لڑکی کو حاصل کرنے کےلیے جعلی عاملوں کے پاس جانے والے نوجوان کے ساتھ کیا ہوا، پڑھئے!

amil

جعلی عاملوں نے عاشق سے لاکھوں روپے اینٹھ لئے مگر اس کے دل کی مراد پوری نہ ہو سکی۔ ڈھونگی بابائوں کے   ہاتھوں لٹنے والے جنید کی داستان اس کے ایک دوست بلال کی زبانی قارئین کی نذر ہے۔ اس نے پہلی بار اکیڈمی میں رابعہ کو دیکھا تو بس دیکھتا ہی رہ گیا۔ دبلی پتلی، گوری چٹی، بی اے کی طالبہ 19 سالہ رابعہ اتنی پیاری تھی کہ اس کی سہیلیاں پیار سے اسے ایشوریا رائے کہا کرتی تھیں اور لاہور کی وہ ایشوریا رائے بہاولپور کے ایک زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ 20 سالہ جنید کو پہلی نظر میں ہی پسند آگئی جو پنجاب یونیورسٹی سے بی اے آنرز کر رہا تھا۔ اگلے چند روز میں رابعہ نے بھی محسوس کر لیا کہ وہ جتنی دیر اکیڈمی میں رہے، جنید کی نظریں اسی کا طواف کرتی رہتی ہیں۔ دھیرے دھیرے وہ ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ پہلے دوستی ہوئی جو جلد ہی محبت میں بدل گئی۔ یہ محبت اتنی اندھا دھند تھی کہ اڑھائی تین مہینوں کے اندر جنید نے اپنے والدین کو رابعہ کا رشتہ مانگنے کے لئے اس کے گھر اقبال ٹائون جانے پر مجبور کر دیا۔ رابعہ کے والدین نے بچی کی کم عمری اور کچھ دیگر مسائل کا عذر پیش کرتے ہوئے فوری جواب دینے کی بجائے سوچنے کے لئے کچھ وقت مانگ لیا۔ چونکہ دونوں گھروں کا رابطہ ہو چکا تھا سو اسی بہانے جنید کی رابعہ کے گھر آمدورفت شروع ہو گئی۔ ادھر رابعہ کی پانچ بہنیں اور بھی تھیں اور گھر میں مالی وسائل بھی تھے، اس لئے رابعہ اور اس کی دو بڑی بہنوں نے اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے کے لئے ایک کال سینٹر میں جاب شروع کر دی۔ ادھر جنید کو رابعہ سے ایک پل کی دوری بھی گوارا نہ تھی۔ سیکڑوں اراضی کا اکلوتا مالک ہونے کے باوجود محض رابعہ کے قریب رہنے کے لئے اس نے اسی کال سینٹر میں نوکری کر لی۔ ان جنید رات بھر کال سینٹر میں کام کرتا اور صبح یونیورسٹی چلا جاتا۔ اس روٹین سے اس کی پڑھائی متاثر ہونے لگی، لیکن رابعہ کی خاطر وہ یہ قربانی دینے کو بھی تیار تھا۔ یہاں ان کے ابتدائی ہفتے تو بڑے خوشگوار گذرے لیکن پھر کال سینٹر کا مینجر مدثر بیچ میں آ گیا، جس کی پہلے د سے ہی رابعہ پر نظر تھی۔ مدثر نے بحثیت مینیجر رابعہ پر نوازشات شروع کر دیں۔ دفتری کام کاج میں اس کے لئے آسانیاں پیدا کیں۔ ایک دو بار اسے اپنے ساتھ کھانے کی بھی دعوت دی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ رابعہ نے مدثر کے ساتھ بھی اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا۔ جنید بھلا یہ سب کیسے گوارا کرتا۔ اس نے رابعہ دو چار بار ٹوکا تو وہ نہ صرف خفا ہوئی بلکہ اس نے چڑ کر مدثر کے ساتھ تعلقات بڑھانے شروع کر دئیے۔ حتیٰ کہ آفس میں یہ بات پھیل گئی کہ رابعہ اور مدثر عنقریب منگنی کرنے جا رہے ہیں۔ رابعہ کسی اور کی ہو جائے، جنید کے لئے تو ایسا سوچنا بھی سوہان روح تھا۔ وہ رابعہ اور مدثر کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں سے اس قدر پریشان ہوا کہ اس نے ایک روز رابعہ کے گھر جا کر اس کے پائوں پکڑ لئے۔ لیکن رابعہ پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ پہلے تو وہ اور مدثر آفس میں ملتے تھے لیکن اب مدثر ان کے گھر بھی آنے جانے لگا۔ دوسری طرف جنید، رابعہ کے لئے پاگل ہوا جا رہا تھا۔ اس کا یہی پاگل پن اسے ایک جعلی عامل کے پاس لے گیا۔ ملتان روڈ کے علاقے ہنجروال میں رہائش پذیر  نابینا بابا کے نام سے مشہور اس ادھیڑ عمر عامل کے تعویذ بہت مشہور تھے، پھر جنید کے پاس پیسے کی کمی نہیں تھی۔ اس نے نابینا بابا کو اپنا مسئلہ بتایا تو ڈھونگی بابا نے اسے چھ ہزار روپے کے عوض ایک تعویذ دے کر کہا اسے رابعہ کے گھر کے سامنے کسی جگہ باند دو۔ لڑکی خود چل کر تمہارے پاس آئے گی۔ اسی دوران اتفاقاً رابعہ نے ایک آدھ بار جنید سے ہنس کر بات کی تو وہ نہ صرف تعویذ کا قائل ہو گیا بلکہ اگلے ہی روز بابا کے پاس جا پہنچا۔ جعلی عامل نے کہا کہ اب وہ اسے ایسے تعویذ دے گا کہ رابعہ جنید کے پائوں دھو کر پئے گی۔ اس نے جنید کو دو تعویذ دئیے۔ ایک تعویذ پانی سے بھری بالٹی میں ڈال کر جنید نے اس سے نہانا تھا اور دوسرا تعویذ اس نے اپنے تکئے کے نیچے رکھنا تھا۔ بابا نے ان دونوں تعویذوں کی 30 ہزار روپے فیس وصول کی۔ اتفاق سے انہی دنوں رابعہ اور مدثر کی کسی بات پر لڑائی ہو گئی۔ رابعہ نے دوبارہ جنید کو لفٹ کرانی شروع کر دی، جسے جنید نے تعویذوں کا کمال سمجھا۔ اس نے بابا کے پاس حاضر ہو کر ساری روداد سنائی اور کہا کہ اب لوہا گرم ہے، اس لئے آخری ضرب لگانی چاہئیے۔ لہذا ایسا تعویذ دیں کہ اس کی جلد از جلد رابعہ سے شادی ہو جائے۔ نابینا بابا نے جنید سے کہا کہ اس کے لئے بڑا سخت تعویذ لکھنا پڑے گا۔ جس کے لئے ایک لاکھ بیس ہزار فیس دینا ہوگی۔ جنید کے لئے پیسوں کا کوئی مسئلہ نہ تھا اس نے تین قسطوں میں بابے کی فیس ادا کر دی۔ لیکن اسی دوران مدثر اور رابعہ کے تعلقات نہ صرف بحال ہو گئے بلکہ دونوں گھروں کی باہمی رضامندی سے ان کا رشتہ بھی طے ہو گیا اور شادی کی نیاریا ہونے لگیں۔ یہ پہلا موقع تھا جب جنید نہ صرف رابعہ سے مایوس ہوا بلکہ اس نے اسے اپنی شدید ہتک محسوس کی۔ اس کے اندر کا زمیندار جاگ اٹھا۔ اب وہ ایک نئی فرمائش لے کر بابا کے پاس پہنچا۔ اس سے پہلے کہ رابعہ مدثر کی ہو جاتی، وہ رابعہ کو بے آبرو کرنا چاہتا تھا۔ اب کی بار بابا نے اسے ایک تعویذ دیا کہ اسے اپنی ناف کے عین اوپر باندھ لو۔ لڑکی خود چل کر تمہارے پاس آئے گی۔ اس نے نئے تعویذ کی فیس 50 ہزار روپے وصول کی تھی۔ جنید تعویذ باندھے کئی روز تک رابعہ کی راہ تکتا رہا۔ لیکن وہ اس کے پاس آنے کی بجائے مدثر کی دلہن بن کر اس کے گھر چلی گئی۔ اس شادی نے جنید کے عشق و محبت کو انتقام میں بدل دیا۔ اب وہ ہر وقت یہی سوچتا رہتا کہ کس طرح رابعہ کا گھر اجاڑے۔ نابینا بابا سے وہ پہلے ہی مایوس ہو چکا تھا۔ لیکن انتقام کی آگ اسے بند روڈ پر راوی کنارے، کالے علم کے عامل طارق شاہ کے پاس لے گئی، جس نے 70 ہزار روپے کے عوض جنید کو دو تعویذ دئیے۔ طارق شاہ نے پہلا تعویذ دیا کہ رابعہ ماں نہیں بنے گی، اور واقعی وہ تعویذ موثر ثابت ہوا ۔ اگلے دو سال تک رابعہ ماں نہ بن سکی ، حتیٰ کہ ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا۔ عامل نے اگلا تعویذ طلاق کے لئے دیا۔ جس کے نتیجے میں مدثر اور رابعہ میں صبح و شام جھگڑے ہونے لگے۔ چونکہ جنید نے ان کے بارے میں مکمل خبر رکھی ہوئی تھی، اس لئے اس نئی ڈویلپمنٹ پر بڑا خوش ہوا۔ لیکن رابعہ کی قسمت اچھی نکلی۔ اسی دوران اس کے سسرال میں کسی بڑے نے مدثر کو کسی اللہ والے سے ملنے کو کہا۔ کسی جاننے والے کے توسط سے مدثر اپنی بیوی کو لے کر گوجرانوالہ کے ایک بزرگ کے پاس حاضر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ رابعہ پر کالا جادو کیا گیا ہے۔ روحانی علاج شروع ہوا۔ کالے جادو کا توڑ کیا گیا تو حالات میں بہتری آنے لگی۔ یہاں تک کہ رابعہ کی گود بھی ہرہ ہو گئی۔ شادی کے تین سال بعد وہ ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔ یہ خبر سن کر جنید کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ جسے اجاڑنا چاہتا تھا اللہ نے اس کے گلشن میں پھول کھلا دیا۔ انتقام کا جذبہ جنید کو بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ اب کی بار اس نے ایک عیسائی عامل سے رابطہ کیا۔ جس نے گلشن راوی کے قریب ایک مسیحی قبرستان میں ڈیرہ لگا رکھا تھا۔ اس شخص نے رابعہ کو طلاق دلوانے کے وعدے پر جنید سے ایک لاکھ سے زائد روپے بٹورے۔ لیکن ڈھاک کے وہی تین پات۔ رابعہ کا گھر تو آباد رہا۔ لیکن جنید کی پڑھائی بھی ختم ہوئی۔ وہ سگریٹ پہ سگریٹ سلگاتا رہتا اور رابعہ کا گھر اجاڑنے کی ترکیبیں سوچتا رہتا۔ رابعہ کے اب دو بیٹے ہیں اور وہ اپنے گھر میں خوش ہے۔ جنید لاہور سے گھر واپس جانے کو تیار نہیں تھا۔ اس کے والد بڑی مشکلوں سے اسے واپس لے کر گئے اور اب انہوں نے اسے دبئی بھجوا دیا ہے تاکہ وہ لاہور سے دور ہو جائے ۔ شاید اسی طرح اسے کچھ قرار آ جائے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *