ہندو میرج بِل 2015ء

sahil munir

پاکستان میں ہندو برادری کی شادی و نکاح کی باقاعدہ رجسٹریشن سے متعلق قوانین نہ ہونے کی وجہ سے ان کو کسی قانونی دستاویز سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی شادی شدہ ہندو عورت اپنے پہلے نکاح کے باوجود کِسی دیگر شخص کی زوجیت میں چلی جائے یا اغواء و جبری تبدیلیء مذہب کا شکار ہوکراپنی آزاد مرضی کے بغیرکِسی کی منکوحہ بنا دی جائے تو اس کے پہلے شوہر کے پاس کوئی ایسا قانونی ثبوت نہیں جِس سے وہ اس عورت کو اپنی بیوی ثابت کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کر سکے۔علاوہ ازیں کمپیوٹر شناختی کارڈ میں زوجیت کے اندراج،نادرا میرج سرٹیفیکیٹ اور دیگر لاتعداد مواقع پرلازمی شادی و نکاح ثبوت مہیا کرنے میں ناکامی پر پاکستان کی ہندو برادری کو جِس اذیت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسے صِرف یہ محروم و پسماند ہ مذہبی اقلیت ہی محسوس کر سکتی ہے۔کِسی بھی حکومت نے ملک کی ایک قابلِ ذکر اقلیت کو درپیش اِس سنگین مسئلہ کے حل کے بارے میں کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔حالانکہ عدالتِ عظمیٰ بھی ہندو شادیوں کی رجسٹریشن کے بارے میں بارہا احکامات صادر کر چکی ہے۔ چنانچہ اِس حوالے سے ہندو برادری نے ہمیشہ اپنے تحفظات کا اِظہار کرتے ہوئے مناسب قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔اِس سِلسلہ میں سال 2014ء میں ہندو اراکینِ قومی اسمبلی کی طرف سے ایک پرائیویٹ بِل پیش کیا گیا جو التواء کا شکار ہو گیا۔بعد ازاں موجودہ حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں ہندو میرج بِل 2015ء کی پیش رفت ہوئی جِسے اب منظور کر لیا گیا ہے۔اِس بل میں ہندو شادی کی لازمی رجسٹریشن اور شادی کی عمرکم ازکم 18 سال کرنے کی حوصلہ افزاء شقیں شامل ہیں۔تاہم بِل میں تبدیلیء مذہب کے بعد ہندو نکاح کے خاتمے کی شِق پر کمیٹی کے ہندو اراکین نے اعتراض کیا اور اپنے تحفظات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِس سے جبری تبدیلیء مذہب کے واقعات کی روک تھام نہیں ہو سکے گی۔واضح رہے کہ ہندو کمیونٹی کی طرف سے اکثر و بیشتر ملک بھر بالخصوص سندھ میں ہندو عورتوں کے جبری تبدیلیء مذہب کے واقعات کی شکایات سننے کو مِلتی ہیں اوراِس بابت 2014ء میں پیش کئے جانے والے پرائیویٹ بِل میں اِس امر کی خصوصی طور پر نشان دہی کی گئی تھی۔مگر موجودہ حکومتی ہندو میرج بِل 2015ء میں ہندو کمیونٹی کے یہ خدشات تاحال برقرار ہیں ۔جہاں تک اِس مسودہء قانون کے حتمی شکل میں نفاذ کا تعلق ہے تو اِس بابت بھی سرِ دست کچھ نہیں کہا جاسکتا۔کیونکہ ابھی اِس بِل کو پارلینٹ کے دونوں ایوانوں اور تمام صوبائی اسمبلیوں کی منظوری درکار ہے ۔بہرحال ہم پر امید ہیں کہ یہ بل قانون ساز اداروں کی منظوری کے بعد قابلِ عمل شکل اختیار کرے۔ لیکن ہماری رائے میں اِس بِل کی پارلیمنٹ سے منظوری سے قبل ہندو برادری کو بھرپور اعتماد میں لیا جائے اور ان کی تجاویز و آراء کی روشنی میں اِسے حتمی قانونی شکل دی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *