دوبارہ اپنے پیروں پر کلہاڑی چلائیں گے؟

dayar-e-gair-say

یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ آج پاکستان کے عام آدمی کی زندگی کس قدر مشکلات میں گھری ہوئی ہے اگرچہ یہ تمام مشکلات صرف اِسی دور
میں پیدا نہیں ہوئیں مگر پھر بھی جمہوریت کے موجودہ دور میں ہر پاکستانی کو یہ تو قع ضرور تھی کہ اس دور میں اُس کی مشکلات میں کمی واقع ہو
گی ظاہر ہے کہ سابقہ ادوار میں جتنی بھی مشکلات میں اضافہ ہوا تھا موجودہ جمہوریت کے دور میں عوام کا یہ توقع رکھنا لازمی اَمر تھا کہ عام
آدمی کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو بلکہ کمی واقع ہو مگر اَمرِِواقع یہ ہے کہ موجودہ جمہوری دور میں پاکستانی عوام کی مشکلات میں بہت زیادہ
اضافہ ہوا ہے آج عام پاکستانی نہ صرف ملکی سلامتی کے معاملات کو لیکر پریشان ہیں بلکہ ملک کے اندر اَفراتفری اور قانون نافذ کرنے
والے اداروں کی ناکامی بھی عوام کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنی ہوئی ہے اگرچہ اربابِ بست وکشادکی طرف سے ’’سب اچھا ‘‘
کے بیانات ہی سامنے آرہے ہیں مگر آج کے اس ترقی یافتہ دور میں عوام کو بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا جو سچ ہے وہ عوام کے سامنے ہے
حکمرانوں کے ’’ سب اچھا ‘‘ کے نعروں سے خود حکمران تو خوش فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں مگر مشکلات کے مارے عوام کو اس سلسلے میں کسی غلط فہمی
میں مبتلا نہیں کیا جاسکتا پاکستانی عوام کا ایک بہت بڑا مسئلہ ملک کے شمالی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کا تھا جو کافی حد تک
افواجِ پاکستان کی طرف سے ضربِ عضب کی کامیابیوں کے بعد ختم ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے اس کے علاوہ کراچی اور سندھ میں بھی حالات
اچھے نہیں ہیں اگرچہ دہشت گردی کو تو رینجرز کی موجودگی میں کنٹرول کر ہی لیا جائے گامگر صوبائی حکومت کی کارکردگی کوئی زیادہ اُمید افزاء
دکھائی نہیں دے رہی علاوہ ازیں ملک بھر میں مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ رکھی ہے بیشک حکمران یہُ عذر پیش کرتے ہیں کہ مہنگائی پوری
دنیا کا مسئلہ ہے میں پوچھتا ہوں کہ پندرہ اَرب روپے روزانہ کی کرپشن تو موجودہ حکومت کا مسئلہ ہے کیا اس کرپشن پر قابو پا کر مہنگائی کے
مارے عوام کو تھوڑا سا فائدہ نہیں پہنچایا جاسکتا؟ مگر نجانے کیوں موجودہ حکمرانوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ،ایک طرف مہنگائی کی چکی
میں پسے ہوئے عوام خودکشیاں کر رہے ہیں اور دوسری طرف حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کے اندر قتل وغارت گری کا بازار گرم
ہے، وزیرِخزانہ فرماتے ہیں کہ موجودہ دور میں زرِمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے میں کہتا ہوں کہ اس کے باوجود عوام کے اندر
غربت میں اضافہ ہوا ہے چوریاں ،ڈاکے اوردوسرے جرائم بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں بجلی کی زبردست لوڈشیڈنگ کے باوجود بجلی سپلائی
کرنے والے محکمے عوام کو لوٹ رہے ہیں بجلی کے بلوں میں ناجائز اضافہ اور بے ضابطہ وصولیاں عوام کے لئے دردِسر بنی ہوئی ہیں اگر چہ
عوام کو اعلی عدلیہ کی نیت پر ہر گزشک نہیں ہے مگر پھر بھی عام آدمی کو انصاف میسر نہیں ہے بلکہ انصاف کا حصول اس قدر مہنگا اور طویل ہے
کہ عوام کا عدالتوں اور پولیس سے بالکل اعتماد اُٹھ چکا ہے اِن تمام حالات کی روشنی میں پیچھے مڑ کر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت کی
کارکردگی بالکل صفر کے برابر ہے اس کے باوجود حکمران کہہ رہے ہیں کہ ہم آئندہ انتخابات میں کلین سویپ کریں گے میں پوچھتا ہوں کہ
عوام اس قدر اندھے ہوگئے ہیں کہ وہ حکومت کی واضح ناکامیوں کے باوجود اُسے دوبارہ ووٹ دے کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی چلائیں گے؟
اِدھر 16اَرب ڈالر کا سالانہ زرِمبادلہ وطنِ عزیز کو بھیجنے والے تارکین کی طرف سے حکومت نے بالکل آنکھیں بند کر رکھی ہیں وطن میں
اُن کے مسائل بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں اُن کی جائیدادوں پر ناجائز قبضے ہورہے ہیں ،سرکاری محکموں کی طرف سے اُن کے ساتھ سوتیلی
ماں جیساسلوک روا رکھا جا رہا ہے مگر حکومت ہے کہ زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھتی ہی نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *