یہ ہمارے ’’اہل دانش‘‘

shami

پاکستان کے کئی اہل دانش ایسے ہیں کہ دانش سے ان کی کشتی جاری رہتی ہے۔ پاکستانی تاریخ، جغرافیے اور سیاست پر گہری تو کیا طائرانہ نظر ڈالے بغیر بھی وہ ماہرانہ گفتگو کرنے کے عادی ہیں اور کسی بھی مسئلے پر بات شروع کریں، ان کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ پاکستانی ریاست ہر قدم پر جھک مارتی رہی ہے ،گویا جھک جھک کے سوا اس نے کوئی کام کرکے نہیں دیا۔ بھارت سے تعلقات کا معاملہ ہو، افغانستان کے ساتھ کانٹوں بھری تاریخ کا ذکر ہو یا سوویت یونین کے ساتھ آویزش کا تذکرہ ہو، بات یہیں سے شروع ہو کر یہیں ختم ہو جاتی ہے کہ قصور پاکستان ہی کا رہا ہے۔ پہلے تو حکومت کا لفظ استعمال کر لیا جاتا تھا، رفتہ رفتہ اسٹیبلشمنٹ نے اس کی جگہ لی، لیکن اب تو ریاست کا نام زبان پر رہتا ہے کہ تمام ریاستی اداروں اور بحیثیت مجموعی پوری قوم کو دھتّا بتانا مقصود ہوتا ہے۔

یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان نے آج تک کوئی غلطی ہی نہیں کی، ہر ملک اور ہر قوم سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ اندازے بھی غلط ہو جاتے ہیں، فیصلے بھی غلط کر لئے جاتے ہیں، پالیسیاں بھی ایسی بنا لی جاتی ہیں کہ جن کا نتیجہ حسب توقع نہیں نکلتا، لیکن کسی بھی ملک کے صاحبان علم و دانش اس طرح سینہ کوبی نہیں کرتے۔ اپنے معاشرے اور اپنی ریاست کے سر پر وہ جوتے نہیں مارتے، جس کا چلن ہمارے ہاں عام کر دیا گیا ہے۔ماضی قریب ہی کو دیکھ لیجئے امریکہ اور برطانیہ نے عراق پر جس طرح چڑھائی کی اور گھڑی ہوئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر یہاں کے مقتدر حلقوں نے جس طرح اپنی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکی، اس کی تفصیلات اب راز نہیں رہیں۔ لاکھوں افراد کو ہلاک کر ڈالا گیا، لاکھوں بے گھر ہو گئے، انتہا پسندی کو فروغ ملا اور اب داعش نامی جس عفریت کی دہائی دی جا رہی ہے، اگر اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے تو امریکی اور برطانوی فیصلہ سازوں ہی کو سنگسار کرنا پڑے گا۔ لیبیا اور شام میں جو کھیل کھیلا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ ہنستے بستے ملکوں کو کھنڈر بنا ڈالا گیا ہے، پھول جیسے بچے خاک و خون میں نہلا ڈالے گئے ہیں۔لاکھوں کیا کروڑوں افراد دربدر ہیں۔ بہت سے اپنے ملک میں مہاجر بن چکے ہیں اور بہت سے بیرون ملک دھکیلے جا چکے ہیں۔ ان کے لئے بھی زمینیں تنگ ہو رہی ہیں۔ انسانیت کی ایسی رسوائی کا منظر تاریخ کے تاریک ایام میں تو کئی بار دیکھا گیا ہو گا، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام نہاد اجالے میں شاید ہی دیکھا جا سکے۔ افغانستان پر امریکہ نے اپنے حالی موالی اکٹھے کرکے جویلغار کی اور اقوام متحدہ کے دستخط کراکر جو حکمت عملی اپنائی، اس نے بھی اسامہ بن لادن کو پکڑتے پکڑتے لاکھوں افراد لقمۂ اجل بنا ڈالے۔ سینکڑوں کیا ہزاروں، لاکھوں ٹن بارود برسایا گیا، لیکن افغانستان میں تو استحکام کیا آتا، پوراخطہ لرز اٹھا ہے اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ جارج بش اور ٹونی بلیئر کے بوئے ہوئے کانٹوں کو کاٹنے والے ہاتھ خون خون ہیں، لیکن ماضی کو کوسنے کے بجائے ان کی مستقبل پر نظر ہے۔ ارب ہا ڈالر لگائے جا چکے، امریکی معیشت کی چیخیں نکل چکیں، لیکن وہ ہاہا کار نہیں مچی جو ہمارے ہاں دیکھنے میں آتی ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ زندہ قومیں ماضی میں زندہ نہیں رہتیں، مستقبل پر نظر رکھتی ہیں۔ہمتوں کو پست کرنے کے بجائے، حالات سے نکلنے کے راستے تلاش کرتی ہیں۔ کسی بھی جگہ کے اہل دانش ایک دوسرے کے سر پر جوتوں کی بارش کو اپنی فراست کا مظاہرہ قرار نہیں دیتے۔

پاکستانی ریاست کے ذمہ داران نے بھی غیر ذمہ داری کے بہت سے مظاہرے کئے ہیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی راہ میں کانٹے بچھانے والے بھی کم نہیں تھے۔ بھارت پہلے دن سے پاکستان کو دبانے اور کمزور رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا۔ افغانستان کی حکومت اسے تسلیم کرنے سے انکاری تھی۔ سوویت یونین اس پر میلی آنکھیں لگائے بیٹھا تھا۔ پاکستان کے اندر ایسے عناصر موجود تھے جنہیں مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا وجود گوارا نہیں تھا۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ ہندو مسلمان ایک قوم ہیں، لیکن پنجابی اور پٹھان دو قومیں ہیں۔ سندھی اور بنگالی ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ یہ سب حضرات نچلے بیٹھنے پر تیار نہیں تھے۔ نئی دہلی، کابل اور ماسکو سے ان کے تار ہلائے جاتے تھے، وہاں سے شہ پا کر یہ پاکستان میں انگارے برساتے اور بچھاتے تھے۔ پاکستان نے حالات سے نبٹنے کی اپنی سی سعی کی، اپنے دوست بنائے اور دشمنوں کی بھی حسب توفیق مرمت کی۔ جب سوویت فوجوں نے افغانستان پر حملہ کرکے وہاں کے حکمرانوں کو تہہ تیغ کیا اور اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کرکے اس کی حفاظت پر اپنے آپ کو مامور کر لیا تو ان کے خلاف تحریک مزاحمت کا ساتھ پاکستان نے دیا، بالکل اسی طرح جیسے ویت نام کے حریت پسندوں کا ساتھ سوویت یونین اور چین نے دیا تھا، لیکن ویت نام کا نام لے کر ماسکو اور بیجنگ کو ہار پہنانے والے پاکستان کو داد دینے کے بجائے اس کی سرزنش پر تلے رہتے ہیں۔ عوام کے حوصلے پست کرتے اور ریاست پر ان کا اعتماد ختم کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس مزاحمت کے لئے قائم کردہ اتحاد ہی کا کرشمہ تھا کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرلی اور اس کے راستے میں کوئی ناقابل عبور رکاوٹ کھڑی نہ کی جا سکی۔ اس عظیم الشان کامیابی کے باوجود بے سروپا طعنے دینے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ نام نہاد سٹرٹیجک ڈیپتھ کی تھیوری گھڑ کر اس کی گردان جاری ہے، حالانکہ پاکستان، افغانوں کے لئے سٹرٹیجک ڈیپتھ ثابت ہوا کہ وہ بے تکلف یہاں چلے آئے اور اپنی سرزمین سے غاصب فوجوں کو نکال باہر کیا۔بے پر کی اڑانے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ معاملات چلانے والے اور فیصلہ کرنے والے بہرحال افراد ہوتے ہیں، جغرافیہ نہیں ہوتا۔ افراد بدل جاتے ہیں، بدلے جا سکتے ہیں، لیکن جغرافیہ بدلا نہیں جاتا ، یہ جام سفال نہیں ہے کہ ایک ٹوٹ گیا تو دوسرا لے آئے۔ اس لئے بات کرنے سے پہلے کچھ سوچ لیا جائے، کچھ غور کر لیا جائے اور کچھ پڑھ لیا جائے تو اس میں برائی ہی کیا ہے؟ اس سے دانش مجروح کیسے ہو جائے گی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *