ٹُٹے برج لہور دے۔۔۔

column kahani.noshi gillani

آج کل ہمارے سیاستدانوں ، سول سروسز، میڈیا بلکہ تمام حلقوں میں 'ایان علی‘ کی طرح ’نیب‘ بھی ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے ۔ اور حُسنِ اتفاق کہ اس بار یہ تذکرہ کرپشن کے خاتمہ کے حوالے سے ہے اور عوام و خواص یقین و بے یقینی کے درمیان معلّق ہیں جسے حیران و پریشان بھی کہا جا سکتا ہے-روّایت تو یہ رہی ہے کہ کویٔ بھی معاملہ جب نیب کے آنگن میں چلا جاتا تھا تو کرپشن کرنے والا سُکھ کا سانس لیتا تھا کہ اب معمولی بھاؤ تاؤ کے بعد تحفظ مل جاۓ گا اور کرپشن کا شکار طبقہ سوچنے پر مجبور کر دیا جاتا تھا کہ اب صبر ہی مقدر ہے۔ اَن گنت لوگوں کو بوریاں بھر بھر نوٹوں کے ساتھ ملک سے فرار ہو کر عیاشی کرتے دیکھا یا مُلک میں ہی عظیم الشان زندگی گزارتے برداشت کیا ۔یہ سلسلہ کئی دہایٔیوں سے جاری ہے۔ یہی معاشرتی و اقتصادی نا انصافیاں تھیں جن کے باعث پاکستان کا ایک پڑھا لکھا طبقہ تھک ہار کر اپنے حقوق سے دستبردار ہوتے ہوۓ مُلک سے باہر جاتا رہا ۔۔ چاہے کتنے ہی جذباتی یا ثقافتی سمجھوتے کرنے پڑے جو کسی طرح بھی سہل نہیں ہوا کرتے ۔ زمیں تنگ ہو جاۓ تو ہجرت کے سِوا اور راستہ بھی کیا رہ جاتا ہے۔ یعنی دو طرح کے لوگ پاکستان چھوڑ کر چلے گیٔے، ایک وہ جنہوں نے سسٹم کو جی بھر کے لُوٹا اور ایک وہ جوبُرے طرح لُوٹ لیے گئے۔ جو گئے سو گئے ، باقی ماندہ استحصالی طبقہ مسندِ سیاست و ریاست پر براجمان ہو گیا اور اس نے عوام کی شہہ رگ پر اپنے پنجے گاڑ دیٔے پھر خُون چُوسنے کا کبھی نہ ختم ہونے والا یہ سلسلہ شروع ہو گیا جو اب بھی جاری ہے اور جانے کب تک رہے گا۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ اداروں ، سکولوں ، کھیتوں ، کھلیانوں ، بستیوں اور شہروں کے نقشے بدلتے گئے۔
گزشتہ کچھ برسوں سے ، کبھی میٹرو بس ، کبھی کسی پُل اور کبھی اورنج ٹرین لائن کے نام پر لاہور کے تاریخی خدوخال مسمار کیٔے گیٔے ۔ لوگوں کے کچے پکّے گھروں کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔ لا ہور جیسے شہر جس کے تاریخی مقامات پر پر صدیوں کے نقوش ثبت تھے۔۔ جن کی چھتوں اور دالانوں میں خوش جمال کبوتر اپنی میٹھی بولیوں اور مَست اُڑانوں سے محبت کی داستانیں سُناتے تھے وہاں اب مٹی کے ڈھیر پڑے ہیں۔ کبھی جہاں اُچّے بُرج لہور دے تھے آج ٹُٹّے بُرج لاہور دے بن چکے ہیں اور کویٔ پرسانِ حال نہیں۔ ان بُرجوں کے نیچے زمانوں سے جانے کتنے ہی انسان آباد تھے اور ان کیے اوپر جانے کتنی ہی فاختایٔیں کتنی ہی چڑیاں اپنے گھونسلے بناۓ بیٹھی تھیں ۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ پرندوں کی دعایٔیں لی جایٔیں تو بَلایٔیں ٹل جاتی ہیں اور پرندوں کے بسیرے اُجاڑے جایٔیں تویہ بددعا دیتے ہیں جو اجاڑنے والوں کے لیٔے آفتوں کا باعث بنتی ہیں ۔۔ تو کیا زمین و آسمان کے درمیان فاصلے زیادہ ہو گیٔے ہیں کہ انسان تو کیا پرندوں کی دعا و بددعا کی رسائی بھی نہیں ہو پاتی ؟۔۔ دراصل یہ بے چہرہ ضمیر رکھنے والے حاکم پاکستان کی تاریخ کو بےچہرہ کر دینا چاہتے ہیں۔
انسان کو قبضہ کی خواہش انسانیت سے دُور کر دیتی ہے، چاہے وہ کسی شہر پر ہو یا کسی شخص پر۔ اپنی طاقت بڑھانے کا جنون اور اُس بڑھتی ہویٔ طاقت کو محسوس کرکے خوش ہونے کی ہوس بڑی خون آشام ہوتی ہے۔ اور اس نفسیاتی پیچیدگی کی وجہ سے ہی شوہر جو محافظ ہوتا ہے بیوی کو قتل کر دیتا ہے ، بیٹا باپ کی جان لے لیتا ہے، بھایٔ اپنے سگّے بھایٔ کی بیوہ کی عصمت دری کرتا ہے ،ایک زندہ وجود دوسرے زندہ وجود کی آنکھیں نکال لیتا ہے،کان اور ٹانگ کاٹ دیتا ہے ۔ ایک عورت دوسری عورت کے لیٔے جہنم تیار کرتی ہے، معصوم بچوں کو جنسی تشّدد کا نشانہ بنا کر گلہ دبا دیا جاتا ہے۔ دنیا میں جتنے مافیا بنے، جتنی جنگیں ہویٔیں ، جتنے مظالم توڑے گیٔے ان کے پس منظر میں یہی قابض ہو جانے کا جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ لامحدود طاقت حاصل کر لینے کا خبط کسی کو بھی اُس آخری سانس کے بارے میں سوچنے نہیں دیتا کہ جس کے بعد سب بے معنی ہو جاۓ گا۔۔۔ یہ زندگی کی ہما ہمی ایک مغالطہ ہی تو ہے ۔
یوں تو کراچی بھی بدترین تباہ حالی کا منظر پیش کرتا رہا ہے ، بلدیہ ٹاؤن کا واقعہ ہی دیکھ لیں کہ بھتّہ نہ دینے کی پاداش میں چند لوگوں نے ایک فیکٹری کے ہر دروازے کو تالے لگا کر نذرِ آتش کر دیا گیا۔ اُس وقت فیکٹری کے اندر موجود لوگ کس عذاب سے گزرے ہوں کے ۔ وہ زندہ وجود جب آگ کی زَد میں آۓ ہوں گے تو کیا کیا نہ بچنے کی تدبیریں کی ہوگی۔ وہ مرد ، عورتیں اور بچے کیسی کیسی اذیت سے نہ گزرے ہوں گے۔ ۔ سوچو تو سانسیں دُکھنے لگتی ہیں ۔ آگ لگانے والے اور اُن کے آلۂ کار حماد صدیقی جیسے سکون میں ہیں یا نہیں لیکن آزاد ہیں ، زندہ ہیں ۔ ۔ کیوں ؟ ۔ ایسے تمام گروہوں کے سربراہان ٹی وی ٹاک شوز میں بُلاۓ جاتے ہیں ، اُن سے سیاسی و غیر سیاسی ’ دیانتدارانہ تجزیٔے‘ کرواۓ جاتے ہیں ۔ یہ صاحبان اپنے چھوٹے بڑے بازو نکال نکال کر حلق پھاڑ پھاڑ کر اپنی صد سالہ مظلومیت کے رونے روتے ہیں اور اینکرز یا تو اپنے ذہن میں آیٔندہ ان حاصل کیٔے جانے والے مفادات کی فہرستیں بنا رہے ہوتے ہیں۔۔ یا تیکھے جملوں سے ماحول گرما رہے ہوتے ہیں ۔۔ یا پھر ہنس رہے ہوتے ہیں ہیں شاید کبھی اُن پر اور کبھی اپنے آپ پر کہ یہ ان کا ذریعۂ معاش بھی ہے ۔ ۔ ۔ اور ’ روٹی تو کسی طور کما کھاۓ مچھندر‘ ۔
بات شہر لاہور کی ہو رہی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ مال روڈ کو پھولوں سے سجانے والے عقابی آنکھ رکھنے والے والیٔ شہر کیا اُن علاقوں سے واقف نہیں جن پر گزرتے سالوں میں پولیس کی مدد سے غنڈوں نے قبضے کر رکھے ہیں اور وہاں رہنے والے تو سفید پوشی کی زنجیروں میں مقید کسی نی کسی طرح سے دن سے رات کر رہے ہیں لیکن دوسرے علاقوں سے آنے والوں کو سہم سہم کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ غنڈوں کے یہ گروہ بتدریج اس شہرِ زندہ دلاں کو ’لیاری‘ بناتے جا رہے ہیں ہیں۔ چند دن پہلے سمن آباد کے علاقے میں دو دہشت گرد گروہوں کی لڑائی ہوئی اور گنجان آباد علاقہ میں اتنی بے دریغ گولیاں چلایٔ گیٔیں کہ ایک مکان کی چھت پرکھڑے دو بچے بھی ان کا نشانہ بن گیٔے اور دم توڑ گئے۔۔ اب سمجھ نہیں آتی کہ انہیں شہید کہا جاۓ یا نہیں ۔۔۔ یہ تمام جبری شہادتیں ہیں جو پھولوں جیسے بچوں پر مسلط کر دی گئی ہیں۔۔ کیا حال ہوا ہوگا اُس پنجاب کی بیٹی کا جس کے دو معصوم اُس کے سامنے خون میں نہاۓ بے جان پڑے ہوں گے ۔۔۔۔۔۔!!!
اَج آکھاں وارث شاہ نوں
کِتوں قبراں وِچوں بول
تے اَج کتابِ عشق دا
کویٔ اگلا وَرقا پَھول
اِک رویٔ سی دھی پنجاب دی
تُوں لِکھ لِکھ مارے وَیہن
اَج لَکھّاں دِھیّاں روندیاں
تینوں وارث شاہ نُوں کہن
وے درد منداں دے دَردیّا
اُٹھ تَک اپنا پنجاب
(امرتا پریتم)

ٹُٹے برج لہور دے۔۔۔” پر ایک تبصرہ

  • فروری 23, 2016 at 7:28 PM
    Permalink

    kin logo k liye itni behtreen tahreer likh di aap ne kya faida ho ga ulta kal kalaaan aap ko hi gaalyaaaan parein gi in zinda dailaan e lahore se or dosrey shehroon k logoon se kyun k in k andar maojooood insaniyat naam ki jo cheez ha wo khatam ho chuki ha warna wo in bad-kamaash or beghairat logoon ko har dafa vote hi kyun dete or agar kabhi in se baat ki jaey to galyaan sunni parti hein k wo theek kar rahey hein koi ghalt sabat kar k dikhaey

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *