کیا ایران اسامہ کی جاسوسی کر رہا تھا؟

BBqcmXG اسامہ بن لادن کو مئی 2011میں ایک یک طرفہ آپریشن کے بعد آنجہانی کر دیاگیا تھا۔ اس خفیہ آپریشن کا پاکستان کو علم تھا یا نہیں، اس پر دوآراء ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ ایبٹ آباد کے اس قلعہ نما مکان کے اندر کارروائی کرنے والوں میں کوئی پاکستانی اہلکار شامل نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے برآمد ہونے والے تمام سامان یعنی دستاویز اور ریکارڈ کو اسامہ کی میت سمیت امریکہ نے اپنے قبضے میں لے لیا، اب کل یعنی منگل کے روز اس ریکارڈ کے اس ’خزانے‘ سے صرف 112تحریر یں اور کچھ سامان ڈی کلاسیفائیڈ کیا گیا ہے ۔ ان تمام تحریروں میں اسامہ کی وصیت سمیت اس کے ہاتھ کا لکھا ایک نوٹ بہت اہم ہے:
’’کیا میری بیوی کا وہ مصنوعی دانت ، جو ایرانی دندان ساز نے لگایا تھا، محفوظ ہے ؟ کہیں اس کےا ندر کوئی ’’ٹریکنگ‘‘ِ چپ تو نہیں لگا دی گئی ؟یاد رہے کہ اسامہ کی بیوی کا ایک دانت مصنوعی تھا، اور اس دانت کے اندر چاول کے دانے کے برابر ایسا آلہ لگایاجا سکتا تھا جس سے اس کی موجودگی کا باآسانی سراغ لگایا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ عین اس موقع پر جب ایران اور سعودی عرب کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ وہ عالم اسلام کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کر سکے،یہ خط بڑا معنی خیز ہے۔
ایک دوسرے خط میں اسامہ نے خبردار کیا ہے کہ اغوا برائے تاوان میں ملنے والی رقم کے بریف کیس کے اندر ہی جاسوسی آلات ہو سکتے ہیں ، لہٰذا اس سے خبردار رہا جائے۔ اس خط سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے القاعدہ کے مالی وسائل کے ذرائع میں کیا کیا چیزیں شامل تھیں ۔ اسی طرح ایک خط اس نے اپنی بیوی کے نام لکھاہے، جس میں اسے بیوہ ہونے کے بعد شادی کی اجازت دی گئی ہے لیکن ساتھ کہا گیا ہے کہ قیامت کے روز ، اس سے پوچھا جائے گا کہ اپنے کس شوہر کے ساتھ رہنا پسند کرے گی ۔ اس لیے بہتر ہے کہ تم شادی نہ کرو کیونکہ میں جنت میں تمھارے ساتھ ہی رہنا چاہوں گا۔ یاد رہے کہ اسامہ اپنی ا س آخری قیام گاہ میں تین بیویوں سمیت رہتے تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خاصے فعال رہے ہوں گے۔
ایک تحریر اس نصاب پر مشتمل ہے جو القاعدہ میں شامل ہونے والے مجاہدین کے لیے تجویز کیا گیاہے۔ اس مین ایسی کتب شامل ہیں جو ان کے مخصوص نظریہ جہاد کی حمایت کرتی ہیں ۔ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی وصیت کے مطابق وہ ورثے میں دو کروڑ نوے لاکھ ڈالر چھوڑ کرگئے ہیں۔ وصیت میں اپنے اہل خانہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے یہ رقم جہاد پر خرچ کریں۔اپنے والد کے نام ایک اور خط میں اسامہ نے انھیں اپنی موت کی صورت میں اپنی بیوی اور بچوں کا خیال رکھنے کی درخواست کی۔ان دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے ذہن میں تھا کہ وہ کسی وقت بھی ہلاک کیے جا سکتے ہیں۔اسامہ نے ایک اور تحریر میں کہا کہ میری موت کی صورت میں میرے لیے بہت ساری دعائیں کریں اور میرے نام پر خیرات کریں کیونکہ مجھے ان کی بہت ضرورت ہو گی ۔ ا س سے یہ معلوم ہوتا ہے وہ عقیدہ ایصال ثوب کے قائل تھے۔ا سامہ کی وصیت میں کہا گیا ہے کہ ان کی وارثت سوڈان میں ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ کسی اثاثے کی صورت میں موجود ہے یا یہ رقم کی صورت میں ہے اور آیا یہ اس کے ورثا تک پہنچی ہے یا نہیں۔بن لادن سوڈان کی حکومت کی دعوت پر 1990 ء کی دہائی میں پانچ برس تک مسلسل سوڈان میں رہے۔
دوسری دستاویزات میں انھوں نے افغانستان میں امریکہ اور مغرب کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اپنا تجزیہ پیش کیا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ مغرب اور امریکہ کا خیال تھا کہ یہ کوئی مشکل جنگ نہیں ہو گی اور وہ چند دنوں یا پھر ہفتوں میں اپنے اہداف حاصل کر لیں گے۔ یوں کم از کم اس حوالے سے اسامہ کا تجزیہ امریکیوں اور اس کے اتحادیوں کے مقابلے میں درست تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *