الطاف حسین دس دن سے کمرے میں بند ہیں ، چونکا دینے والی خبر

Altaf-Hussain-5

 قائد ایم کیو ایم الطاف حسین 10 روز سے کمرے میں بند، اندر سے بدبو آنے لگی۔ نجی ٹی وی  اور ایک نیوز سائٹ نے لندن سے دعویٰ کیا ہے کہ الطاف حسین کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔ کئی دن سے کمرے سے باہر نہیں آئے۔ اس بات کا پتا معتبر ذرائع نے بتایا۔ محمد انور اور متحدہ کے لندن آفس کے لوگ مصطفیٰ کمال کو منانے کے لئے دوبئی بھی گئے تھے۔ نجی چینل کے مطابق لندن میں خبریں گرم ہیں کہ ندیم نصرت اور محمد انور کے مابین اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ندیم نصرت پاکستان کے معاملات چلانا چاہتے ہیں جبکہ انور مخالفت کر رہے ہیں۔ اصل میں جب ء2005 میں الطاف حسین انڈیا گئے تب بھی وہاں بیان دیا تھا کہ پاکستان کی تقسیم ہی غلط تھئ۔ تب کی حکومت نے کیوں سٹینڈ نہ لیا؟ اگر سپاہ صحابہ یا لشکر جھنگوی پر پابندی لگی تو متحدہ پر اس بات کی پابندی لگائی جا سکتی تھی کہ ان کے "را" سے تعلقات سمیت دیگر الزامات ہیں۔ زبانی جمع خرچ سے قوم کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ الطاف حسین کی پارٹی کی ایم این اے پچھلے ہفتے لندن آئیں ، انہوں نے اپنے رشتہ دار کو کچھ باتیں بتائیں جو اس نے مجھ سے شیئر کیں کہ الطاف اپنے کمرے سے نہیں نکلتے، کمرے سے مختلف چیزوں کی بو آتی ہے۔ ان کے اپنے لوگوں کو احکامات لینے بارے دقت کا سامنا ہے۔ میڈیا یا دوسرے لوگوں کو بھی کوئی گائیڈ نہیں کرتا۔ ایک نرس دن رات الطاف حسین کی تہمارداری کرتی ہے۔ رضا ہارون اور ان کی بیوی بشریٰ بھی ناراض ہیں جو لندن آئے ہوئے ہیں۔ وہ بھی خبریں وغیرہ دے دیتے ہیں۔ آفاق احمد کے لوگ بھی لندن موجود ہیں۔ ری ہیبلی ٹیشن یا "را" سے تعلقات بارے باتوں ، چیزوں بارے پاکستانی گورنمنٹ کو سٹینڈ لینا ہوگا۔ وجاہت علی خان نے مزید کہا کہ برٹش گورنمنٹ تو اپنا کام لے رہی ہے، ان کو تو الطاف سے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ مجھے بی بی سی کے نمائندے ایم بینٹ جان نے بتایا کہ آپ اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ الطاف پر دباءو بارے کرائون پراسیکیویشن والوں کو لیٹرز لکھے۔ یہ ہمارا بھی پیسہ تھا اور آپ نے اس بندے کو یہاں بٹھایا ہوا ہے جس پر الزامات ہیں۔ "متحدہ" کے منحرف رہنما سابق میئر کراچی مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس کے بعد "ایم کیو ایم" انٹرنیشنل سیکرٹریٹ لندن میں بھی غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابو "متحدہ"  قائد کی صحت قطعی طور پر تسلی بخش نہیں ہے اور وہ گزشتہ دو ہفتے سے اپنے گھر کے کمرے میں مقید ہیں، پچھلے ہفتے "ایم کیو ایم" کی ایک رکن قومی اسمبلی جو وزٹ پر لندن پہنچی تھیں نے لندن مقیم اپنے بعض عزیزوں کو بتایا کہ "قائد" کی طبیعت انتہائی ناساز ہے اور ان کے معالجین سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس خاتوں ایم این اے نے یہ بھی بتایا کہ میں قائد سے ملنے ان کے گھر گئی تھی تو ان کے کمرے سے دوائوں اور ملے جلے مشروبات کی سخت اور ناقابل برداشت باس آ رہی تھی ان کے مطابق "متحدہ" کے لندن میں موجود افراد بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ کیا کریں اور کس سے احکامات لیں، ذرائع کے مطابق اسی صورتحال کے تناظر میں محمد انور اور طارق گزشتہ دنوں دوبئی بھی گئے تھے جہاں انہوں نے مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی سے ملاقات کر کے انہیں اپنے قائد کی صحت سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے شکوے گلے بھول کر دوبارہ فعال ہونے کے لئے کہا لیکن دونوں رہنمائوں کے انکار پر وہ لندن واپس آگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے فوری بعد مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی کراچی واپسی اور مذکورہ پریس کانفرنس کے تار و پود بنے گئے ادھر لندن میں محمد انور اور ندیم نصرت کے مابین اختلافات کی خبریں بھی زیر گردش ہیں ، کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ چپقلش اس نکتے پر جا رہی ہے کہ کراچی کے معاملات پر ان دونوں رہنمائوں کے درمیان سبقت کس کو حاصل ہوگی۔ دریں اثنا مصطفیٰ کمال کی چشم کشا پریس کانفرنس کے بعد برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کا شدید ردعمل بھی سامنے آ رہا ہے کمیونٹی کے بعض سرکردہ رہنمائوں کے مطابق پاکستان کی حکومت اور مقتدرہ ادارے اب عوام کو مزید گومگو کی کیفیت سے نکالیں اور " ایم کیو ایم" کے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کریں۔ خصوصاً جب ان کے پاس ایم کیو ایم سے متعلق وہ تمام معلومات ثبوتوں کے ساتھ موجود ہیں جن کی بنا پر ریاست اہم فیصلے کر سکتی ہے اور اب جبکہ مصطفیٰ کمال اور ان جیسے کئی سینئر " متحدہ" رہنما خود اپنی پارٹی اور قائد سے متعلق وہی معلومات دے رہے ہیں جو پاکستان کی ماضی اور حال کی حکومتوں اور سکیورٹی اداروں کے پاس عشروں سے موجود ہے، کمیونٹی رہنمائوں کے مطابق بال اب حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں کے کوٹ میں ہے " متحدہ" رہنمائوں پر قائم منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے سلسلے میں کیا مثبت اور حتمی قدم اٹھائے ہیں کیونکہ اگر حکومت پاکستان اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوگی تو برطانوی حکومت اور سکاٹ لینڈ یارڈ بھی اس سلسلے میں کوئی حتمی قدم اٹھانے میں تساہل کا شکار رہیں گے اور جہاں تک برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں اور پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا تعلق ہے تو لارڈ نذیر احمد اور ناز شاہ برطانوی اداروں پر اپنے خطوط کے ذریعے دبائو بڑھا رہے ہیں کہ "متحدہ" اور اس کے قائد پر قائم کیس پر حتمی فیصلہ کیا جائے اور کرائون پراسیکیوشن سروس کو منی لانڈرنگ کا کیس جلد از جلد بھجوایا جائے اور ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا پانچ سال پرانا معمہ بھی حل کیا جائے کیونکہ یہ جرائم برطانیہ میں ہوئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *