بھٹو کے سیاسی قاتل

imad

پاکستان کی سیاست کی تاریخ جب جب لکھی جائے گی ذوالفقار علی بھٹو کا نام ضرور لیا جائے گا.بھٹو کے بعد انکی دختر بینظیر نے بھی والد کی سیاست اور کرشمہ کو زندہ رکھا.وہ بھٹو جسے ایسٹیبلیشمنٹ پھانسی کے گھاٹ اتار کر بھی مار نہ پائی وہ بینظیر جسے گولی مار کر شہید تو کر دیا گیا لیکن اس کی جماعت کو اقتدار میں آنے سے کوئی نہ روک سکا آج کی تاریخ میں بھٹو اور بی بی کی اس جماعت پیپلز پارٹی کا ملکی سیاست سے تقریبا خاتمہ ہو چکا ہے.وہ جماعت جسے فیڈریشن کی علامت سمجھا جاتا تھا آج ایک صوبے کے دیہی علاقوں تک سمٹ کر رہ گئی ہے اور اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے.ضیاالحق اور مشرف جیسے بدترین آمروں کا سامنا کر کے بھی نہ کمزور ہونے والی جماعت آج جس زبوں حالی کا شکار ہے اسے دیکھ کر افسوس ہی کیاجا سکتا ہے. ایک پروگریسو لبرل مرکزی سیاسی جماعت کا یوں سیاست کے میدان سے مٹ جانا یقینا خود جمہوریت کے لیئے بھی کوئی اچھا شگن نہیں.اس جماعت کے یوں سمٹنے اور سکڑنے سے ملکی سیاست میں ایک لبرل اور لیفٹ بازو کی سیاست کا بہت بڑا خلا پیدا ہوا ہے.مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف دونوں جماعتیں رائٹ ونگ کی جماعتیں ہیں اور کم و بیش ایک جیسا ہی منشور رکھتی ہیں.لبرل یا لیفٹ بازو کی جماعت پیپلز پارٹی کی اس زبوں حالی کی آخر وجہ کیا ہے.وہ جماعت جسے فوج مزہبی قوتیں اور مخالف کبھی بھی کمزور نہ کرنے پائے صرف ایک شخص کی غلط اور احمقانہ پالیسیوں کی بدولت آج مرکزی سیاست سے باہر ہو چکی ہے.محترم آصف علی زردادری جو کہ مفاہمتی سیاست کے چیمپیئن بنے پھرتے تھے اور کرپشن و اقربا پروری کی ہوشربا داستانوں کے مرکزی کردار ہیں انہوں نے بھٹو کی اس جماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا. جتنی احمقانہ قسم کی پالیسیاں انہوں نے اختیار کیں اور جسطرح کا طرز حکمرانی انہوں نے 2007 سے 2013 کے درمیان اختیار کیا اس سے لگتا تھا کہ جیسے وہ صرف آج میں جیتے ہیں اور انکے نزدیک انکی جماعت کا کل کوئی مستقبل نہیں.راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی جیسے نا اہل لوگوں کو وزرائے اعظم بنا کر نہ جانے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے . انہیں مفاہمتی سیاست کا چیمپن اور اصلی سیاست کا ماہر قرار دینے والا خوشامدی قصیدہ گو گروه بھی آج منہ چھپائے پھرتا ہے.. پنجاب جو کبھی پیپلز پارٹی کا گڑھ تصور ہوتا تھا آج وہاں صورتحال یہ ہے کہ بیشتر حلقوں میں اس جماعت کو کوئی امیدوار ہی نہیں ملتا اور اگر مل بھی جائے تو چند سو ووٹوں سے زائد ووٹ نہیں حاصل کرنے پاتا.پنجاب میں محترمہ بی بی کے عرصہ حیات میں نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں کانٹے دار مقابلہ ہوتا تھا اور اکثر و بیشتر جیتنے والے امیدوار کی لیڈ محض چند سو ووٹ یا چند ہزار ہوتی تھی.لیکن آج پیپلز پارٹی کے امیدوار تین صوبوں میں ضمانتیں ضبط کرواتے نظر آتے ہیں اور سندھ میں جاگیرداروں اور وڈیروں کے بل پر دیہی علاقوں سے کامیاب ہوتے ہیں.بھٹو کی کامیابی کا راز ان کا عوام کے ساتھ حقیقی معنوں میں رابطہ تھا بی بی نے بھی یہ رابطہ برقرار رکھا یہی وجہ تھی کی بی بی کی زندگی تک پیپلز پارٹی کا جیالا کسی بھی مشکل کی پرواہ کیئے بنا میدان میں نظر آتا تھا.محترم آصف علی زرداری نے اس رابطے کو یکسر انداز کر کے محض اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھا .پیپلز پارٹی کے بڑے بڑے نام اعتزاز احسن رضا ربانی جہانگیر بدر ان سب نے زرداری صاحب کی ناکام پالیسیوں پر مجرمانہ چپ سادھ لی اور نتیجتا پیپلز پارٹی اب ملکی سیاست میں تقریبا ختم ہو چکی.ایک اور فاش غلطی جو اس جماعت نے کی وہ نئی نسل کے ساتھ رابطے کا فقدان تھا .پاکستان کے نوجوان اس وقت ملکی سیاست میں سرگرم عمل ہیں اور انتہائی جزبے کے ساتھ انتخابات میں اپنے اپنے رہنماوں کو ووٹ ڈالتے ہیں.پیپلز پارٹی نے پرفارمنس کے بجائے ماضی کے نعروں پر ہی اکتفا کیا .ایک 90کی دھائی میں پیدا ہونے والے نوجوان کے لیئے بھٹو کے زندہ ہونے سے زیادہ اہمیت سیاسی جماعتوں کے عملی کام کی ہے . اور عملی کام پیپلز پارٹی نے بی بی کی شہادت کے بعد سے اب تک کچھ خاص نہیں کیئے .جن آئینی ترامیم کا کریڈٹ یہ جماعت لیتی ہے ایک ووٹر ان کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتا .پیپلز پارٹی نے مفاہمت کی سیاست کو بھی بالکل نہیں سمجھا. اور خاموش رہ کر ایک خلا پیدا کیا جسے عمران خان نے کامیابی کے ساتھ پر کیا .نواز شریف نے ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگا دیا. یہ جماعت آج بھی نہ جانے کیوں نوشتہ دیوار پڑھنے سے قاصر ہے.عوام اب ووٹ محض نعروں پر نہیں دیتے کرپشن کی بے انتہا کہانیاں جو آصف زرداری سے منسوب ہیں ان کے بوجھ تلے اس وقت پیپلز پارٹی دبی پڑی ہے.ایک سوشلسٹ اور اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ جماعت سے جاگیردارانہ اور پرو ایسٹیبلیشمنٹ جماعت بننے کے دوران اس جماعت نے ان جیالوں کی سپورٹ بھی کھو دی جنہوں نے اپنے لہو سے اس کی بقا کو یقینی بنایا تھا.گو زرداری صاحب وقتا فوقتا مشرف اور ایسٹیبلیشمنٹ کے خلاف بیان داغتے رہتے ہیں لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ پیپلز پارٹی کو تاحال نہیں مل سکاـبلاول کو لانچ کر کے بھی یہ جماعت کوئی خاص عوامی توجہ حاصل کرنے میں ناکام نظر آئی . بھٹو کے اصل وارث میر مرتضی بھٹو کی دختر فاطمہ بھٹو اگر اس جماعت کی باگیں سنبھالتی تو شاید کہانی کچھ مختلف ہوتی لیکن زرداری صاحب کو اپنے والد کا قاتل قرار دیتے ہوئے انہوں نے سیاست میں ہی آنے سے انکار کر دیا. اب اس جماعت کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے.بالخصوص پنجاب میں پیپلز پارٹی کو نئی حکمت عملی اور نئے چہروں کی ضرورت ہے .روٹی کپڑا اور مکان جیسا کوئی نیا نعرہ اور سوشلسٹ پیغام اس جماعت کی سب سے بڑی ضرورت ہے.پیپلز پارٹی کے بزرگ رہنماوں کو بھی اب ناکامی تسلیم کرتے ہوئے سیاست سے ریٹائرمنٹ کی ضرورت ہے تا کہ اس جماعت میں نیا خون شامل ہو سکے.محترم آصف علی زرداری سے یہ جماعت جتنی جلدی پیچھا چھڑوا سکے اتنی جلدی اس کے ریوایو کرنے کے امکانات روشن ہو جاییں گے.ناہید خان جیسے کئی بے لوث کارکن آج بھی اس جماعت کو ایک نئی زندگی بخش سکتے ہیں.زرداری صاحب کو اب یہ سمجھنا ہو گا کہ ملکی سیاست میں ان کے لیئے کوئی جگہ نہیں اور ان کا نام پیپلز پارٹی کے لیئے نقصانات در نقصانات کا باعث بن رہا ہے.بابر اعوان جیسے سانپ پال کر زرداری صاحب نے پیپلز پارٹی کی جڑوں کو کھوکھلا کر ڈالا.وہ جماعت جس کے اپنے رہنماوں کا خون اس کی بنیادوں میں شامل ہے محض چند مفاد پرست افراد کے ہاتھوں یرغمال بن کر سیاست کے میدان سے باہر ہوتی جا رہی ہے. ملک میں اب بھی لبرل سوشلسٹ اور دائیں بازو پرـمشتمل ایک بہت بڑا ووٹ بینک ہے جو پیپلز پارٹی کو ووٹ دینا چاہے گا اگر یہ جماعت حقیقت میں اپنی اصلاح پر آمادہ ہو جائے .بھٹو کو بطور شیلڈ استعمال کرنے کے بجائے اگر یہ جماعت عوامی رابطہ مہم چلائے اور ایک بھرپور رکنیت سازی کی مہم بھی چلائی جائے تو کچھ بہتری کے امکانات ہیں.سندہ میں کرپٹ وزرا اور بدعنوان سرکاری افسروں کے خلاف ایکشن لے کر پیپلز پارٹی نہ صرف اپنا احتساب خود کر سکتی ہے بلکہ اس تاثر کو زائل بھی کر سکتی ہے کہ یہ جماعت کرپشن کو فروغ دیتی ہے.اگر قائم علی شاہ کی جگہ کوئی نوجوان وزیر اعلی سندھ میں لا کر مستعدی سے کام کیئے جاییں تو شاید اگلے انتخابات کے لیئے یہ جماعت دوبارہ مقابلے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے.لیکن ان تمام اقدامات کے لیئے پیپلز پارٹی کی سینٹر ایگزیکٹیو کمیٹی کو فیصلوں میں آزادی و خود مختاری درکار ہو گی.ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگانے والے درباریوں سے نجات حاصل کرنا ہو گی کیونکہ زرداری صاحب آج تک صرف اور صرف اپنی جماعت کے لیئے ہی بھاری ثابت ہوئے ہیں. امید غالب ہے کہ ہم وفاق میں ایک دن اس جماعت کو پھر سے ابھرتا ضرور دیکھیں گے لیکن فی الحال تو وہ بھٹو جسے بڑے سے بڑا آمر بھی نہ مار سکا اس کو زرداری صاحب اور ان کے رفقا نے اپنی ناعاقبت اندیشی اور ناپختہ سیاسی پالیسیوں کے باعث سیاسی طور پر قتل کر دیا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *