اضطراب کا شکار

mansha afridi

(منشا فریدی)

گذشتہ دنوں بہاولپورڈویثرن کے ایک اعلیٰ تفتیشی افسر نے راقم کو کال کی اورمیرے سابقہ کالم ’’ جناب وزیر اعظم ! ایک نظر ادھر بھی ‘‘کا حوالہ دیا۔اُن کا کہنا تھاکہ تم( راقم الحروف) اُن لوگوں کی حمایت میں بول رہے ہو جنہوں نے افغانستان میں جا کر دہشتگردی کی ٹریننگ لی،اِن موضوعات پر لکھ کرتم موت کو دعوت دے رہے ہو، آئندہ دہشتگردی کے خلاف تمھاری تحریر نہیں آنی چاہیئے۔ راقم نے جواب میں عرض کیا کہ مذہبی و فرقہ وارانہ دہشتگردی نے ملک و قوم کے ساتھ جو کھلواڑ کر رکھا ہے وہ نا قابل برداشت ہے۔ دہشتگردی میں ملوث عناصر کے کیخلاف کارروائی وقت کی ضرورت ہے ۔ اس پر موصوف نے متنبہ کیا کہ قانون نافذ کرنے والوں کے مشکوک کردار پر بحث مت کرو ،سچ، مگراس ضمن میں وضاحت کرتا چلوں کہ راقم نے کبھی بھی کسی ادارے کیخلاف نہیں لکھا۔اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کیخلاف لکھا۔
وطن عزیز پاکستان پر دل اور جان نچھاور۔دیس کے دشمنوں کا منہ کالا۔ وطن عزیز کے جانباز سپاہیوں کی ایک ہی للکار دشمن کو عبرتناک شکست سے دو چار کر سکتی ہے۔عالمی سطح پرمسلمہ ریاست پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر دور میں دشمنوں نے مواقع تلاش کیے۔اور موقع ملتے ہی ڈنک مارنے کی کوشش کی ہے۔ براہ راست تو دشمن پاکستان کاری وار سے محفوظ رہا۔ بالواسطہ وار کرنے میں ہمیشہ کامیاب رہا۔ دشمن ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مٹھی بھر کرپٹ عناصراورمخصوص مساجد و مدارس کے کچھ شدت پسندملاؤں کو خرید کر اپنے مقاصد میں کامیاب رہا۔لیکن سلام ہے حقیقت پسند قلمکاروں اور دانشوروں کو جنہوں نے بر وقت ملکی تحفظ کے لیے اس حرکت پر تنقید کر کے ریاست کا دفاع اور مثبت ویژن کا پر چار کیا۔ راقم نے بھی انھی اصولوں پرچلتے ہوئے باوقار پاکستان کے تحفظ کے لیے لکھا، اور ان عناصر اور اس سسٹم پر تنقید کی جو ملکی وقار کے لیے باعث خطرہ اورنقصان کا سبب رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ راقم دھمکیوں کا نشانہ اور حملوں شکار ہوا۔
مذکورہ پولیس افسر کی کال بھی اسی کا تسلسل ہے۔کیا ان دھمکیوں سے مرعوب ہو کر قلم کو ترک کیا جا سکتا ہے۔ یا اس پاک دھرتی کے تحفظ کی قسم کو توڑا جا سکتا ہے؟۔ہرگزنہیں۔۔۔ وطن عزیز پاکستان کے لیے ہمارے اسلاف نے جو قربانیاں دی ہیں وہ کبھی فراموش نہیں ہو سکتیں۔ہماری فوج کے جوان جو قربانیاں دے رہے ہیں انہیں خراج تحسین پیش کرنا وقت کی ضرورت اورایک ملی و قومی فریضہ ہے۔ دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود نا اہل اور ذاتی مفادات کے شکار افسروں کی بوگس کارروائیاں بھی قابل مذمت ہیں۔
معروف صحافی سلیم شہزاد شہید ہوا،زما ن محسود کو گولیاں مار ی گئیں، حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوا، رضا رومی کو نشانہ بنایا گیا ،اصغر ندیم سید بھی قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے، وجہ کیا تھی؟ محض یہ کہ وہ اُن عناصر پر اس نیت سے تنقید کرتے تھے کہ ملک میں امن قائم ہو۔ وہ دہشتگردی کے خلاف کھل کر اس لیے لکھتے تھے کہ جانتے تھے دہشتگردی نے پاکستان اور پاکستانیوں کو ایک کرب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس شورش میں ہزاروں بے گناہ شہید ہو چکے ۔ آج راقم الحروف بھی اسی اضطراب کا شکار ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *