اسلام خوشامد کو پسند نہیں کرتا

Aqeel Ahmed Khan Lodhi

یوں تو ضمیر صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی اخلاقی حس کا نام ہے تاہم یہی وہ حس ہے جو کسی مٹی کے ذی روح مجسمے کو انسان کا درجہ دیتی ہے۔ زندہ ضمیر انسان کبھی اخلاق کی حدوں کو عبور نہیں کرتا اس کا قلب اور باطن اسے ہمیشہ ہر اس کام سے روک رکھتے ہیں جو اسے حیوانی درجہ میں شمار کرنے کا باعث بنتا ہوجبکہ بے ضمیر کبھی اس پٹری پر آتا ہی نہیں جو اسے انسان کا بچہ ثابت کرے یوں تو ہمارا معاشرہ اس وقت بری طرح اخلاقی تباہی کا شکار ہوتا جارہا ہے مگر جو چیز ہر اخلاقی قدر کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے وہ خوشامد اور چاپلوسی کا چلن ہے جو اچھے اچھے دانشور وں کی سمجھ بوجھ اور عقل ودانش پر پٹی باندھ دیتا ہے۔ دیگر مذاہب کا مجھے علم نہیں مگر ہمارا دین اسلام خوشامد کو ناپسند ہی نہیں بلکہ اس کی بری طرح مذمت کا بھی حکم دیتا ہے۔اسلام میں خودپسندی کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے اس کی جہاں ممانعت بھی وارد ہوئی ہے وہیں کسی کے سامنے اس کی تعریف کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے کہ کہیں شیطان اس بندے کو مغرور، متکبر نہ بنادے،نام کے صوفی اور کام ابلیس کے بچوں والے، دوہرا معیار، بہروپ دھار کر دنیا کو بے وقوف بنانا ہر وقت چغلیا ں کھاناعیب جوئیاں ، منافقت یہی وہ چیزیں ہیں جو ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں، چند ٹکوں کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دینے والے کسی بھی طرح کسی اچھے لقب کے حقدار نہیں ہوسکتے عالم ، رہبر، رہنما یا صحافی عام لوگوں کی نظر میں ان کا باشعور اور اچھے برے کی تمیز رکھنے والوں میں شمار ہوتا ہے ۔ہمارے دین نے ہر چیز کے بارے میں ضابطہ اخلاق مرتب کردیا ہے ۔اسلام ایک انسان کی ہر معاملے میں بہترین رہنمائی کرنے والا دین ہے اسلام نہیں چاہتا کہ ایک انسان اپنی حدود کو پار کرے کہ جس کی وجہ سے اس کی زندگی میں اور معاشرے میں خرابی آئے،اسلام نے ہر معاملے میں بہترین رہنمائے اصول دیئے ہیں اگر ان اصولوں کو فراموش کرکے ان کے خلاف اقدام کیئے جائیں تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے جو بالآخر کسی بڑے فتنے کا سبب بن کر انتشار کو ہوا دینے کا باعث بنتے ہیں اور انہی اصولوں میں سے ایک اصول ہے کسی انسان کے سامنے اس کی تعریفوں کے پل باندھنا کہ جس کی وجہ سے وہ بندہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے انسان کے اندر تکبر کا بیج بو دینا ہے اور جس انسان میں تکبر آگیا تو سمجھ لو کہ اس کی آخرت تباہ ہو گئی اسے اچھے برے کی پہچان بھول گئی کمزوروں کی حق تلفی اور حق رسی کا فرق جاتا رہا۔ابلیس بھی اسی تکبر کی وجہ سے برباد ہوا تھا، تکبر اللہ کو بہت ناپسند عمل ہے اسی لیئے اسلام نے اس تکبر کو ایک انسان کے اندر آنے کے رستے بند کرنے کی طرف توجہ دی ہے جیسا کہ ایک حدیث شریف میں نبی پاک ؐ کا ارشاد مبارک ہے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بہت بچو کیونکہ یہ توذبح کرنے کے مترادف ہے۔اس فرمانِ رسولؐ سے واضح ہوا کہ کسی انسان کے سامنے اس کی تعریف کرنا اس کو ذبح یعنی ہلاک کرنے کے مترادف ہے یعنی ہوسکتا ہے کہ وہ شخص خودپسندی اور تکبر کا شکار اور شیطان کی طرح گمراہ ہوجائے ۔ہمارے معاشرے میں آج خوشامد پسندی کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ اﷲ کی پناہ ، مخصوص خوشامدی لعنتی حضرات کو کسی بھی پروگرام میں جانے سے قبل باقاعدہ اطلاع دیکر پہلے ہی بلا لیا جاتا ہے تا کہ بھرپور انداز میں خوشامد سے دوسروں کو مرعوب کیا جاسکے ۔افسوس کہ ہمارے اہلِ علم حضرات بھی اس مرض کے شکار ہوچکے ہیں کہ جب وہ کسی فورم پر تشریف فرما ہوتے ہیں تو ان کے سامنے ان کی خوب تعریف کی جاتی ہے اور وہ صاحب اْس تعریف کرنے والے کو منع بھی نہیں
کرتے کہ بھائی منہ پر تعریف نہ کرو اس سے ہمارے پیارے نبیؐ نے منع فرمایا ہے اور اس مرض میں سیاسی اور مذہبی سبھی طرح کے نام نہاد رہنما شامل ہیں نوے فیصد افراد اس مرض کا شکار ہوچکے ہیں جو خوشامد اورخود پسندی کو پسند نہیں کرتے وہ لوگوں کے ہجوم سے باہر نظر آتے ہیں۔سیاسی پارٹیاں ہوں ،مذہبی محافل یا نجی تقریبات، منتظمین کی جانب سے برسراقتدار،صاحب ثروت لوگوں کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں کچھ خوشامدیوں نے سرکاری دفاتر میں مستقل ڈیرے بنائے ہوئے ہیں جو دفاتر میں براجمان رہ کر سائلین کو بھی بات کا موقع نہیں دیتے بعض افسران کو خوشامدیں کروانے کی ایسی عادتیں پڑی ہیں کہ وہ نامور خوشامدیوں کو ساتھ ساتھ لگائے پھرتے ہیں مرضی کے فوٹو سیشن ہوتے اوراخبارات میں ان کی تشہیر ہوتی ہے ۔سیاسی لوگوں اور سرکاری افسران کے نام وہ وہ کام لگائے جاتے ہیں جو انہوں نے کئے بھی نہیں ہوتے سبھی کچھ من پسند مخصوص شخصیات کے کھاتے میں ڈالکر ان کی خوشامد کے پہاڑ کھڑے کردیئے جاتے ہیں اور وہ صاحبان اس خوشامدی پر پھولے نہیں سماتے۔ چلو یہ لوگ تو دین کے علم سے بے بہرہ ہیں ان کو ان احادیث کا علم نہیں ہوگا مگر آج کے عالم بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاخوشامدی طرز عمل پر کیسا رد عمل تھا؟ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ان کے منہ پر تعریف کرنا شروع کردی۔ تو مقداد بن الاسود نے ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور اس کے چہرے پر پھینک دی اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم منہ پر تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دیا کرو۔سنن ابوداؤد۔ہمارے ہاں کسی دور میں شادی بیاہ جیسی تقریبات میں عام بھانڈ لوگوں کی خوشامدیں کرکے روپے اکٹھے کیا کرتے تھے گو آج بھی ہیں مگرجدت کے تقاضوں کے پیش نظر تعداد کم ہوگئی ہے ۔ان کے ہاتھ میں ایک چموٹا(چمڑے کا ٹکرا جس سے درد کم اور آواز زیادہ آتی ہے) ہوا کرتا تھا بھاگ لگے رین ، وسدے رہوو جیسے کلمات سے و ہ خوشامدوں کا آغاز کرتے اور پھر چل سو چل ۔۔۔کبھی کبھار ایک آدھ چموٹا اپنے ساتھی کے ہاتھ میں مار کر وہ خوشامد کو جوش کا تڑکا لگایا کرتے تھے ایک دوسرا طبقہ گا بجا کر مال اکٹھا کیا کرتا تھا جنہیں مراثی کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے فریقین کا انداز ذرا منفرد مگر مقصد پیسا اکٹھا کرنا ہوتا تھا ۔ دور حاضر کے بدلتے ہوئے رحجانات کو دیکھ کر ایسے لوگوں کی باقیات نے کچھ مہذب بنا کر خود کو پیش کرنا شروع کردیا ہے اپنے باپ دادا کی نسلوں کو بھلا کر وہ نئے انداز سے میدان عمل میں ہیں اور خوشامد کا فریضہ سرانجام دیتے دکھائی دیتے ہیں کسی نے خود کو بہتر مقرر کا درجہ دلوارکھا ہے کوئی خود ساختہ د انشور ، کوئی عوامی رہنما ہے تو جسے کچھ نہیں ملا وہ ٹکے ٹنڈ ملنے والے اخباری کارڈ خرید کر خود پر صحافی کا لیبل لگا ئے بیٹھا ہے۔راقم کو مختلف تقریبات میں جانے کا اکثر اتفاق ہوا ہے تووہاں صحافت کے نام پر ضمیر کے دشمن بہروپیوں، خوشامدیوں کے رویوں کی وجہ سے ملنے والی ذہنی کوفت کا بیان کرنا یہاں ممکن نہیں ہے۔حقیقت میں صحافت کی الف ب سے بھی ناآشنا ایسے نام نہاد صحافی اپنے ناموں کیساتھ اپنی عمر سے بھی زیادہ سنیئر،نامور پنجاب لیول ، گولڈ میڈلسٹ کالم نگار،جیسے القابات خطابات خود ہی لگا کر اپنی تشہیر کرتے نہیں تھکتے دوسروں کی لکھی ہوئی تحریروں اور محنت کو اپنے نام سے تھوپ کر اخلاقی بددیانتی کے مرتکب ہونے والے ایسے افراد کا ضمیر نام کی چیز سے کچھ بھی لینا دینا/واسطہ نہیں ان کی جانے بلا ضمیر کس چیز کو کہتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں مزید کیا کہا جائے کہ؟ان کے مشاغل میں فقط خوشامد اور مقصد حیات اپنے آپ کو ہر تقریب میں نمایاں کرنا ، بااثرافرادسے تعلقات وسیع کرنا یا چند ٹکوں کا حصول ہے ۔تقریب کسی نے ارینج کررکھی ہو وہ بھاگ کر مہمان
شخصیات کے کندھوں پر سوار ہوجاتے ہیں، خود ہی اسٹیج سیکرٹری تو کہیں خود ہی انتظامیہ گویا ساری تقریب کا انتظام /خرچہ انہوں نے ہی برداشت کیاہو۔ کوئی سیاسی جلسہ ہو کہیں کسی وزیر ،ایم پی اے، ایم این اے یا اعلیٰ سرکاری شخصیت کی آمد ۔اطلاع پر ایک روز پہلے ہی خوشامدی مواد تیار کرکے رکھتے اور آنے والے مہمان کو پیش کرکے یوں باور کرواتے ہیں کہ جیسے آنے والوں کا ان سے بڑا کوئی خیرخواہ اس کرہ ارض پر اترا ہی نہ ہو ۔اپنی خاندانی عادت سے مجبور ایسے چاپلوسی خوشامدی نعروں سے بھی نہیں کتراتے ان کے نعروں میں چموٹوں سے بھی زیادہ تڑکا ہوتاہے۔رہی سہی کسر بندروں جیسی حرکتیں کرتے ان کے سیلفیز کے چکروں اور سوشل میڈیا پر الٹی سیدھی پوسٹوں نے نکال دی ہے۔ لعنت ہے ایسی صحافت پرمردہ ضمیر بے نسلے خوشامدیوں پر اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے۔آج کل قومی اسمبلی کے حلقہ 101 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے دنوں میں ایسے خوشامدیوں کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سمجھیں سر کڑاہی میں ہے اپنی ولادت کا مقصد وہ خوشامد کے ذریعے بھرپور انداز میں ثابت کرتے دکھائی دیتے ہیں او ر خود پسندی کا شکارافراد خوشامدیں سن کر اپنے وہم میں ساتویں آسمان سے کم بلندیوں پرنہیں ہوتے۔سوچنے کی بات ہے ہم میں سے کسی نے حکم نبیؐپر عمل کیا ہے؟اگر اتنی ہمت نہیں کہ مٹی منہ پر پھینک سکیں تو کم از کم کسی کو منہ پر تعریف ہی کرنے سے ہی روک دیا کریں میرے خیال سے اس میں کوئی مشکل بات نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *