بات ویلنٹائن ڈے کی نہیں ، بات مائنڈ سیٹ کی ہے

yasirsahib

یہ مائنڈ سیٹ کیا ہے ؟ اس مائنڈ سیٹ (ذہنیت ) رکھنے والوں کا ایمان ہے کہ اس کائنات میں اور خاص طور سے پاکستان میں خدا نے صرف انہیں لوگوں کو یہ اختیار ودیعت کر رکھا ہے کہ وہ یہ طے کریں کہ اس ملک میں عورتیں کس قسم کا لباس پہنیں گی ، کون سی حرکت فحاشی یا بے حیائی کے زمرے میں آئے گی ، سکولوں کے نصاب میں سے کیا چیز حذف کی جائے گی اور کس مواد کا اضافہ کیا جائے گا ، موسیقی ، مصوری ، مجسمہ سازی ، شاعری اور دیگر فنون لطیفہ کی اجازت بھی ہوگی یا نہیں، ٹی وی اسکرین پر خاتون اینکر کس قسم کا لباس پہن کر ٹاک شو کرے گی، لوگ کون سا تہوار منائیں گے اور کس سے باز رہیں گے، تفریح کیسے کی جائے گی، مرد و زن جلوت و خلوت میں کیسے پیش آئیں گے، وغیرہ وغیرہ ۔طالبان کا اس ملک سے کیا جھگڑا تھا؟ کیوں وہ خود کش بمبار تیار کرکے اسکولوں میں بھیجتے ہیں ؟ کیوں وہ ہماری فوج ، عوام اور ریاست کو کافر کہتے ہیں؟ کیوں ان کے نزدیک اس ملک کے ہر شہری کو انہی کی بتائی ہوئی تعبیر کے مطابق زندگی گزارنی چاہئے؟ کیونکہ ان کا مائنڈ سیٹ بھی یہی ہے کہ وہ اس بات کا اختیار چاہتے ہیں کہ وہ یہ طے کریں کہ پاکستانی معاشرے میں ایک عورت اور مرد کیسے زندگی گزاریں گے ،عبادت کیسے کریں گے ، اپنے بچوں کی تربیت کیسے کریں گے ، شادی بیاہ کی تقریبات کیسے سجائیں گے !فرق صرف اتنا ہے کہ وہ پاکستانی عوام پر اپنی مرضی کا لائف اسٹائل بندوق کی نوک پر نافذ کرنا چاہتے تھے جبکہ ان کے عذر خواہ یہ لائف اسٹائل انتہا پسندی کے بیانئےکو فروغ دے کر ٹھونسناچاہتے ہیں ۔
ان عذر خواہان کے دلائل کیا ہیں ؟ ان کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جس طرز عمل کی وہ بات کرتے ہیں وہ ان کا اپنا ایجاد کردہ نہیں بلکہ اس کی بنیاد اسلام کے متعین کردہ اصول ہیں چنانچہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کم از کم کسی کو ان سے روگردانی کا اختیار نہیں ، لہٰذا جب وہ یہ کہتے ہیں کہ موسیقی حرام ہے تو یہ فقط ان کی رائے نہیں بلکہ عین اسلامی احکامات کے مطابق ہے ۔یہ دلیل درست نہیں کیونکہ پردہ ، موسیقی ، عورتوں کی آزادی اور اس نوع کے بے شمار مسائل پر علمائے اسلام کا اتفاق نہیں ہے۔موسیقی کو ہی لے لیں ، بے شمار جید علما اسلام میں موسیقی کی اجازت سے متعلق اس تشریح سے اتفاق نہیں کرتے کہ یہ حرام ہے اور اس ضمن میں لا تعداد کتب موجود ہیں جو انہی علمائے کرام نے لکھی ہیں ، اسی طرح عورت کے پردے کے احکامات کے بارے میں بھی علما میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے ، طالبان کے افغانستان میں شٹل کاک برقع کے بغیر نظر آنے والی عورت اسی طرح فحاشی پھیلانے کی مرتکب سمجھی جاتی تھی جیسے پاکستان سپر لیگ کی افتتاحی تقریب میں ڈانس کرنے والی لڑکیوں پر ایک قابل احترام مولانا کو تکلیف پہنچی ، ویسے یہ اور بات ہے کہ ان مولانا کو گزشتہ دس برسوں میں اس وقت تکلیف نہیں ہوئی جب یہ قوم دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کے لاشے اٹھا رہی تھی ، جب فوجی جوانوں کے سر کاٹ کر فٹ بال کھیلے جا رہے تھے اور جب لکی مروت میں والی بال کھیلنے والے بچوں کے جسموں سے بارود سے بھری گاڑیاں ٹکرا دی گئیں تھیں !دہشت گردی کے یہ عذر خواہ جب مذہب سے دلیل پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ فرض کرلیتے ہیں کہ مذہب کی صرف وہی تشریح درست ہے جو یہ کریں گے اور ساتھ ہی اس کو نافذ کرنے کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں ۔ اگر ان کی دلیل اور بتائی ہوئی تشریح درست مان لی جائے تو اس ملک میں ہر قسم کے فنون لطیفہ پر پابندی لگ جائے ، عورتیں گھروں میں قید کر دی جائیں، ان کے مسلک کے علاوہ تمام مدرسے اور یونیورسٹیاں جہاں ’’مغربی ‘ ‘ تعلیم دی جاتی ہے بند کر دی جائیں اور ہمارے حلئے ان دہشت گردوں جیسے ہو جائیں جنہوں نے سکولوں اور کالجوں کو اڑانے کی دھمکی دے رکھی ہے ۔
ان عذر خواہوں کی دوسری دلیل یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے مغرب کا تہوار ہے جو ہمارے معاشرے میں فحاشی پھیلانے کا سبب بنتا ہے ، جو لوگ اس کی حمایت میں بولتے ہیں ، کیا وہ یہ برداشت کریں گے کہ کوئی لڑکا ان کی بہن بیٹیوں کو سرخ پھول اور چاکلیٹ بھیج کراظہار محبت کرے!اس دلیل میں عذر خواہوں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ عورتیں بھیڑ بکریاں ہوتی ہیں اور انہیں اپنے برے بھلے کی کوئی تمیز نہیں ہوتی لہٰذا یہ گھر کے مرد کا فرض ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ کوئی اس کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ایسی ویسی حرکت نہ کرے، حالانکہ ہمارے جیسے ملک میں اس بات کا تصور کرنا ہی محال ہے کہ کوئی لڑکا کسی راہ چلتی لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اظہار محبت کر ڈالے ، اسی لئے ہمارے ’’تھڑے ہوئے نوجوان ‘ ‘ ویلنٹائن ڈے پر اپنی پھوپھیوں کو وش کرتے پھرتے ہیں ۔ اور رہی بات مغربی تہوار کی ، تو کوئی ایک چیز ایسی بتائی جائے جس کے لئے ہم مغرب کے محتاج نہیں !جس فیس بک ، ٹوئٹر اور موبائل فون پر ویلنٹائن ڈے کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے کیا یہ سب تماشے مغرب کی دین نہیں ؟ ہمارے بدن پر ایک چیتھڑا ایسا نہیں جس پر مغرب کا ٹھپہ نہ ہو ، گھڑی سے لے کر ٹی وی تک ، انٹر نیٹ سے لے کر لیپ ٹاپ تک جس پر یہ کالم لکھے جاتے ہیں اور مائک سے لے کر ان کیمروں تک جن کے سامنے بیٹھ کر مغرب کے لتے لئے جاتے ہیں ، ایک ایک انچ ان کی ایجاد ہے اور دعویٰ یہ کہ ہم مغربی اقدار نہیں اپنائیں گے ۔ حضور ، آپ نہ صرف وہ اپنا چکے بلکہ ان میں ’’گوڈے گوڈے ‘ ‘ ڈوب چکے ہیں۔ایک مضحکہ خیز دلیل یہ بھی ہے کہ ویلنٹائن ڈے دراصل اس کارپوریٹ میڈیا کی دین ہے جس کی دکانداری ان چیزوں کی اشتہار بازی پر چلتی ہے جو کروڑوں لوگوں کے اس تہوار کو منانے کی وجہ سے بکتی ہیں۔ چہ خوب۔ اگر یہ دلیل درست ہے تو یہی کارپوریٹ میڈیا ہر مذہبی موقع کی بھی بھرپور کوریج کرتا ہے ، جتنے اشتہارات ان مواقع پر ملتے ہیں وہ اس ایک دن کے مقابلے میں سینکڑوں گنا زیادہ ہیں۔سو جو دلیل ایک موقع کے لئے درست ہو وہ اسی قسم کے دوسرے موقع کے لئے کیسے غلط ہو سکتی ہے ، یہ منطق کے کسی استاد سے پوچھنا پڑے گا!
بات ویلنٹائن ڈے کی نہیں ، بات اس مائنڈ سیٹ کی ہے جو بزور طاقت اپنی مرضی کا نظام زندگی ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے ، اس میں بسنت سے لے کر موسیقی تک اور منٹو کے افسانوں سے لے کر مصور ی تک کسی تفریح کی گنجائش نہیں۔ ذاتی طور پر مجھے ویلنٹائن ڈے منانے کا کوئی شوق نہیں لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ تمہیں یہ تہوار منانے کی اجازت نہیں ہوگی تو میں سوال ضرور اٹھاؤں گا کہ اسے یہ اختیار کس نے دیا ! رہ گئی بات ریاست کی تو شاید اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات نہیں ہو سکتی کہ ریاست اس بات کی ذمہ داری بھی اپنے کاندھوں پر اٹھا لے کہ ہر سال چودہ فروری کو کوئی مرد و زن آپس میں پھولوں اور چاکلیٹ کا تبادلہ نہ کریں ورنہ ان کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔آج 2016ءمیں مغرب کائنات میں کشش ثقل کی لہروں کی دریافت کا جشن منارہاہے اور ہم بیٹھے ویلنٹائن ڈے کا رونا رو رہے ہیں!
کالم کی دُم:نو عمری کے زمانے میں ایک مرتبہ میں نے اپنے ایک تماش بین ٹائپ انکل سے پوچھا تھا کہ آپ نئے سال کے موقع پر کوئی جشن یا پارٹی کیوں نہیں کرتے، انہوں نے جواب میں ایک تاریخی نصیحت کی ، فرمایا، بیٹا یاد رکھنا ، سارا سال چاہے کچھ بھی کرنا مگر نیو ائیر نائٹ یا ویلنٹائن ڈے وغیرہ ہمیشہ اپنے گھر والوں کے ساتھ شریفانہ طریقے سے منانا۔ عقل مندوں کے لئے اشارہ ہی کافی ہے۔

بات ویلنٹائن ڈے کی نہیں ، بات مائنڈ سیٹ کی ہے” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *