آئین نہیں مانتے لیکن مذکرات چاہتے ہیں،تحریک طالبان پاکستان

11-10-13-shahid-ullah-shahid-ttp-spokesman-670پاکستانی طالبان نے ملکی آئین کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا ہے تاہم مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے شمالی وزیرستان میں نامعلوم مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئین کا ایک جز بھی اسلامی نہیں اور حکومت مذاکرات کے ذریعے طالبان سے آئین منوانا چاہتی ہے۔اس سےپہلے رواں ماہ کے آغاز میں ایک انٹرویو کے دوران شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ طالبان ماورائے آئین مذاکرات چاہتے ہیں کیونکہ وہ موجودہ آئین کو نہیں مانتے۔اس انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی طالبان شریعت کو تسلیم کریں گے، اسکے علاوہ کوئی قانون منظور ہوتا تہ یہ جنگ ہوتی ہی نہیں۔
جمعے کے روز شاہد اللہ شاہد کا کہنا تھا کہ کوئی مانے یا نہ مانے قرآن و حدیث مکمل آئین ہے۔یہ پریس کانفرنس ایک ایسے موقع پر کی گئی جب گزشتہ روز شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فوج کی جیٹ طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق 35 شدت پسند مارے گئے تھے۔شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ نہیں، ہم سنجیدہ ہیں اور گزشتہ روز کی بمباری اس کا ثبوت ہے تاہم اس کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کا آئین اسلامی بھی ہے اور جمہوری بھی۔انہوں نے کہا کہ وہ شاہد اللہ شاہد کے بیانات پر تبصرہ نہیں کرسکتے اور جب طالبان کی سیاسی شوریٰ اس حوالے سے بات کرے گی تو وہ اس پر اپنا ردعمل ظاہر کریں گے۔پروفیسر ابراہیم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے آئین پر اہم مذہبی شخصیات کے دستخط بھی موجود ہیں۔
مذاکرات کی خواہش کے اظہار کے باوجود طالبان کی ملک بھر میں پرتشدد کارروائیوں جاری رہنے کی وجہ سے نواز حکومت کسی فیصلہ کن کارروائی کرنے کے سلسلے میں دباؤ کا شکار ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *