انار کلی

saeed.ahmed
انارکلی کا کیا ذکر کروں، اک آہ سی سینے سے نکلتی ہے، میرا مطلب انارکلی بازار سے ہے، جو 30 برس پہلے ایسا روشن اور پر رونق بازار تھا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس بازار میں شاپنگ کرنے کم اور مزے اڑانے کے لئے لڑکیاں اور لڑکے جوق در جوق آیا کرتے تھے۔ انار کلی میں گھومنے والی ہر لڑکی اپنے آپ کو انارکلی ہی سمجھتی تھی یا مدھو بالا، اور یہی حال لڑکوں کا بھی کہ وہ اپنے آپ کو شہزادہ سلیم یا ماتھے پر بال بکھیر کر دلیپ کمار سمجھا کرتے تھے۔
200 برس پرانے اس بازار پر وقت زیادہ گہرے اثرات مرتب نہیں کر سکا، 200 سال بوڑھی یہ انارکلی ابھی تک جوان ہے اور اس کے عاشقان اس کی زیارت با قاعدگی سے کرتے ہیں۔ انار کلی میں سب سے بڑا جھمگٹا ٹھرکیوں کا ہوتا تھا، جس کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے کہ نئی نسل جس نے 90 کے بعد آنکھیں کھولی ہیں، ان کی انارکلی میں دلچسپی نہیں، وہ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی نیم عریاں لڑکیوں کے پیچھے لاہور کی نئی مارکیٹوں، مال اور نئے پلازوں کے چکر لگاتے ہیں، جبکہ انارکلی اپنے سابق ٹھرکیوں سے ابھی تک مطمئن اور خوش ہے۔
شام ہوتے ہی انار کلی کے عاشق خوبصورت لڑکیوں کو ایک نظر دیکھنے کے لئے ٹوٹ پڑتے تھے، انار کلی میں چند مقاماتِ کشش اپنی طرف کھینچتے تھے، بانو بازار کی تنگ گلی میں ہر ٹھرکی کی خواہش ہوتی تھی کہ ایک چکر لگائے، گلی اتنی تنگ ہے کہ لڑکے لڑکیوں کے ٹکرانے کے سو فی صد امکانات ہیں اور اگر نہ بھی ہوں تو نظریں ملانے اور دھکا کھا کر گرنے سے کون روک سکتا ہے۔ بانو بازار میں پہلی نظر کی محبت سے بچنا بہت دشوار عمل ہوتا تھا، دوسری نظر سامنے دہی بھلے اور فروٹ چاٹ کی دوکان پر اپنا کام دکھاتی تھی، ان دو دوکانوں پر لڑکے اپنے پورے ہفتے کا بجٹ استعمال کر دیا کرتے تھے، تیسری نظر سینما گھروں میں فلم دیکھنے کے لئے اپنے جوہر دکھاتی تھی۔
بمبے ساڑھی ہاؤس، زیورات کی، چپل اور انارکلی کے مشہور کشیدہ کاری کئے ہوئے کھسے کی دوکانوں میں گورے گورے پاؤں دیکھنے کے مواقع بھی میسر تھے۔ موتی چور لڈو کی مشہور حلوائی کی دوکان جو پیسہ اخبار کی طرف جاتی ہے اور دائیں ہاتھ پان گلی اور لوہاری دروازے کے سامنے کھیر اور قلفی کی چھوٹی سی دوکان پر حاضری دینا ہر نئے پرانے ٹھرکی کے لئے فرض ہوتا تھا۔
انار کلی بازار کے چند دلچسپ واقعات مجھے یاد آ رہے ہیں۔ مظفر علی سید باکمال اور بے مثال ادب کے نقاد، دانشور ، اور زبردست حس مزاح کے مالک تھے۔ میں ان کے پاس ٹی ہاؤس میں بیٹھا تو مظفر علی سید پرانے واقعات مزے لے لے کر سنایا کرتے تھے، کہنے لگے کہ صفدر میر ان دنوں انار کلی میں ایک تین منزلہ عمارت میں رہا کرتے تھے، صفدر میر کو نئی نسل کے نوجوان نہیں جانتے اور پرانی نسل ان کو بھلا نہیں سکتی، کیا عالم فاضل لوگوں کا شہر تھا، اور اب کوئی نظر میں نہیں سماتا۔ مظفر علی سید کہتے ہیں کہ وہ اور میر صاحب چائے پی رہے تھے اور گرما گرم بحث جاری تھی، صفدر میر کا بلند قہقہہ چھت پھاڑ کر آسمان سے ٹکرا سکتا تھا۔ اس دوران ڈاکیا آیا اور ایک خط دے کر چلا گیا۔ یہ خط ادیب ، ڈرامہ نگار اور معروف بھارتی فلمی اداکار بلراج ساہنی کا تھا۔ میر صاحب نے خط کھولا اور زور دار قہقہہ لگایا، جو یقیناًبلراج ساہنی نے ممبئی میں سن لیا ہو گا۔ خط گور مکھی میں لکھا گیا تھا۔ میر صاحب بغیر بتائے ہوئے کمرے سے نکل گئے اور تھوڑی دیر بعد ایک سکھ کے ہمراہ واپس آئے ۔ سردار جی کو چائے پلائی، تین منزلہ عمارت کی سیڑھیاں چڑھانے پر معذرت چاہی اور کہا سردار جی ذرا یہ خط تو پڑھ کر سنائیں۔
سردار جی خط پڑھنے لگے اور پہلے ہی فقرے پر وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے، دونوں صاحبان نے پوچھا آخر کیا بات ہے۔ سردار جی ہنستے جا رہے تھے، بڑی مشکل سے انہوں نے اپنی ہنسی پر قابو پایا اور پڑھ کر سنایا۔۔۔ یار صفدر میر میں پنجابی میں ابھی ایک ڈرامہ لکھ کر فارغ ہوا ہوں تمہیں یاد کر رہا تھا گورمکھی میں ڈرامہ لکھنے کے بعد تمہیں انگریزی میں خط لکھنے کا موڈ نہیں تھا، تم انارکلی میں رہتے ہو، اور سکھ اکثر وہاں نظر آتے ہیں، تم کسی سکھ کو پکڑ لاؤ گے اور خط سن لو گے۔ صفدر میر اور مظفر علی سید کا قہقہہ کمرے میں بلند ہوا۔ سردار جی نے آگے خط پڑھنے سے معافی مانگ لی میر صاحب نے کہا یار سردار جی وہ میرا بے تکلف دوست ہے، آپ کیوں شرما رہے ہیں۔ سردار جی نے کہا آگے پنجابی میں گالیاں لکھی ہیں جو میں نہیں سنا سکتا۔ کس کو گالیاں لکھی ہیں؟ پتا نہیں کوئی انگریز ہے، ریڈ کلف۔۔۔ اس کو ماں بہن کی گالیاں لکھی ہوئی ہیں۔ سردار جی خط چھوڑ کر چلے گئے.....!!!
راجندر سنگھ بیدی کو انارکلی کے جوتے اور خاص طور پر چپل بہت پسند تھے۔ بیدی اور ڈاکٹر نذیر احمد گہرے دوست تھے۔ ممبئی جانے والا کوئی بھی واقف کار، یار دوست ڈاکٹر صاحب مل جاتا تو وہ اپنے جگری یار راجندر سنگھ بیدی کو چپل بھیجا کرتے تھے۔ مجھے ایک بار ڈاکٹر صاحب نے بیدی کا خط دکھایا ، جس کا پہلا جملہ تھا۔ پیارے نذیر احمد تمہارے چپل ملے سرِ تسلیم خم ہے۔۔۔!!!
منٹو اور عصمت چغتائی اپنے افسانوں کے مقدمے کے لئے ممبئی سے آئے اور واپسی پر انارکلی شاپنگ کرنے گئے۔ منٹو بھی چپل شوق سے پہنتا تھا منٹو کے پاؤں دیکھ کر عصمت نے کہا تھا تمہارے پاؤں تو عورتوں سے بھی زیادہ گورے ہیں۔ عصمت لکھتی ہیں تعریف سن کر منٹو کے مور کے پنکھ جیسی آنکھیں چمک اٹھیں۔
پاکستانی فلم انار کلی میں نور جہاں نے ہیروئین کا رول کیا تھا فلم گانوں اور نورجہان کی اداکاری کی وجہ سے بہت مقبول ہوئی۔ کئی برس گذرنے کے بعد ایک فلمساز کو دوبارہ انار کلی بنانے کا خیال آیا تو وہ میڈم نور جہاں کے پاس آیا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ نور جہاں مسکرائی اور کہا کہ کسی نئی لڑکی کو کاسٹ کرو، مگر فلمساز بضد تھا کہ انار کلی کا کردار صرف نور جہاں ہی کر سکتی ہے، تب نور جہاں نے مسکراتے ہوئے کہا چلو تمہاری بات مان لیتی ہوں جب تم پرانی انار کلی بناؤ گے‘ میں اس میں کام کر لوں گی۔
نورجہاں دوٹوک بات کرنے کی عادی تھیں۔ بغیر سوچے سمجھے جو منہ میں آتا تھا، دوسرے کے منہ پر مار دیتی تھیں۔ ایک بار جرات کرکے میں نے پوچھا کہ میڈم جنرل یحییٰ خان سے دوستی کا تجربہ کیسا رہا۔ ملکہ ترنم نے کہا میں زیادہ دوست نہیں بناتی یحییٰ خان میرا آخری بہترین دوست تھا، بہت مہربان اور دوستی نبھانے والا۔
اسی ملاقات میں گفتگو دلیپ کمار تک پہنچ گئی ، میں نے میڈم سے پوچھا، دلیپ کمار کے متعلق کیا خیال ہے۔ میڈ م نے ایک ایسا پنجابی کا لفظ استعمال کیا جس کو لاکھ کوشش کے باوجود میں لکھ نہیں سکتا۔ میں آخری سطریں انتہائی افسوس اور دکھ کی کیفیت میں لکھ رہا ہوں کہ میرا سب سے پرانا دوست ، جس کو میں ٹھرکیوں کی پارٹی کا چیئرمین کہا کرتا تھا اور جس نے 40 برس انار کلی کی یاترا کرتے ہوئے بغیر ایک دن ناغے کے گذار دئیے۔ انارکلی کی دوکانوں کے مالکان اور ملازمین شاکر علی کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ وہ کہا کرتا تھا کہ جب تک خوبصورت چہرے اور حسین عورتیں نہ دیکھ لوں، رات کو نیند نہیں آتی، انار کلی بازار کا وہ یاتری اور عاشق انار کلی کے بغیر کیسے زندگی گذارتا ہوگا.....!
کبھی سوچتا ہوں کہ شاید کسی دن بھاگ کر وہ واپس انار کلی آ جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *