شوہر کی درخواست۔۔۔تھانیدار کے نام

gul

تھانیدارصاحب! میرا نام’’ شوکی غیرت مند‘‘ہے اور میں گلی نمبر6 ، مکان نمبر12 میں شوہر کے فرائض سرانجام دیتاہوں۔گذارش ہے کہ میری شادی آج سے بیس سال پہلے ہوئی تھی، میری بیوی ایک ان پڑھ عورت ہے جسے یہ بھی نہیں پتاکہ فیملی پلاننگ کیا ہوتی ہے، ایک دفعہ میں قریبی فیملی پلاننگ کے دفتر میں گیاتو اُسے پتا چل گیا، چیخ چیخ کر پورا محلہ سر پر اٹھا لیا کہ میرا بندہ میرے خلاف’’پلاننگ‘‘ کررہا ہے۔جناب عالی! آ پ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی عورت کے ساتھ نباہ کتنا مشکل ہوتاہے، میں چاہتا تو کب کا اسے طلاق دے کر فارغ کر دیتا لیکن میں صرف اس کے باپ کی عزت کرتا ہوں جو ہر ماہ ہمارے گھر کا کرایہ ادا کرتاہے۔ ہر نافرمان بیوی کی طرح میری بیوی بھی میری کوئی بات نہیں مانتی۔ پچھلے دنوں اسے صرف 103 بخار ہوا تو چارپائی سے لگ گئی، رات کو میرے کچھ دوست آگئے، میں نے اس سے کہا کہ بیس روٹیاں پکا دو تو آگے سے کراہنے لگی، ڈرامہ بازی تو ختم ہے اس پر۔ آپ ہی بتائیں کیا گھر آئے مہمانوں کو بھوکا جانے دینا بے غیرتی نہیں؟ اور ہم ٹھہرے خاندانی غیرت مند۔ اللہ بخشے ابا جی تواتنے غیرت مند تھے کہ ایک دفعہ کوئی انگریزی کا فارم پُر کرتے ہوئے ان کی نظر ایک خانے پر پڑی جہاں لکھا تھاSex ۔۔۔اباجی کی غیرت نے جوش مارا اور فارم پھاڑ کر سامنے والے کے منہ پر دے مارا۔
تھانیدار صاحب!غیرت ہماری گھٹی میں پڑی ہے، الحمدللہ شہر کی 90فیصد سڑکوں پر لگے خوبصورت عورتوں والے بورڈ ہمارے ہی خاندان کے لوگوں نے سیاہی پھینک کر برباد کیے ہیں۔تاہم خوبصورت مردوں کے بورڈ دیکھ کر ہمیں دلی خوشی ہوتی ہے۔غیرت چیز ہی ایسی ہے، میری ایک فیس بک فرینڈ بتارہی تھی کہ جو قومیں غیرت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتی ہیں وہ برباد ہوجاتی ہیں۔لیکن حضور! بیڑا غرق ہو پنجاب حکومت کا جس نے حقوق نسواں کے نام پر ایک ایسا بل منظور کرلیا ہے جس کی وجہ سے غیرت کی دھجیاں اڑ گئی ہیں۔ کیا بیوی کو عقل دلانے کے لیے ایک دو لپڑ لگا دینا بے غیرتی ہے؟ کیا بیوی مرد کی ملکیت نہیں ہوتی؟ کیا بیوی کو گالیاں نکالنا خاوند کا حق نہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ عورت صرف مار سے ہی سدھرتی ہے، میری مثال سامنے ہے، جب جب بیوی نے حکم عدولی کی، میں نے وہ حشر کیا کہ چھ دن تک اٹھ نہیں سکی۔الحمدللہ انہی موثر اقدامات کے نتیجے میں میرے گھر کی فضا میں غیرت کی مہک پھیلی۔ میں جو بھی کہتا ، فوراً پورا ہوجاتا ، میں بے شک ساری رات گھر نہ آتا، بیوی کبھی نہ پوچھتی کہ کہاں تھے۔لیکن حقوق نسواں بل کی وجہ سے میرے گھر کا نظام تباہ وبرباد ہوگیا ہے۔میں نے بڑی کوشش کی کہ میری بیوی کو اس بے غیرت بل کی خبر نہ ہونے پائے لیکن آگ لگے ٹی وی کو جس نے ساری بات کھل کر بیان کردی۔ اب یہ حالت ہے کہ میرے گھر میں بدتمیزی اور نافرمانی کے ڈیرے ہیں۔رات کو دو بجے اگر مجھے اچانک بھوک لگ جائے اور میں بیوی سے کہوں کہ مجھے ایک ’’پھلکا‘‘ بنا دو تو آگے سے کہتی ہے ’’ مجھے نیند آئی ہے ،فریج میں ڈبل روٹی رکھی ہے ، انڈہ تل کے اس کے ساتھ کھالو‘‘۔ یعنی اندازہ کریں کہ مجازی خدا بھوکا ہے اور بیوی کو نیند آئی ہے۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ اس کو بالوں سے پکڑ کر دیوار سے دے ماروں، پھر یہ سوچ کر ڈر گیا کہ کمبخت کہیں ون فائیو پہ فون نہ کردے۔
تھانیدار صاحب! میری بیوی شوہر بننے کی کوشش کر رہی ہے، مجھ سے کہتی ہے کہ اپنے کپڑے خود استری کیا کرو۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے میں کس اذیت سے گذر رہا ہوں۔ کہاں وہ دن تھے کہ ہفتے میں تین چار دفعہ اس کی طبیعت درست کر دیا کرتا تھا اور کہاں یہ عالم کہ دو ہفتے گذر گئے اور غیرت کے اظہار کا کوئی موقع ہی نہیں۔میں نے اس سلسلے میں اپنے ماموں کے بیٹے سے بات کی تو اس نے مجھے سمجھایا کہ غیرت مند کی ایک دن کی زندگی بے غیرت کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے۔ یہ سنتے ہی میری غیرت نے جوش مارا، میں گھر پہنچا اور کھانا کھاتی ہوئی بیوی کو بالوں سے پکڑ کر زور سے واشنگ مشین میں دے مارا۔آگے سے رونے لگی کہ میرا قصور کیا ہے؟ میں نے ایک جھٹکے سے اس کی گردن پکڑی اور غرایا’’قصوریہ ہے کہ تم شوہر کے آگے بولتی ہو اور یہ بے غیرتی ہمارے خاندان کے نام پر دھبہ ہے‘‘۔ بس جناب یہ سنتے ہی کمبخت تیزی سے اندر کی طرف بھاگی، کمرے کا دروازہ لاک کیا اور پولیس کو فون کردیا۔ تھوڑی ہی دیر میں پولیس آگئی اور مجھے تھانے لے آئی۔ اللہ جانتا ہے انہوں نے آتے ہی میری ’’تشریف‘‘ پر اتنے چھتر برسائے کہ مجھے چار دن تک ٹی وی بھی کھڑے ہوکر دیکھنا پڑا۔ مقدمہ درج ہوگیا ، بڑی مشکل سے ضمانت تو ہوگئی لیکن اب یہ حالت ہے کہ عدالت کے حکم پرمیرے ہاتھ پر’’ٹریکنگ کڑا‘‘ لگا دیا ہے۔ میں ہر قسم کی غیرت کے مظاہرے سے محروم ہوچکا ہوں۔جب سے کڑا پہنا ہے، میرا کڑا وقت شروع ہوچکا ہے۔ مجھے حکم ہے کہ میں کسی بھی وقت یہ کڑا ہاتھ سے نہ اتاروں ورنہ مجھے گرفتار کرلیا جائے گا۔ حضورِ والا! سنا ہے اس کڑے کی وجہ سے میری ہر حرکت کی خبر عدالت کو مل جائے گی، یہ زیادتی ہے جناب، میں بندہ بشر ہوں،کچھ حرکتوں کو توکڑے سے استثنیٰ ہونا چاہیے۔
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ میں آخر آپ کو درخواست کس بات کی دینا چاہتا ہوں، جناب عالی! میرا مسئلہ یہ ہے کہ کڑا پہننے کے بعد میری بیوی ببر شیر ہوگئی ہے، اب وہ میرے سامنے قہقہے لگاتی ہے اور کہتی ہے’’شوکی! ہن ذرا ہتھ لاکے وکھا‘‘۔ جناب میں بدرجہ اتم ذلیل ہورہا ہوں ،پرسوں میں گھر لیٹ آیا تو بیوی نے دروازہ کھولنے سے انکار کردیا، مجبوراً مجھے برف والے پھٹے پر رات گذارنا پڑی۔اسی طرح گھر میں میرے دوستوں کا آنا جانا بھی بند ہوگیا ہے کیونکہ سب کو ’کڑے‘ لگ گئے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ صرف شوہروں کو ہی کڑے نہ لگائے جائیں ، اتھری عورتوں کو بھی اس کا پابند کیا جائے۔حقوق نسواں بل کی وجہ سے میری بیوی نہ صرف گستاخ ہوگئی ہے بلکہ بے غیرتی کی انتہا کرتے ہوئے اس نے فیس بک پر اپنا اکاؤنٹ بھی بنا لیا ہے اور مجھے پتا چلا ہے کہ اب وہ بلاخوف و خطر یوٹیوب پر گانے بھی سننے لگی ہے۔
خدا کے لیے میری درخواست پر میری بیوی کو بھی گرفتار کریں ا ور اسے سمجھائیں کہ شوہر غیرت کی علامت ہوتاہے ، اس پر رحم کرنا چاہیے۔ کیا ’’حقوقِ شوہراں‘‘وغیرہ کا کوئی بل پاس ہونے کی امید نہیں؟یقین کریں اگر ایسا نہ ہوا تو یہ بیویاں ہم مجازی خداؤں کا وہ حشر کریں گی کہ ’’ہر گھر سے شوہر نکلے گا‘‘۔۔۔براہ کرم میری درخواست پر بھی کاروائی کا حکم دیں، میں چاہتا تو ون فائیو پر کال کرکے بھی آپ کو بلوا سکتا تھا لیکن مجھے ون فائیو کا نمبر نہیں معلوم۔ درخواست پڑھنے میں یقیناًآپ کو تھوڑی مشکل پیش آئے گی کیونکہ یہ میں نے الٹے ہاتھ سے لکھی ہے، سیدھے ہاتھ میں کڑا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اس بات کی کسی کو کانوں کان بھی خبر ہو۔آپ بھی ایک شوہر ہوں گے ، پلیز میری مشکل کو سمجھیں اور میری بیوی کے لیے بھی کڑا تجویز کریں تاکہ بیلنس ہوسکے اور دنیا کہہ سکے کہ ’’دونوں طرف ہے کڑا برابر لگا ہوا‘‘۔ بہت شکریہ۔۔۔فقط شوکی(سابقہ) غیرت مند!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *