٰ ہے۔
نواب صاحب سے فی قسط معاوضہ طے ہوا اور آفاقی صاحب نے اسکی منظوری کے لئے نظامی صاحب کو لکھ کر بھیجا تو انہوں نے ساتھ ہی مسودہ بھی منگوالیا ،پھرحسب معمول لکھا’’ناول کی جتنی قسطیں بتا رہے ہیں ،فی قسط معاوضہ بہت زیادہ بن جائے گا،ادارہ خسارہ میں جارہا
ہے۔آپ ان سے پانچ ہزار بالمقطع (یکمشت )کرلیں ورنہ معذرت۔۔۔ناول خاص نہیں۔‘‘
آفاقی صاحب نے وہ لیٹر میرے سامنے پھینکا’’ ان کا تودماغ خراب ہے۔ہمیں بھی ذلیل کراتے ہیں۔پتہ نہیں کس دنیا میں رہتے ہیں۔انہیں گدھے اور گھوڑے میں کوئی تمیز ہی نہیں۔یہ نواب صاحب کی انسلٹ ہے۔یار سسپنس کے معراج رسول جیسے بڑے لوگ انکی راہ میں آنکھیں بچھاتے ہیں۔پیشگی معاوضے دیتے ہیں۔وہ میری وجہ سے کوڑیوں میں ناول دے رہے ہیں اور یہ اس طرح بدسلوکی کررہے ہیں۔میں بھی انکی جان کھا کر چھوڑوں گا۔دیکھتا ہوں کیسے منظورنہیں کرتے ۔‘‘ ۔خیر آفاقی صاحب نے نظامی صاحب کے ساتھ رقعہ بازی شروع کردی ،نظامی صاحب نے تنگ آکر انکی بات مان لی تاہم کہہ دیا’’آپ کی خاطر اوکے کررہا ہوں،آئندہ ’مہنگے‘ لوگ نہ رکھیں‘‘۔
اس روز کے بعد آفاقی صاحب نے طے کرلیا کہ جب ادارہ ترقی اور بہتری کی فضا قائم نہیں کرنا چاہتا تو ہم نامور لکھاریوں کے سامنے کیوں ذلیل ہوں۔ محی الدین نواب کاناول جیسے تیسے کرکے ختم کیا گیالیکن اسکے بعد ہم نے کہانیوں کے دیوتاکو اسکے مقام سے نیچے گرانے کی ہمت نہیں کی۔

جب دیوتا کا مول پانچ ہزارلگا۔۔۔” پر ایک تبصرہ

  • فروری 10, 2016 at 4:36 PM
    Permalink

    افسوس کا مقام ہے کہ اتنی بڑی آبادی کے ملک میں لکھنے والی کی ناقدری کا یہ عالم ہے ۔۔ نظامی صاحب مرحوم جیسے مالدار لوگ اگر لکھنے والوں کے سر پہ ہاتھ رکھنے کو تیارنہ ہوں تو کون ایسا کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔ ایک بات البتہ نوٹ کرنے کی ہے آپ نے اپنی تحریر میں فرمایا ہے کہ " اپنے حال پر قانع محی الدین نواب جو کسی زمانے میں کمیونسٹ اورلبرل ہوا کرتے تھے ، ان کے منہ سے اللہ کی شکر گزاری کا جملہ سن کر عجیب بھی لگا اور بہت اچھا بھی" یہ بات میرے لیے تعجب کی ہے کہ آپ ابھی تک یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی مسلمان کمیونسٹ یا لبرل نہیں ہو سکتا

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *