ویلنٹائن ڈے پر ہی پابندی کیوں؟

velentineeeee

ابھی فروری کا آغاز ہی ہوتا ہے تو تنقید نگاروں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ملک کے باقی تمام مسائل ختم ہو گئے ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ ویلینٹائن ڈے منانے پر پابندی لگانا رہ گیا ہے، لہذا ہر دوسرے دن خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ ویلینٹائن ڈے منانے پر پابندی لگنی چاہئے، ویلینٹائن ڈے نہیں منانا چاہئیے، ویلینٹائن ڈے منانا ملکی سطح پر بین کیا جانا چاہئیے، ویلینٹائن ڈے منانا غیر اخلاقی ہے ، ویلینٹائن ڈے منانا ملک کے لئے تباہی کا باعث ہے وغیرہ وغیرہ۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ عیسوی تہوار ہے، اس تہوار کا مشرقی کلچر سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے..... میں ان سب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ ذرا اپنے لائف سٹائل پر نظر ڈالیں اور ایمانداری سے بتائیں کہ کیا آپ ہر بات، ہر عمل میں مغرب کی کاپی نہیں کرتے؟ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہمارا تو سارا نظام، اسی سسٹم پر چل رہا ہے۔ کیا ہم عیسوی کیلنڈر کے مطابق نہیں چلتے؟ اپنے دن ، رات حتیٰ کہ مستقبل کی تمام پلاننگ اسی کیلنڈر کے مطابق نہیں کرتے؟ اپنی تنخواہیں عیسوی مہینوں کے حساب سے نہیں لیتے؟ اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آج کیا تاریخ ہے تو یہی بتائی جائے گی کہ 14 فروری ، نہ کہ کوئی اسلامی تاریخ۔مغرب کی زبان بولنے میں یہی تنقید نگار فخر محسوس کرتے ہیں، اپنے بچوں کو انگلش میڈیم سکولوں میں پڑھاتے ہیں ، انگلش زبان سیکھنے کے لئے باقاعدہ ٹیوشن پڑھاتے ہیں،ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ فر فر انگلش بولے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انگلش کے بغیر تو ہمارا گذارہ ہی نہیں یہاں تک کہ اردو بھی میسیج میں ٹائپ کرنی ہو تو رومن انگلش میں کرتے ہیں۔ ہمارا طرزِ زندگی مغربی ہی تو ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر، سکائپ ..... سارے پیغام رسانی کے ذریعے مغربی ایجادات ہیں جو ہم اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جس سے بھی بات کریں، یہاں تک کہ ان تنقید کرنے والوں میں سے بھی ہر کوئی اپنی فیملی کے ساتھ مغرب کے ہی کسی ملک میں سیٹ ہونا چاہتا ہے۔ملک کی اہم شخصیات ایک دوسرے کو، ملک کے سربراہ دوسرے ممالک کے سربراہان کو نئے سال کی مبارکبادیں دیتے ہیں..... یہ اسلامی سال نہیں ، عیسوی سال ہی ہوتا ہے۔ مزید آگے آئیں، اور بتائیںآزادی ڈے، مدر ڈے، فادر ڈے،ویمن ڈے،فرینڈ شپ ڈے، برتھ ڈے منانا .... یہ سب مغربی ڈیز ہی ہیں ان پر بھی تنقید کریں ، ان پر بھی پابندی لگا دیں۔یاد دہانی کے لئے بتا دوں کہworld peace day ، ارتھ ڈے، گلوبل وارمنگ ڈے اور پتا نہیں کتنے سالوں سے لیبر ڈے ہر سال قومی سطح پرمنایا جاتا ہے اور اس دن چھٹی بھی ہوتی ہے، بینک ہالیڈے پر بھی ملک بھر کے بینکوں میں چھٹی ہوتی ہے.....یہ سب بھی مغربی تہوار ہیں۔ذرا یہ بھی بتائیں کہ ہماری کونسی رسومات مغربی نہیں ہیں..... ہماری شادی بیاہ کی رسومات میں مغربی رسومات کا عنصر شامل ہے۔
پاکستانی عوام جو غربت، مہنگائی، بدامنی، معاشی بحران کی وجہ سے متعدد مسائل سے دوچار ہے، اس دن کی بدولت انہیں اپنے گردو پیش میں بکھرے مسائل کو چند لمحوں کے لئے بھلا کر صرف اور صرف اپنے پیاروں کے ہمراہ چند گھڑیوں کو یادگار بنانے کا موقع مل جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ آج کل کے مصروف دور میں اگر آپ اپنی مصروفیات میں سے چند گھنٹے یا لمحے محض اپنے چاہنے والوں کے لئے مخصوص کر دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ تہوار لڑائی جھگڑوں اور آپس کے اختلافات کو بھلا دینے کا دن ہے۔ ہمارا مذہب بھی پیار محبت کا درس دیتا ہے تو اگر اس دن آپ اپنے پیاروں سے پیار محبت کا اظہار کرتے ہیں تو اس میں برائی ہی کیا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *