مستقبل کے اخبار ۔۔۔ صرف آن لائن!

5189صرف یو کے ہی نہیں بلکہ دنیا کے متعدد اخبارات نے اس خبر کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے کہ برطانیہ کا تیس سالہ پرانا اخبار اس سال مارچ میں بند ہو جائے گا۔ اخبار کے مالک نے اپنے ملازمین کو بتا یا کہ اخراجات کا پورا کرنا ممکن نہیں رہا، اس لیے مجبوراًیہ قدم اٹھایا جارہا ہے۔ اس خبر نے نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں ایک کھلبلی مچا دی ہے۔دراصل اب یہ زیادہ دیر کی بات نہیں رہ گئی کہ دنیا کے تمام اخبارات کاغذ سے سکرین پر منتقل ہو جائیں گے۔پرنٹنگ پریس اور کاغذکے اخراجات پراب بڑے سے بڑے ادارے کے بس سے باہر ہو جائیں ۔ پھرآن لائن کا سکوپ ، اس کے قارئین ، اس کو ملنے والے اشتہارات کی نوعیت بالکل بدل جائے گی۔The Independent اور اس کا دوسرا ایڈیشن جب کاغذ پر شائع ہوتا ہے تو وہ چند ہزار کی تعداد میں چھپتا ہے لیکن اس کا موجود ہ آن لائن ایڈیشن ابھی بھی پچاسی ملین قارئین پر مشتمل ہے۔ پیپر ایڈیشن مقامی ہے جب کہ آن لائن ایڈیشن عالمی ہو گا۔ اسی لیے اخبار کے مالک نے کہا ہے کہ آن لائن ایڈیشن جاری رہے گا اور اس میں متعدد نئی نوکریاں بھی پیدا ہوں گی لیکن یہ نئی نوعیت کی ہوں گی۔ اس وقت اخبار میں ایک سو پچاس افراد کام کر رہے ہیں ان میں سے ایک سو گیارہ افراد ملامت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ انھوں نے امید ظاہر کی آل لائن اخبار پیپر جرنلزم کی جگہ لے کر نئی انڈسڑی کا روپ دھارے گا۔ یاد رہے کہ The Independentاور اس کا اتوار کا ایڈیشن یو کے کا ایک مقبول اخبارتھا ،اس کے بند ہونے کامطلب ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب تمام اخبارات صرف آن لائن ہی شائع ہوں سے اور لوگ انھیں اپنے موبائلز ، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر ہی دیکھ سکیں گے۔اخبار کی قیمت کی جگہ آپ موبائل appsخریدیں گے یا نیٹ پر سبسکرائب کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے ہے کہ اس ا خبار کی شکل بالکل نئی ہو جائے گی۔لیکن ذرا سوچیے کہ اگر دنیا کے تمام اخبارات آن لائن ہو جائیں تو کتنا کاغذ بنے گا اور پرنٹنگ کے کتنے اخراجات کم ہوں گے، کتنے کروڑ درخت بچیں گے۔ اور ماحولیات کیں کتنی بہتری پیدا ہو گی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *