پشاور کے  خواجہ سرا،سب سے مہنگے کرایہ دار

anwar zaib

دورحاضر میں  جہاں  عام   لوگ روزگار،تعلیم، زندگی  کی بہتر سہولیات  اور دیگر اسائشوں سے  مستفید ہونے کے خاطر  شہروں  کا رخ کرتے ہیں  وہی   خواجہ سرا بھی   ان مقاصد کے خاطر  بڑے بڑ ے شہروں کا رخ کرتے ہیں ان شہروں میں ایک شہر پشاور بھی ہے ۔ جہاں پر اس بے ضرر    طبقہ  کو اکثر  امتیازی  سلوک کا سامنا  کرنا پڑتا ہے۔شادی بیاہ  اور دیگر  خوشی کے مواقع ان لوگوں کے بغیر ادھورے لگتے ہیں۔تاہم تقریب ختم ہونے کے بعد  راستے میں خواجہ سراووں کے ساتھ حادثہ نہ ہو  نا  پشاور میں کسی معجزے سے کم نہیں ۔گزشتہ ایک مہینہ کے دوران  لوگوں  کے چہروں  ہنسی لانے  دس سے ذیادہ   خواجہ سراوں کو شہر کے مختلف مقامات  پر  تشدد  کا نشانہ بنایا گیا۔ عدنان  نامی خواجہ سرا  فائیرنگ میں زخمی ہوا ۔تو پاروں کے کسی نے وہ  بال منڈوائے جو  انکی کل اثاثہ تھیں۔

گزشتہ روز سوات میں بھی درجنوں خواجہ سراووں نے پولیس اور اہل محلہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔انکا شکوہ تھا کہ پولیس انہیں زبردستی   اپنی گھروں  سے نکلنے پر مجبورکرتے ہیں ۔

پشاور میں آئے روز  خواجہ سراووں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات  کے علاوہ یہاں کے خواجہ سرا  سب سے ذیادہ کراِیہ  دینے والے کرایہ دار میں سے  ہیں ۔ہشتنگر ی میں رہائیش پذیر  خواجہ سرا بارہ فٹ لمبی اور 10 چھوڑی بغیر  باتھ روم  کے  ایک کمرے سترہ ہزار روپے ادا کرتے ہیں۔یہ کمرے اکثر دوسری اور تیسری منزلkhawaja saraaa پر واقع ہیں    جہاں پر چڑنے کے لئے  لوہے کی سیڑھیاں استعمال کرتے ہیں جو کہ کسی امتحان سے کم نہیں ۔خرچہ کم آنے کے خاطر ایک ایک کمرے میں  پانچ پانچ خواجہ سرا رہائیش پذید ہوتے ہیں۔اس پلازہ میں  جنریٹر کی سہولت بھی موجود نہیں ۔سیکیورٹی کی یہ صورتحال ہے کہ جوبھی  جس ٹائم چاہے انکے کمروں میں داخل ہوسکتے ہیں ۔

خواجہ سرا ایسوسی ایشن خیبر پختون خوا  کے صدر فرزانہ کے مطابق  خیبر پختون خوا میں  خواجہ سراووں کی تعداد   40 ہزار کے  قریب ہے جبکہ پشاور میں  ان کی تعداد  آٹھارہ سو زیادہ    ہیں تاہم ایسوسی ایشن کے ساتھ  رجسٹرڈ خواجہ سرا  وں کی تعداد پانچ سو ہیں جس میں بیشتر کو رہائش کا مسلئہ درپیش ہے۔جہاں پر بھی یہ لوگ رہتے وہاں پر چوبیس گھنٹے منچلوں، بدمعاشوں اور  غنڈوں  کا جم غفیر ضررو ہوگا۔ ان تنگ و تاریک  کمروں کی کرایہ ذیادہ ہونے کی واحد   وجہ  ان لوگوں کا عام انسانوں  سے  بائیولاجیکلی مختلف ہونا ہے ۔ شہر  کے  پوش مقامات   میں کوئی جگہ نہیں   جہاں تفریح میسر کرنے والے یہ  لوگ ارام اور محفوظ زندگی گزاریں ۔لوگ انکو کرایہ پر مکان یا فلیٹ دینے کو تیار نہیں ۔

عام لوگوں کا ایک خام خیالی یہ بھی ہے کہ خواجہ سرا  ایک تقریب میں ہزاروں کماتے ہیں اورہر وقت مزوں رہتے ہیں ۔  تاہم  انکی راہائیش گاہ پر  جانے سے پتہ لگتا ہے کہ یہ لوگ کس قسم قابل رشک زندگی  بسر کررہے ہیں۔ ہر وقت غیر محفوظ ،گاہکوں کا انتظار ،والدین اور رشتہ داروں سے دوری     جیسے احاسات تب محسوسس ہوتے ہیں جب اپ ان  یہ پوچھے  کہ اپ کا تعلق کس علاقہ سے ہے اور ماں باپ کہا ں ہیں اور کیوں یہاں پر آئے ہو ۔اورپھر انکے  گھر سے نکلنے  والے دلخراش واقعات ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *