رٖضیہ غنڈوں میں پھنس گئی۔ ۔ ۔

imran javed

(عمران جاوید چوہان)
پاکستانی سیاست اور طوائف میں دو مختلف نام ہیں دو مختلف فنکار ہیں مگر دونوں کی منزل ایک ہے دونوں کی نظر ،نوٹوں،پہ جمی ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ سیاستدان قومی خزانے کو لوٹتا ہے اور طوائف اس ملک کے نام نہاد شرفا اور معززین کی جیبوں پر ڈاکے ڈالتی ہے ۔کرپشن پاکستان میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہے جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے سیاسی جماعتوں کی طرف سے شور کیا جاتا ہے کہ جانے والا حکمران ملکی خزانہ لوٹ کر لے گیا خزانہ خالی کر گیا قرضوں کا بوجھ چھوڑ گیا مگر جب وہی سیاستدان اقتدار میں آتا ہے تو سب بھول کر لوٹ مار کو ترجیح دیتا ہے قرضوں پہ قرضے لیے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ وجود پاکستان سے اب تک جاری ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری کی لیڈر شپ میں پانچ سال بھرپور حکومت کرنے کا موقع ملا مگر پیپلز پارٹی کی بدقسمتی رہی یا پھر پاکستانی عوام بدقسمتی تھی کہ مسٹر ٹن پرسنٹ کے نام سے شہرت پانے والی شخصیت آصف علی زرداری کو پاکستان کے قوانین اور سیاسی پارٹیوں نے صدر پاکستان کے عہدے پر قبول کیا آصف علی زرداری نے گو اچھے کاموں میں وزیر اعظم کو صدر کی اس چھری سے رہائی دلائی جو سابق صدور متعدد وزیر اعظموں کی گردن پر چلا چکے تھے مگر ساتھ ہی انہوں نے صدارتی محل میں بیٹھ کر کرپشن اور بدعنوانی کو بھی تاریخی عروج بخشا۔ غیرملکی قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا گیا مگر کرپشن کی چھر ی نہ رکی جس نے ملکی خزانے اوراس ملک کی عوام سمیت تمام سرکاری اداروں کو بے رحمی سے ذبح کیا ۔دہشت گردی افراتفری ،لٹ مار،بجلی و سوئی گیس کی بے انتہاء لوڈشیڈنگ سمیت ان گنت بحرانوں نے پاکستان کو پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں اس طرح دبوچ لیا کہ پاکستان آج بھی نا کردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے اس دوران ،،مک مکا،،کے پانچ سال پورے ہونے کے بعد ن لیگ کے شیروں نے چیختی ،چلاتی،روتی ،کرلاتی،عوام کے زخموں پر جھوٹے نعروں کا مرہم رکھتے ہوئے بلند و بانک دعوئے کرتے ہوئے آصف علی زرداری اسکے لٹیرے ساتھیوں کا احتساب کرنے اور لوٹی ہوئی دولت واپس ملک میں لانے کے دعوے کیے چوکوں میں الٹا لٹکانے،گلیوں میں گھسیٹنے،اور پیٹ پھاڑ کر کروڑوں ڈالر نکالنے کے جذباتی فیصلے بھی عوامی اجتماعات میں کیے گئے۔عوام ایک بار پھر میاں نوز شریف کی تقریروں پر لڈیاں ڈالتی پاکستان کی تقدیر بدلنے کا سپنا دیکھنے لگی مسلم لیگ ن نے اقتدار حاصل کرتے ہی عوام کو یوں بھلا دیا جیسے دور نزدیک کاواسطہ ہی نہ ہو اور کئی سال ملکی خزانے سے دور جلا وطنی کی زندگی گزارنے والوں نے اپنے عزیزواقارب کے ہمراہ ملک و قوم کے خوابوں کو چکنا چور کرنا شروع کر دیا کیونکہ عام آدمی کو میٹرو بس،میٹرو اورینج ٹرین،بڑی بڑی عمارتوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے انکے بنیادی مسائل پینے کا صاف پانی فری اور انٹرنیشنل لیول کے مطابق تعلیم ،بے روزگاری کا خاتمہ ،ملازمتین،زراعت کی خوشحالی،صحت عامہ کی بنیادی سہولیات،امن اور تحفظ کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف ہے ۔جسے پورا کرنے میں مسلم لیگ ن بری طرح ناکام ہو چکی ہے پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں اسی فیصد عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہے غریب اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتا،تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں پکڑے سڑکوں کی خاک چھان رہے ہیں اور ہر دن خود کشیوں کی طرف
بڑھ رہے ہیں ہسپتالوں میں ادویات اور صحت عامہ کی سہولیات کے نام پر غریب کی غربت کا مذاق اڑایا جاتا ہے جسکی وجہ سے ہسپتالوں میں لوگ ایڑیاں رگڑ رغر کر مر رہے ہیں ۔زراعت کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے دھان،مکئی،آلو،گنا،چاول سمیت کسی بھی فصل کو خریدار میسر نہیں ہے اگر کوئی خریدار ہے تو ریٹ اس قدر کم کر دیے گئے ہیں کہ کسان فصل بجوائی کرنے کی سکت کھو چکا ہے سرکاری اداروں میں رشوت اور کرپشن فیشن بن چکا ہے امن پر سیاست کی جا رہی ہے عوام کے جان و مال کا تحفظ خواب بن کر رہ گیا ہے پولیس کو غنڈہ بنا کر سیاسی مخالفین،وکلاء،اور صحافیوں کو نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں نہ صرف دبایا جا رہا ہے بلکہ ان پر مقدمات کا خوف طاری کر کے زبانیں ،،گنگ،،کروا ئی جا رہی ہیں ۔ایسا پاکستان تو کبھی بھی نہ چاہا تھا جس میں عام آدمی اور پڑھے لکھے طبقہ سمیت علم و ادب سے تعلق رکھنے والوں کی دستاریں اچھالی جا رہی ہیں جہاں کرپشن کو ختم کرنے کے دعویدار خود ہی نیب جیسے احتسابی ادارے پر برس پڑیں؟جہاں مخالفین کے خلاف نیب اور ایف آئی اے گھیرا تنگ کرے تو ملکی بقاء اور استحکام کا درس دیا جائے اور اگر اپنے یاروں کی طرف احتساب کا ادارہ بڑھنے تو شرفا کی پگڑیاں اچھلنے لگیں۔ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان کوئی ایسا لیڈر میسر نہیں آ سکا جس کے نزدیک ملک و قوم اور عدل و انصاف ہی سرمایہ حیات ہو ۔سب ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھنے والے آدم خور درندے ہیں ایک کے خونی پنجوں سے عوام نکلتی ہے تو دوسرا گردن دبوچنے آ جاتا ہے ۔رہی سہی کسر نیا پاکستان بنانے کا نعرہ لگانے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف نکال رہی ہے خیبر پختونخوا میں جس طرح صوبائی وزرا نے کرپشن کے ریکارڈ قائم کیے ان کی مثال نہیں ملتی ایک آدھ احتساب ادارہ کے ہتھے چڑھا اور کئی بے نقاب ہونے کے خدشات لاحق ہوئے تو فوری صوبائی احتساب ادارہ کے اختیارات چھین کر ،،لولا لنغرا،،کر دیا گیا۔یہی وفاق کر رہا ہے تو پھر فرق کہاں ٹھہرا؟پہلے ملک و قوم کو لوٹنے کے لیے دو سیاسی گینگ وار گروہ کام کر رہے تھے اب تیسرا گروہ بھی ان میں جگہ بنا چکا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ’’رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی ہے۔۔۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *