میک اپ کے سامان میں خطرناک کیمیکلز کا وسیع استعمال

Face-Productsامریکہ میں تقریباً ہر شخص صبح گھرسے نکلنے سے پہلے میک اپ کے سامان، صابنوں اور ذاتی نگہداشت کی دیگر مصنوعات میں شامل 100سے زائد کیمیکلز کا استعمال کرتا ہے۔ لوگ چاہے یہ فرض کر لیں کہ یہ اشیاء نقصان دہ نہیں ہیں لیکن ان کے کیمیائی اجزاء میں سے زیادہ تر غیرتصدیق شدہ ہیں اور بڑی حد تک بلا روک ٹوک استعمال کئے جا رہے ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کچھ کیمیکلز کینسر کا باعث بنتے ہیں اور جسم سے فالتو مواد کے اخراج میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔مزید یہ کہ ان مصنوعات کے ساتھ دئیے جانے والے اجزاء کی تفصیل پر مبنی پرچے بھی غلط معلومات فراہم کرتے ہیں۔ وہ چالاک ترین صارفین کو بھی ان کی روزمرہ استعمال کی چیزوں کے محفوظ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق اندھیرے میں رکھتے ہیں۔
’’لپ اسٹک جو ہم لگاتے ہیں، خوراک جو ہم کھاتے ہیں اور صابن جو ہم اپنے بچوں کے ہاتھ دھلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں، اکثر نقصان دہ کیمیکلز پر مشتمل ہوتے ہیں۔‘‘ پرسنل کیئر پراڈکٹ کمپنی بیوٹی کاؤنٹر کے صحت اور حفاظت کے شعبے کی سربراہ مایا ڈیوس نے کہا۔ ’’بوجھ روزبروز تیزی سے بڑھتا جاتا ہے۔ اور جیسے ہی ہم کھاتے ہیں، سانس لیتے ہیں اورجسم پرملتے ہیں، ہمارے جسم میں مہلک مادے داخل ہو جاتے ہیں جو مضر اثرات کا باعث بن سکتے ہیں۔‘‘
مایا ڈیوس نے ان خیالات کا اظہار6فروری 2014ء کو ہارورڈ سکول آف پبلک ہیلتھ میں موجود سامعین سے ’’ مہلک حملہ: روزمرہ استعمال کی اشیاء میں خطرناک اور نامعلوم کیمیائی مادے‘‘کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کیا۔
ڈیوس نے مزید کہا کہ یہ کیمیائی مادے ہمارے جسم میں داخل ہو کر چھاتی کے کینسر، دمے، نفسیاتی مسائل، تولیدی مسائل اور صحت کے کئی دوسرے مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔ جسمانی حفاظت کی اشیاء میں موجود کئی کیمیائی مادوں کے متعلق کبھی یہ پتہ چلانے کی کوشش نہیں کی گئی کہ ان کا استعمال محفوظ بھی ہے یا نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ ان جسمانی حفاظت کی اشیاء کے مضر اثرات میں اضافہ کر دیتے ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *