ناشتہ نہ کرنے کی عادت فالج کے خطرے سے دوچا کرسکتی ہے

Breakfast

اگر آپ موٹاپے کے ڈر سے ناشتے سے گریز کرتے ہیں تو بری خبر یہ ہے کہ یہ عادت زیادہ سنگین مرض کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ جی ہاں ناشتہ نہ کرنا فالج جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ یہ بات جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ اوساکا یونیورسٹی کے ماہرین کی 13 سالہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ناشتہ چھوڑنے کی عادت موٹاپے کے ساتھ ساتھ فالج کا خطرہ 30 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔ اس تحقیق کے دوران 45 سے 74 سال کی عمر کے 80 ہزار مرد و خواتین کی ناشتے کی عادات کا جائزہ لیا گیا جن میں اس سے قبل کینسر یا خون کی شریانوں کے امراض کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ہفتے میں 5 بار ناشتہ نہیں کرتے ان میں برین ہیمرج (دماغ میں خون کی شریان پھٹ جانا) کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق کے درانیے کے دوران 4 ہزار کے قریب افراد کو فالج کا سامنا ہوا، 870 کو دل کے مسائل کی شکایت ہوئی۔ محققین ناشتہ نہ کرنے اور امراض قلب کے درمیان کوئی تعلق تو دریافت نہیں کرسکے مگر انہوں نے فالج اور صبح کی پہلی غذا کے درمیان تعلق ضرور ڈھونڈ لیا۔ محققین نے کہا ہے کہ ہفتے میں محض ایک بار ناشتہ کرنا برین ہیمرج کا خطرہ 36 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صبح کے وقت جب کوئی شخص اٹھتا ہے تو بلڈ پریشر عام طور پر بڑھنا شروع ہوتا ہے اور 2 سے 3 گھنٹے تک عروج پر پہنچ جاتا ہے جو ایک معمول کا عمل ہے تاہم ناشتہ نہ کرنا بلڈ پریشر کی شدت میں اضافہ کرتا ہے اور ایسا طویل المعیاد بنیادوں پر ہو تو فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *