تمہارا نام بھی نہ ہوگا ایمانداروں میں۔۔۔

dil-thaam-kay
کرپشن کا ناسور پاکستان میں تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے جس طرف دیکھو،جس سرکاری ادارے میں دیکھو کرپشن،بدعنوانی،لوٹ مار رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں جسکی لت میں پڑے سرکاری افسران کو ملک و قوم ،غریب ،امیر،بے بس ۔مجبور سے کوئی غرض نہیں ہوتی وہ اپنے محکمانہ فرائض صرف دولت کمانے کو گردانتے ہیں کیونکہ پاکستان واحد ملک ہے جہاں پندرہ سے بیس ہزار روپے تنخواہ پانے والے سے کار،کوٹھی،بنگلہ،بینک بیلنس ،بچوں کی بڑے سکولز میں تعلیم کے خرچوں پر کبھی باز پرس نہیں کی جاتی بلکہ جو غلطی سے ایمانداری کا بخار چڑھا بیٹھے اسے قبول ہی نہیں کیا جاتا ایک ماہ سے زیادہ کسی دفتر میں ،،ایماندار،،،سرکاری ملازم کی تعیناتی نہیں ہوتی اور نہ ہی عوام اسے قبول کرتی ہے کیونکہ عوام بھی’’ کرپشن چھتر‘‘کھا کھا کر اسقدر بے حس ہو چکی ہے کہ جب تک اس سے پیسے بطور رشوت وصول نہ کیے جائیں اسے یقین ہی نہیں ہوتا کہ میرا کام ہو گا مجھے انصاف ملے گا بھی یا نہیں۔عوام کو اس قدر بددل اور اداروں سے انصاف کی توقعات نہ ہونے کا سہرا حکومتوں،ایف آئی اے ،اینٹی کرپشن،اور نیب کے سر ہے کیونکہ نیب نے کبھی بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ نہیں ڈالا اور نہ ہی کسی چیرمین نیب نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کیا ہے ایف آئی اے کے کانسٹیبل کے پاس ہنڈا سٹی نیو ماڈل نہ ہو تو اسے دیگر ایف آئی اے ملازمین اپنی برادری سے ہی تصور نہیں کرتے ہیں محکمہ اینٹی کرپشن نے عوام کے اعتماد کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں صوبائی اداروں سے لٹنے والا ابھی درخواست جمع کروا کر آفس سے باہر ہی نکلتا ہے تو کرپشن کے دیوتا فون گھما دیتے ہیں اور درخواست کے ملزمان کو اطلاح دیکر اپنا محکمانہ فرض ادا کر کے ڈھٹائی سے نذرانہ مانگتے نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کرپشن کا سرطان اکثریتی سرکاری ملازمین کے جسم میں داخل ہو چکا ہے پچھلے کئی روز سے مجھے مختلف لوگوں نے فون کر کے ٹھیکداروں کے اللوں تللوں اور چھوٹے چھوٹے داروں کی پریشانیوں کے متعلق بتایا جسکی تحقیق کے لیے کافی مغز ماری کی تو معلوم ہوا کہ کس طرح حکومت اور ضلعی افسران مل کر چھوٹے ٹھیکدار کو خودکشیوں پر مجبور کر رہے ہیں اور بڑے ٹھیکدار کے لیے کرڑوں کمانے کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔جب کوئی شخص ٹھیکداری کے لیے ،محکمہ پبلک ہیلتھ،محکمہ لوکل گورئمنٹ ،محکمہ انہار اور بلڈنگ میں داخل ہوتا ہے تو اسکے کپڑے اتارنے کے لیے ڈسٹرکٹ آفس میں موجود محکمہ جات ہذا ملازمین لائن بنا لیتے ہیں’’ انلسٹ منٹ ڈی‘‘ کے لیے 2015سے قبل پانچ ہزار روپے فیس تھی جسے بڑھا کر پندرہ ہزار روپے کر دیا گیا مگر محکمہ کے ملازمین نیو ٹھیکدار کی انلسٹمنٹ کرنے کی مد میں ،اپنا،سب انجنئیر،ایس ڈی او ایکسین کا خرچہ ملا کر پچیس ہزار کا پہلا ٹیکہ لگاتے ہیں جس میں پندرہ ہزار گونمنٹ کے دس ہزار انکے ہوتے ہیں ۔ٹھیکدار کو مزید لوٹنے کے لیے حکومت نے 2015 میں فی کال کے ساتھ دس ہزار کی کال بنوانا شروع کر دی کہ ٹھیکدار کو کام ملے نہ ملے دس ہزار روپے کا تھپڑ ضرور کھا کے جائے اگر سال میں چھوٹے ٹھیکدار کو ایک بھی کام نہیں ملتا اور بیچارہ بیس بار کال دیتا ہے تو گھر کے برتن بیچنے کی نوبت تو آ ہی سکتی ہے ۔اگر خوش قسمتی سے برے ٹھیکداروں سے بچ کر اسکی قسمت نے ساتھ دے ہی دیا اور دس لاکھ کا ٹھیکہ مل گیا تو خدا کی پناہ محکمہ کے ملازمین اسکا جسم نوچنا شروع کر دیتے ہیں ورک آڈر ملنے تک بیچار ٹھیکدار کو نہ چاہتے ہوئے بھی مختلف ’’لاگ‘‘دینا پڑتے ہیں ۔جس مجں ایکسین کے پانچ پرسنٹ،ایس ڈی او ،سب انجنئیر کے تین تین پرسنٹ،دیگر دفتر کے سات پرسنٹ ملا کر دس لاکھ کے ٹھیکہ پر محکمہ ہذا کام شروع ہونے سے قبل ہی پندرہ پرسنٹ یعنی دس لاکھ پر ڈیڑھ لاکھ کا کرپشن ٹیکہ ٹھیکدار کو لگا دیتا ہے تب جا کر ٹھیکدار کو ورک آڈر کا منہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے ۔جب سے فیس میں اضافہ اور دس ہزار روپے فی کال ٹیکہ لگایا جا رہا ہے تب سے ایک سال میں ہی کئی چھوٹے ٹھیکدار بے روزگاری کا تحفہ لیے نشانہ عبرت بنے سڑکوں کی خاک چھانتے پھرتے ہیں۔بڑے ٹھیکدار کے پاس ای ڈی او فنانس،ایکسین،لوکل گورنمنٹ،پبلک ہیلتھ،انہار اور محکمہ بلڈنگ کے ایکسین،ایس ڈی او اور سب انجینئرکی آشیر باد ہوتی ہے جو بند کمروں میں لاکھوں کی گڈیاں دیکر کروڑوں روپے کا قومی خزانے کو ٹیکہ لگا رہے ہوتے ہیں بار بار ان پر ہی نوازشات کی بارش کی جاتی ہے جس میں پانچ لاکھ گرانٹ کی سکیم دیکر اسکی بار بارenhancementکر کے کروڑوں تک پہنچا دیا جاتا ہے مختلف،کالجز،بڑے سکولز،ہسپتالوں،اور دیگر منسوبوں پر کروڑوں روپے کا’’کوٹیشن ورک‘‘دیکر موج مستی کی جاتی ہے ایک ۔کوٹیشن ورک پچاس ہزار روپے کی ہوتی ہے جس پر ایکسین کا پانچ ہزار روپے ایس ڈی او ،سب انجینئر اور دیگر عملہ کا ملا کر آٹھ ہزار روپیہ ٹوٹل تیرہ ہزار روپیہ محکمہ کام سے پہلے وصول کر لیتا ہے باقی ٹھیکدار کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کام کس طرح کا کرتا ہے ان حالات میں چھوٹے ٹھیکداروں کو ختم کرنے کے لیے ایک مخصوص لابی نے حکومت اور انتظامیہ سے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے تا کہ صرف بڑے ٹھیکدار رہ جائیں اور غریب کے گھر جانے والا رزق بھی چھین لیا جائے ۔جسکی زیادہ مثالیں ضلع اوکاڑہ میں ملتی ہیں معلومات اکٹھی کرتے وقت معلوم ہوا کہ بڑے مگر مچھ تو چھوٹی مچھلی کو کھا ہی رہے تھے نئے تعینات ہونے والے ڈی سی او سقراط امان رانانے اختیارات کا تیر چلا کر انتہاہی کر دی ۔حکومتی سرمائے کو بچانا اور قومی خزانے کو نقصان کرنے والوں کا محاسبہ درست بات ہے مگر یہ کہاں کا انصاف ٹھہرا کہ چھوٹے ٹھیکداروں کے کام ختم کر کے بڑوں کو ایک ہی سکیم میں نوازا جائے بھائی اگر احتساب ہی کرنا ہے اور ملکی سرمایہ کو بچانا ہے تو مذکورہ محکموں کے ،ایکسین،ایس ڈی او ،سب انجینئر اور دیگر ملازمین سے پندرہ پندرہ پرسنٹ بھی واپس لیں جو انہوں نے ہر کام میں حاصل کیے اور ان کو سکیموں پہ لگوائیں یا خزانہ سرکار میں جمع کروائیں عوام شاباشی دے گی اور اگر آپ کی طرف سے بھی صرف چھوٹے ٹھیکداروں کا ہی احتساب کیا جانا ہے تو عوام شاباشی تو نہیں دے گی مگر اتنا ضرور کہے گی کہ ’’تمہارا بھی نام نہ ہو گا ایمانداروں میں‘‘کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ تقریبا دو اڑھائی ماہ قبل ہونے والے سارے ٹھیکے بند کروا دیے گئے ہیں اور بڑے ٹھیکداروں کو ڈرائنگ روم میں نوازنے کی پریکٹس کی جا رہی ہے جس سے چھوٹے ٹھیکدار کو موت اور اپنے لیے بدعاؤں کا انتظام کرنے کے سوا کچھ نصیب نہیں ہو گا ۔اسی دوران مجھے معلوم ہوا کہ صرف محکمہ بلڈنگ اوکاڑہ میں 2014،2013،،2015کے دوران اربوں روپے کیenhancementاور کوٹیشن ورک کروایا گیا اس وقت کے ایکسین ،نے ہمراہی ملازمین کے ساتھ لوٹ سیل لگائے رکھی اور دھڑلے سے پچاس ہزار کی کوٹیشن ورک پر پانچ ہزار اپنا اور باقی آٹھ ہزار ماتحتوں کے چھوڑتا رہا بھائی احتساب ہی کرنا ہے تو گذرے ان سالوں میں ،،مکھن ملائی،کھانے والے برے بڑے گریڈ والے افسران کا بھی کرو صرف ٹھیکدار کو ختم کر کے ان کے بچوں کے فاقوں مت مارا جائے ۔ٹھیکداروں کے قریب سے حالات اور سرکاری اداروں،افسران کی مہربانیاں جان کر محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب
بھی سندھ کی طرح بے بس نہیں دولت کی ہوس میں مبتلا ہو کر سرکاری ملازمین کو کھلی چھٹی دیے ہوئے ہے اور خود حصہ پتی لیکر پاکستان کو کرپشن کی دلدل میں دھکیلنے کے لیے حکومت سے بھاری تنخواہیں لیکر وہ کام کر رہا ہے جو میں اور آپ مفت میں کر سکتے ہیں ۔کب یہ کرپشن کو نکیل ڈالنے والے محکمے حرکت میں آئیں گے،کب کرپٹ سرکاری ملازمین پیٹوں سے لوٹی دولت واپس لی جائے گی ۔کب تک بری مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھاتی رہے گی۔کب تک حکمران غریب مزدور قبرستان پہنچاؤ کی پالیسیاں ترتیب دیتے رہیں گے۔کب انصاف کا بول بالا ہو گا اور کون کرے گا ؟ان سوالوں کا جواب تو شاید نہیں ملے گا مگر یہ ضرور دیکھیں گے کہ ڈی سی او ،سقراط امان رانا کیا کرتے ہیں اور حکومتی ارباب اختیار کب خاموشی کا روزہ توڑ کر بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *