جناب وزیراعظم ....یہ خاموشی کب تک ؟

Ashraf qاشرف قریشی

سابق صدر پرویز مشرف کے ایک ساتھی لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے ”یہ خاموشی کب تک “ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں پرویز مشرف کے جرائم کی ایک فہرست مرتب کی ہے اور اس کا ساتھ دینے پر اظہار شرمندگی کیا ہے ۔ ابتدائی طورپر تو میں اس سے متفق نہیں تھا کہ حاضر نوکری کے وقت ملک وقوم کے خلاف جرائم کرلئے جائیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد اس پر پچھتاوے کا اظہار کیا جائے۔ میرے نزدیک یہ وہ مکا ہے جو جنگ کے بعد یاد آنے پر اپنے ہی منہ پر رسید کیا جاسکتا ہے، لیکن اب مَیں نے اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا ہے۔ مجھے خیال آیا کہ ہدایت کے لئے ہادی مطلق کی طرف سے ایک وقت مقرر ہے، وہ خوش نصیب ہیں، جنہیں بروقت ہدایت نصیب ہوجائے، لیکن تاخیر سے بھی ہدایت نصیب ہونا غنیمت ہے۔ غلطی پر پشیمانی ، پچھتاوا اور توبہ بہرحال ایک مستحسن عمل ہے۔ کفر کے بعد ایمان، گمراہی کے بعد ہدایت، پچھلے گناہوں اور کفر کی تلافی بن سکتے ہیں، اس کے برعکس ایمان کے بعد کفر اور ہدایت کے بعد گمراہی نہایت بری صورت حال ہے، اللہ اس سے بچائے۔ پہلے والا شخص بہرحال دوسرے والے سے بہتر ہے ۔

پرویز مشرف کے بارے میں کسی کو یہ خوش گمانی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عدالت سے بچنے کے حربے استعمال کرنے میں کامیاب ہے۔ دراصل وہ مارنے سے زیادہ گھسیٹے جانے کی سزا بھگت رہا ہے۔ اس سزا کو وہی طول دے رہے ہیں جو اس سے کروڑوں کی فیس حاصل کررہے ہیں۔ مشرف کے وکلاءاس انداز میں مقدمہ لڑرہے ہیں جس انداز میں ذوالفقار علی بھٹو کے وکلاءنے ان کا مقدمہ لڑا تھا۔ وہ چالاکیاں دکھاتے، عدالت کو دھمکاتے اور تقریریں کرکے انہیں ایشیا کا عظیم لیڈر ثابت کرنے میں لگے رہے اور ایم انور بار ایٹ لا مرحوم نے ذوالفقار علی بھٹو کو قانونی بحث کے ذریعے قاتل ثابت کردیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ احمد رضا قصوری میڈیا کو ”سرپرائز “ دیتے دیتے خود پرویز مشرف کو ایک دن عظیم سرپرائز دیں گے۔

پرویز مشرف دور میں پاکستان کو جو زخم لگے ،وہ ان گنت ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس یہ ہے کہ دس سال گزرجانے کے باوجود ان زخموں پر مرہم لگانے کی کوشش بہت کم ہوئی اور انہیں ہردم تازہ اور رستا ہوا رکھنے کی سعی نامشکور زیادہ دکھائی دی ہے۔ ان زخموں میں سے ایک زخم لوگوں کو اٹھالے جاکر غائب کردینے سے متعلق ہے۔ اس زخم کی شدت کو کچھ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں ، جنہیں یہ زخم لگے ہیں یا پھر کچھ اہل درد اس کا احساس کرسکتے ہیں۔ عدالتوں میں اب تک کئی بار یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ انہی اداروں کی کارروائی ہے جو تنخواہیں اور مراعات تو اس بات کی لیتے ہیں کہ وہ پاکستانی شہریوں کو ایک محفوظ اور بے خوف زندگی کی ضمانت فراہم کریں گے۔ افسوس کہ اس معاملے میں بارہا ان کی ناکامی نے پوری قوم کو غم زدہ اور شرمندہ ہی کیا ہے، البتہ اپنے لوگوں کو غائب کرنے میں انہیں کمال حاصل ہے اور اس پر کسی شرمندگی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔

پرویز مشرف کے بعد جو پنج سالہ جمہوری دور آیا، بدقسمتی سے وہ پرویز مشرف کے عہد ستم کا ہی جمہوری برانڈ تھا، اس لئے عدالتیں چیختی چلاتی رہیں، غائب کئے جانے والے لوگوں کو پیش کرنے کے احکامات جاری ہوتے رہے،مگر ان احکامات کو پرکاہ کے برابر اہمیت نہیں دی گئی۔ ان احکامات پر عمل کیا گیا تو یوں کہ ان غائب کردہ لوگوں کی کٹی پٹی لاشیں کہیں سے پڑی مل گئیں۔ غائب کرنے والے اداروں نے بارہا اعتراف کیا کہ بعض لوگ ان کی حراست میں ہیں، لیکن انہیں عدالتوں میں پیش نہ کیا گیا۔ جمہوریت کی ہزار خرابیوں میں ایک خوبی یہ ہے کہ حالات کی تبدیلی کے لئے ہتھیار اٹھانے کی نوبت نہیں آتی، ہر شخص سمجھتا ہے کہ آئندہ چار پانچ سال بعد عوام کو تبدیلی کا موقع ملے گا، حکومت تبدیل ہوگی تو حالات تبدیل ہوجائیں گے۔ حزب اختلاف کی انگلیاں بھی عوام کی نبض پر ہوتی ہیں ،وہ انہی مسائل کو سدھارنے کی بات کرتے ہیں جو حکومت حل نہیں کرنا چاہتی یا حل کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

پیپلزپارٹی کے دور میں دوسرے مسائل کے ساتھ غائب کئے جانے والے لوگوں کا مسئلہ بھی ایک گھمبیر مسئلہ تھا۔ وزیراعظم اور ان کی جماعت کے قائدین ان غائب کردہ لوگوں کے لواحقین سے ہم دردی اور یک جہتی کا اظہار بھی کرتے رہے۔ اب وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کو برسراقتدار آئے ایک سال ہونے والا ہے۔ عدالتیں بدستور اس مسئلے پر اپنا فرض ادا کررہی ہیں، لیکن سرکاری ادارے تعاون کرنے اور تعمیل حکم پر تیار نہیں ۔ ظلم صرف یہی نہیں کہ پہلے کے غائب کردہ لوگوں کو غائب رکھنے پر اصرار ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ڈرون حملوں کے خلاف آواز اٹھانے والے کریم خان کو غائب کرنا تازہ ترین کارنامہ ہے۔ ڈرون حملوں کے خلاف شدید احتجاج کرنے والی خواتین کی تنظیم ”کوڈپنک “ نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے، ابھی تک تو اس سلسلے میں پاکستانی سفیر کو ای میلز اور ٹیلی فون کالوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ،اگر کریم خان جلد بازیاب نہ ہوا تو یہ احتجاجی سلسلہ مزید بڑھے گا اور کئی رنگ اختیار کرے گا۔ امریکی صدر اوباما خود اس وقت ڈرون حملوں کے سلسلے میں سخت دباﺅ کا شکار ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک امریکی شہری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی خبروں نے صورت حال میں ڈرامائی تبدیلی پیدا کردی ہے۔ امریکی صدر سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ ڈرون حملوں کی پالیسی کو واضح کریں۔

ایسوسی اینڈ پریس کی اطلاع ہے کہ سینئر حکام اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لے رہے ہیں، کیونکہ ڈرون حملوں کے خلاف اندرون امریکہ اور بین الاقوامی سطح پر سخت ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔ کسی امریکی پر کوئی فرد جرم عائد کئے بغیر اسے ماردینے کی کوشش ایک سنگین معاملہ ہے۔ امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU)اس معاملے کو پورے زور شور سے اٹھارہی ہے۔ یہ مسئلہ آئین و قانون اورشہری آزادیوں کا مسئلہ بن رہا ہے۔ امریکی وزارت دفاع اور محکمہ انصاف اس میں جانے کیا فیصلے کرتے ہیں، لیکن اوباما انتظامیہ کی طرف سے اس سلسلے کو خفیہ رکھنے کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ انوار الاولا کی کے قتل کے بعد جو معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا، وہ ایک بار پھر زور شور سے اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس جلتی پر تیل کا کام ایک اور فیصلے نے کیا ہے ۔ گزشتہ برس نیویارک کے مضافات میں واقع پین کوک ایئر بیس پر ڈرون حملوں کی مخالفت میں احتجاج کیا گیا ان میں سے کچھ لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان کے مقدمات چل رہے تھے ،اب ان میں سے بارہ کو پندرہ پندرہ دن قید اور اڑھائی سو ڈالر جرمانہ کی سزاسنا دی گئی ہے۔

 یہ لوگ دہشت گردی کے الزام سے تو بچ گئے۔ ان کو غیر مناسب طرز عمل پر سزائیں دی گئیں ،لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گھریلو تشدد کے معاملات میں بالعموم جس طرح عورت کو پولیس کا تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، خلاف ورزی پر فوری گرفتاری اور سزاہوسکتی ہے۔ اس طرح پین کوک ایئربیس کو دوسال کے لئے ان لوگوں کے لئے ممنوعہ علاقہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے بھی ایک بار پھر ڈرون حملوں کے قضیئے کو ہوا ملے گی.... ہمارے لئے مشکل یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ میں پاکستان کے مخالفین ان معاملات کو پاکستان کے خلاف استعمال کریں گے اور ہم جو جمہوریت کے لئے ترستے اور تڑپتے رہے ہیں اور جمہوریت کی آمد پر جشن مناتے رہے ہیں، یہ دعویٰ آج بھی نہیں کرسکتے کہ جمہوریت کوئی واضح یا غیرواضح تبدیلی لے آئی ہے، جناب وزیراعظم صاحب! بجلی کی کمی، معیشت کی زبوں حالی اور امن وامان کے معاملات سدھارنے میں تو شاید آپ کو بہت وقت لگے گا۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد کے لئے آخر یہ خاموشی کب تک ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *