موسیقی کے بار ے میں اسلام کا نقطۂ نظر

th8M6I4C15  موسیقی کے بارے میں عام طور پرجو نقطۂ نظرپایا جاتاہے یہ ہے کہ موسیقی قطعاً حرام اورناجائز ہے ،روایات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ’’میں آلات موسیقی توڑنے کے لیے بھیجاگیاہوں۔‘‘ تاہم ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض موقعوں پر دف کی اجازت دی ہے ، اس لیے صرف انھی موقعوں پر دف کی اجازت ہے۔ اور چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سفر کے ایک موقع پر ایک شخص کوبانسری بجانے سے منع نہیں فرمایا، بلکہ اس کی تحسین کی، اس لیے سفر کے دوران میں موسیقی کاجواز موجود ہے۔
اس بارے میں ہمارا نقطۂ نظریہ ہے کہ پورے قرآنِ مجید میں موسیقی کی ممانعت میں کچھ نہیںآیا۔ (حالانکہ نزولِ قرآن کے وقت موسیقی موجود تھی )اگر موسیقی حرام ہوتی تو قرآن مجید لازماً نہایت واضح الفاظ میں اس سے منع کرتا، اس لیے موسیقی اصلاً حلال ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اگر اسے غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ناجائز ہے۔
اس کے بعدجب ہم احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے دو طرح کی روایات آتی ہیں ۔ ایک وہ روایات جن میں موسیقی کی ممانعت کی گئی ہے اوردوسری وہ روایات جن میں موسیقی کی اجازت دی گئی ہے ۔یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ موسیقی کی ممانعت سے متعلق جتنی بھی روایات ہیں وہ سب کی سب ضعیف اورکمزور ہیں۔ مثلاً یہ روایت کہ ’’میں آلاتِ موسیقی توڑنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔‘‘ کنزالاعمال نامی کتاب میں درج ہے اور خود اس کتاب کے منصف لکھتے ہیں کہ یہ ایک کمزور روایت ہے۔
اس کے برعکس موسیقی کے جائز ہونے کے سلسلہ میں جتنی روایات آئی ہیں ، ان میں کئی روایات صحیح ہیں اور وہ نہایت مستند کتابوں میں آئی ہیں۔ مثلاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ جب ایک انصاری کی شادی ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے عائشہ ، کیا تم لوگوں کے پاس گانا بجانا نہیں تھا، گانا بجانا تو انصار کو پسند ہے۔ ۱؂
اسی طرح عامر بن سعد کی روایت ہے کہ ایک شادی کے موقع پر انھوں نے دوصحابیوں کو دیکھا جن کے قریب چند لڑکیاں گانے میں مشغول تھیں۔ عامر نے جب ان سے پوچھا : آپ دونوں حضورکے صحابی ہیں۔ آپ نے بدر کے معرکے میں حصہ لیا ہے اور یہ سب کچھ آپ کے سامنے کیا جارہاہے۔ ’’انھوں نے جواب دیا: ‘‘ آپ چاہیں تو تشریف رکھیں اور سنیں اور اگر چاہیں تو چلے جائیں۔ ہمیں تو شادی بیاہ کے موقع پر کھیل تماشے کی اجازت دی گئی ہے۔ ۲؂
صحیح بخاری کی ایک اور روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عید کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر دو لڑکیوں نے جنگ بعاث کے گیت مزامیر (موسیقی)کے ساتھ گائے۔ اسی طرح مسند احمد و ترمذی کی روایت ہے کہ جب حضور ایک غزوہ سے لوٹے تو ایک خاتون نے آپ کے سامنے دف بجا کر گیت گایا۔
اس بحث سے ہمارے سامنے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ موسیقی بنیادی طورپر جائز ہے۔البتہ اس کا غلط استعمال اس کو حرام بنا دیتا ہے۔ جتنی کمزورروایات ہیں اس کی ممانعت کے متعلق کہا گیا ہے۔ وہ اس لیے کہ ان کے ساتھ شرک ، شراب اور بے حیائی کو شامل کر دیا گیا.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *