دہشت گردی کے حوالے سے چند گذارشات

afreen

دیکھا گیا ہے کہ جب طوفان آتا ہے تو گھر کا ہر فرد گھر کو اور گھر کی قیمتی چیزوں کو بچانے کی سعی کرتا ہے،اور ہونا بھی یہی چاہیے ، کیونکہ یہی عقل مندی کا تقاضا ہے۔ہمارا گھر، پاکستان بھی اس وقت طوفان کی زدمیں ہے ۔دشمنوں کی میلی نظر اس پاک سر زمین کی سا لمیت پہ ہے۔
وقت گواہ ہے کہ وطن عزیز پہ جب بھی کوئی مشکل گھڑی آئی ہے اس کے باسیوں نے آپس کے ہر اختلاف کو بھلا کر بحیثیت قوم یوں ڈٹ کر مقابلہ کیا کہ مصیبت خود گھبرا گئی،بلا شبہ اللہ پاک کی مدد و نصرت ہمیشہ ہم پر سایہ فگن رہی۔اب بھی ایسا ہی ہو گا انشاء اللہ،وطن عزیز کے خلاف سازش کرنے والے منہ کی کھا ئیں گے تاہم عقل مند ی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے گردوپیش سے پوری طرح آگاہ رہیں اور اپنی آنکھیں کھلی رکھیں۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم انفرادی سطح کی بجائے اجتماعی سطح پر نہ صرف وطن عزیز کے لیے مثبت انداز میں سوچیں، بلکہ اس پر عمل بھی کریں ،اس سلسلے میں چند گزارشات ہیں جن پر اگر عمل کر لیا جائے تو وطن دشمن عناصر کی ریشہ دوانیوں سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بہت سی چیزوں پر پہلے سے ہی عمل ہورہا ہے لیکن ضرورت ہے اس نظام کو مزید سخت کرنے کی۔
ہرچھوٹے بڑے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پہ پولیس چیک پوسٹ ہونی چاہیے ۔جس میں کم از کم دس جوان موجود ہوں ، جو کہ جدیدترین اسلحے سے لیس ہوں،اور ہر قسم کے ہنگامی حاالات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہوں۔ہر چیک پوسٹ پر نادرا کے ڈیٹا بیس کی مدد سے حساس آلات کے ذریعے نہ صرف گاڑیوں کی رجسٹریشن چیک کی جائے ،بلکہ اُس گاڑی میں موجود تمام سواریوں کے قومی شناختی کارڈ کا بھی سسٹم میں اندراج کے ذریعے چیک اپ کیا جائے جیسا کہ تمام آرم فورسز کے اداروں و رہائشی علاقوں میں داخل ہوتے ہوئے کیا جاتا ہے تا کہ معلوم ہوسکے کہ کتنے لوگ اس شہر کے مکین ہیں اور کتنے باہر سے آئے ۔۔مزید برآں یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ کس شخص نے کتنا عرصہ قیام کیا ۔۔
ہر شہر ا ور اُس کے گردونواح میں مقیم لوگوں کو اس بات کا پابند بنا دیا جائے کہ وہ اپنا مکان یا دوکان کرائے پہ دینے سے پہلے کرایہ دار کے تمام کوائف اپنے سٹی تھانے میں جمع کرائے بصورت دیگر اُس پہ بھاری جرمانہ عائد کر دیا جائے۔۔اور یہ ذمہ داری تحصیل ناظمین کے سپرد کر دی جائے کہ وہ اپنے علاقے کی مساجد میں ا علانات کے ذریعے لوگوں تک حکومت کا پیغام پہنچائیں۔
ہر شہر اور اس کے گردو نواح میں بسنے والے غیر صوبائی لوگوں کو چیک کیا جائے کہ وہ وہاں کب سے آباد ہیں اور اُن کی آبادکاری کی وجہ کیا ہے
اور چیکنگ کا یہ سلسلہ وقتا فوقتا جاری رکھا جائے ۔
دہشت گردی کیا ہے، یہ دشت گرد کس طرح کسی بھی علاقے میں درآتے ہیں اور ان کا طریقہ واردات کیا ہوتا ہے اور ان کی پہچان کیسے کی جا سکتی ہے اور ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے ،اس کے بارے میں عام آدمی کا شعور اُجاگر کیا جائے۔ یہ کام ٹی وی ،رسائل ،اخبارات و جرائد اور کیبل پہ بار بار اشتہارات کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔۔جب ایک ہی پیغام بار بار دہرایا جائے گا تو چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی اس پیغام کی اہمیت کو جان جائے گا۔۔اور اس طرح عام آدمی کے دل و دماغ سے دہشت گردی کا خوف بھی کم کیا جاسکتا ہے۔
تمام تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے انتظامات کو جدید سائنسی طریقوں پہ استوار کیا جائے،چاردیواری پہ جدید الارم سسٹم ہونا چاہیے ۔کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مین گیٹ کے علاوہ ایمرجنسی گیٹ موجود ہو،جس پر جدید اسلحے سے لیس سیکیورٹی گارڈ زتعینات ہوں ۔پرائمری سکول میں دو سے تین ،جبکہ ہائی سکول میں تین سے چار اور کالج و یونیورسٹی میں پانچ سے چھ جدید ترین اسلحے سے لیس سیکیورٹی گارڈز کا ہونا ضروری ہے ۔
سکول و کالج کے مین گیٹ کے سامنے سیکیورٹی نقطہ نظر کے حوالے سے رکاوٹیں ہونی چاہیں ۔۔اُن رکاوٹوں کو سکول کے آغاز و اختتام پہ مین گیٹ کے سامنے یوں رکھا جائے کہ کسی بھی شر پسند کی غیر معمولی حرکت کو حتی الامکان روکا جا سکے۔۔تمام طلبہ و طالبات کو سختی سے ہدایت کی جائے کہ چھٹی کے وقت وہ مین گیٹ سے کم از کم تیس سے چالیس قدم کے فاصلے پہ رہیں ۔۔ممکن ہو تو کلاسوں کی ترتیب سے بچوں کو باہر لایا جائے۔پک اینڈ ڈراپ کرنے والی گاڑیوں کو تعلیمی اداروں کے مین گیٹ سے فاصلے پہ رکنے کی ہدایت کی جائے ۔اگر ممکن ہو تو تمام گاڑی والوں کو تعلیمی اداروں کی جانب سے باقاعدہ ایک ٹائم دیا جائے جس پر وہ مین گیٹ کے سامنے آئیں اور بچوں کو گاڑی پہ سوار کر لیں ۔یہ ٹائم گاڑی کے نمبر کے ساتھ تعلیمی ادارے کے اندر اور باہر نوٹس بورڈ پہ باقاعدہ آویزاں کر دیا جائے ،تا کہ بیک وقت ڈرائیور حضرات کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی اپنی گاڑی کے مقررہ وقت کا پتہ ہو اوروہ اُس مقررہ وقت پہ مین گیٹ کے سامنے آ جائیں۔
اسمبلی کے اوقات میں وقتاً فوقتاً دہشت گردی سے متعلق طلبہ و طالبات کو آگاہ کیا جانا چاہیے اور مندرجہ بالا تمام ہدایات کو دہراتے رہنا چاہیے،نہ صرف یہ بلکہ ان تمام ہدایات کو باقاعدہ نوٹس بورڈ پہ آویزاں کر دینا چاہیے ۔چھٹی کے وقت مین گیٹ سے دور رہنے پہ خاص طور پر عمل کرانا چاہیے۔۔اس اصول کی خلاف ورزی کرنے والے بچوں پر سختی کرنی چاہیے۔
وہ والدین جو کہ اپنے بچے کے سلسلے میں تعلیمی ادارے کی انتظامیہ سے ملنا چاہتے ہیں ۔اُن کے لیے ادارے کی جانب سے اوقات مقرر ہونے چاہیں ۔والدین کی آمد پہ مین گیٹ پہ موجود سیکیورٹی گارڈ اُن سے اُن کا قومی شناختی کارڈ لے کر انتظامیہ کو چیک کرائے ،پھر اجازت ملنے پہ والدین کو ادارے کے اندر آنے کی اجازت دی جائے ۔چھوٹے بچوں کو لنچ صبح سویرے دے دیا جائے ۔بعد میں سکول انتظا میہ لنچ وصول نہ کرے۔۔والدین و اساتذہ پہ لازم ہے کہ وہ چھوٹے بچوں کو گاہے بگاہے نصیحت کرتے رہیں کہ سکول آتے جاتے کسی اجنبی سے کوئی چیز نہ لیں ۔تعلیمی اداروں کے آغاز و اختتام کے اوقات میں گاڑی والے حضرات کو مین گیٹ کے سامنے گاڑی کھڑی کرنے سے روکا جائے۔۔تا کہ بچوں کے سکول و کالج و یونیورسٹی میں داخل ہونے اور نکلنے میں آسانی ہو۔۔ہر تعلیمی ادارے کی انتظا میہ کے پاس قریب ترین پولیس و امدادی ادارے کے ایمرجنسی نمبر کسی بھی بورڈ پر واضح انداز میں لکھ کر سامنے دیوار پہ آویزاں کر دینے چاہئیں تا کہ خدا نخوستہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں کوئی بھی کال کر سکے۔
سیانے کہتے ہیں کہ مصیبت کے وقت گھبرانے سے مصیبت ٹل نہیں جاتی بلکہ انسان کا اُس میں سے نکلنا اور مشکل ہو جاتا ہے۔۔تو ضرورت اس امر کی ہے کہ حواس باختہ ہونے کی بجائے باہوش رہتے ہوئے ذہن کو استعمال کیاجائے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے گردو پیش پہ گہری نظر رکھیں ۔ کسی بھی اجنبی شخص کی غیر معمولی حرکت کی فوری طور پر قریب ترین پولیس افسر یا تھانے میں اطلاع دیں۔۔بحیثیت پاکستانی ہم خود بھی عین موقع پر اُس شخص سے پوچھ گچھ کر سکتے ہیں۔۔کبھی بھی، کسی بھی مشکوک اجنبی کو اپنا مکان یا دکان کرایہ پہ مت دیں ،چاہیے وہ اس کا کتنا ہی کرایہ کیوں نہ ادا کرے۔اللہ پاک میرے وطن اور اس کے باسیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *