ایک طوائف کا سیاسی انٹرویو

296881_10150503319374546_29578713_n
شورش کاشمیری کی کتاب اُس بازار میں سے نوٹ
شورش کاشمیری ایک طوائف زادی کا انٹرویو لے رہے تھے. بے باک طوائف بولی یہاں عورت عورت نہیں شام کا اخبار ہوتی ہے۔جس کے پاس طاقت ہو وہ عورت کو خرید سکتا ہے۔شورش نے کہا حکومت کچھ نہیں کرتی وہ ہنس پڑی اور بولی آپ صحافی ہوکر انجان بنتے ہیں۔کیا حکومت کے لئے تھوڑے کام ہیں، یہ اخلاقی مسئلہ ہے اور اس کا تعلق پورے معاشرے سے ہے. شورش نے کہا حکومت کے بھی تو کچھ فرائض ہوتے ہیں؟ جی ہاں کیوں نہیں؟ وہ اپنے فرائض کو بڑی خوبی سے پُورا کرتی ہے. مثلاً قلعہ کی سیڑھیوں پر لیاقت علی خان نے سلامی لی تھی تو قلعہ کی سیڑھیوں پر جو قالین بچھائے گئے تھے وہ ہمارے مکانوں سے ہی گئے تھے. جب کھبی قلعہ سے باہر یا قلعہ کے اندر کوئی سرکاری تقریب ہوتی ہے تو قالین ہمارے ہاں ہی سے جاتے ہیں.
شورش بولے "اوہو یہ تو ایک خبر ہے" طوائف بولی خبر کیسی؟راعی کا رعایا پر حق ہوتا ہے ہمیں تو سرکاری دنگل کے لئے بھی ٹکٹ خریدنے پڑتے ہیں"
شورش سادگی سے بولے "آپ لوگ انکار کیوں نہیں کردیتے"
"خوب! آپ بھی ہوا میں گرہ لگارہے ہیں. ہمیں تو بعض تھانیداروں کے مہمانوں کے لئے بستر بھی بھیجنے پڑتے ہیں، ایسا نہ کریں تو ہمارا کاروبار ایک دن میں ٹھپ ہوجائے. ہم لوگ عیبوں کی گٹھڑی ہیں جو شخص بھی یہاں آتا ہے وہ اخلاقی چور ہوتا ہے. پولیس سے جھگڑا مول لے کر بھوکوں مرنے والی بات ہے بلکہ قید ہونے والی۔"
یہ طوائف زادی جنکی غیر معمولی متاثر کن گفتگو پڑھ کر دل رنجیدہ ہوگیا جسکی قسمت اُسے اور اُسکے پورے خاندان کو تقسیم ہند کے بعد کھوٹے پر لے گیا والد پٹیالہ کے بڑے زمیندار تھے جنکے پاس تین سو بیگھے بارانی اور تین سو پینسٹھ بیگھے نہری زمین تھی. ماں نے کیمپ میں دم توڑ والد کی عمر اسی برس ہوچکی تھی، اُن پر یہ رحم ہوا کے بیچارے اُس وقت اندھے ہوگئے جب یہ کہانی جنم لے رہی تھی اور یوں اپنی بچیوں کی حالت کو دیکھنے سے معزور رہے.خوب بولی کہ پاکستان تو خدا لایا تھا، اس بازار میں پیٹ لے آیا. یہاں لانے کا انتظام تو لیاقت علی خان کی بدولت اسپیشل ٹرین کے زریعے ہوا تھا.شورش نے طوائف زادی سے آخری سوال کیا کہ اگر آپکو ملک کا وزیراعظم بنادیا جائے تو تم کیا کرو گے؟
وہ مسکرائی اور کہا. میں سب سے پہلے تمام نشے بند کر ڈالوں.
"شراب_ چرس _ بھنگ _ افیون _ چانڈو"
اس لئے نہیں کے شرعاً حرام ہے. "اس لئے کہ انکے استعمال سے جوان جوان نہیں رہتا"
شورش اور اُنکی ٹیم بے اختیار ہنسی. طوائف زادی بولی معاف کیجئے گا "ہمارے مکان معمل ہیں. ہر قوم کی عزت اس کے جوان ہوتے ہیں. میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ سو 100 میں سے ستّر 70 چہروں سے تو جوان ہیں لیکن انکی ہمتیں بوڑھی ہوچکی ہیں."

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *