ممتاز قادری پھانسی کا نہیں میڈل کا حق دار تھا۔۔۔

afreen
اولاد آدم دو بڑے گروہوں میں بٹی ہوئی ہے،ایک وہ جو اللہ پاک کو ماننے والے یعنی مومنین ،اور دوسرے نہ ماننے والے، یعنی مشرکین ۔قرآن میں ایک تیسرے گروہ کا بھی ذکر آیا ہے اور وہ ہے منافقین۔اللہ اور اُس کے رسول ﷺ نے مومنین کو مذکورہ بالا تیسرے گروہ سے انتہائی محتاط رہنے کا حکم دیا ہے کیوں کہ کافرین تو کھلم کھلا اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ،اور جو دشمن سامنے ہواُس سے بچنا اور اُ س کا مقابلہ کرنا آسان ہوتا ہے ہے بہ نسبت اُ س دشمن کے جو بظاہر تو مسلمانوں کا دوست ہو مگر درپردہ اُن کا دشمن۔ نبی کریم ﷺ نے منافقین سے سخت نفرت کا اظہار فرمایا ہے اور ان کی سر کوبی کا حکم دیا ہے۔ یہی فرض نبھایا تھا اُس مرد مومن نے جس کو آج پھانسی دے دی گئی۔دکھ تو اس بات کا ہے کہ آج سے کئی سال پہلے جب ایک گستاخ نے ہمارے نبی پاک حضرت محمدﷺکی شان پاک میں گستاخی کی تھی تو بُرا تو سب نے منایا تھا ۔مگراُ س گستاخ کو جہنم واصل کرنے والے غازی علم دین کو جب پھانسی ہوئی تب برصغیر پاک و ہند کے غیر مسلم حکمران تھے ‘ سو اگر اُنھوں نے ایک غیر مسلم کے حق میں فیصلہ دیا تو کوئی انہونی بات نہ تھی۔۔۔مگر پاکستان ،جو کہ اسلامی جمہوریہ ہے اور دین اسلام کے نام پہ حا صل کیا گیا ہے اس پاک سرزمین پہ ،اگرکوئی ہما رے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو اُس کو تو اُسی وقت تختہ دار پہ چڑھا دینا چاہیے۔۔کجا یہ ،کہ قانون پاس کیا جائے کہ کون سی بات اُن کی شان پاک کی گستاخی کے زمرے میں آتی ہے اور کون سی نہیں۔گستاخی توگستاخی ہے ،خواہ اُ ن کی شان میں ایک لفظ بھی کوئی اپنے منہ سے نکالے۔
ممتاز قادری پھانسی کا نہیں ، میڈل کا حقدار تھا ۔۔۔میڈل تو اُسے ملے گا عوام کی جانب سے بھی اور بلا شبہ اللہ پاک اور اُس کے رسول پاک ﷺ کی ذات پاک کی جانب سے بھی ۔مگر حکومت وقت کے لیے قابل شرم عمل ہے اُس مرد حق کی پھانسی۔اب اگر یہ کہا جائے کہ حکومت عدلیہ کے ا حکامات کا احترام کرتی ہے تو یہ اس صدی کا سب سے بڑا لطیفہ ہو گا۔سب پر عیاں ہے کہ حکومت کی جانب سء عدلیہ کا کتنا احترام کیا جاتا ہے ، اُ سکے فیصلے کس طرح ہوتے ہیں،حکومت عدلیہ کے فیصلوں پہ اثر انداز ہوتی ہے یا عدلیہ کا ہر حکومتی سطح کا فیصلہ ،در پردہ حکومت کا ہی فیصلہ ہوتا ہے۔
موت برحق ہے اور ہر نفس نے اس کا ذائقہ چکھنا ہے مگر ممتاز قادری کی موت ،ہم سب مسلمانوں کے منہ پہ مشرکین کی جانب سے ایک طمانچہ ہے۔وہ ذات پاک جو قادر مطلق ہے ،وہ جو خیال کے آنے سے پہلے ہی جان جاتا ہے کہ کسی نے کیا سوچنا ہے اور کیا کرنے والا ہے وہ اپنے محبوب برحق کی شان میں گستاخی کرنے والے کو راکھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے ،مگر اُ س کا مقصد ہمارے ایمان کو بھی تو آزمانا ہے کہ ہم جو امت محمدی ہونے کے دعویدار بنتے ہیں ہم اس دعوے میں کہاں تک سچے ہیں۔
ایک وہ وقت تھا کہ جب حاکم وقت کے سامنے ہمارے علماء و فقہاء اُ سکی غلطیوں و کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے تھے ،تو حاکم وقت نہ صرف یہ کہ اُن کی باتوں کو تحمل سے سنتے بلکہ اپنا محاسبہ بھی کرتے تھے اور پھر اپنی ذات میں موجود اُن غلطیوں و کوتاہیوں کو دور کرنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔۔۔مگر آج کسی میں اتنی جرات ہی نہیں کہ کوئی حق بات کہ سکے اورجو کوئی ایسی جرات کا مظاہرہ کر بیٹھے ، اسے تختہ دار پہ چڑھا دیا جاتا ہے۔ حق کو خاموش کرا دیا جائے تو پھر ایسے معاشرے کو عذاب اللہ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔میرا سلام اُن ماؤں کو جو غازی علم دین لوہار اور ممتاز قادری جیسے بہادر اور اسلام کے سچے شیدائی نائب اللہ کو جنم دیتی ہیں۔ممتاز قادری کی شہادت اللہ پاک منظور و مقبول فرمائے۔آمین!

ممتاز قادری پھانسی کا نہیں میڈل کا حق دار تھا۔۔۔” پر بصرے

  • مارچ 1, 2016 at 1:04 AM
    Permalink

    آفرین اعوان صاحبہ ببت ہی جذباتی انداز میں ممتاز قادری کو ہیرو بنانے کی کوشش میں یہ سمجهانا بهول گئیں کہ آخر کن الفاظ میں اور کس طرح سلمان تاثیر توہین رسالت کے مرتکب ہوے تهے ہو سکتا ہے مجهے نہ پتہ ہو؟کیا آفرین بی بی مجهے کچهه سمجهایں گی کہ آخر سلمان تاثیر نے اصل میں کہا کیا تها؟؟؟؟

    Reply
  • مارچ 2, 2016 at 6:44 PM
    Permalink

    I am 100% agreed with Miss Afreen. She is showing the right emotions and these are the true reflection of the feelings of millions of Muslims living in Pakistan (except this so called liberal class). Salman's statements and behavior was similar to Munafiqeen and deserves the treatment which Qadri Shaheed did.

    Reply
  • مارچ 4, 2016 at 11:30 AM
    Permalink

    بہتر ہے آپ من و عن وہ الفاظ لکھیں جو سلمان تاثیر نے کہے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *