یہ مغرب کا پسندیدہ موضوع ہے

jam sajjad hussain

گزشتہ روز ہم مال روڈ پر اپنی زوجہِ محترمہ کے ہمراہ گھوم رہے تھے کہ اچانک مال روڈ کے درمیان والی سبز پٹی پر اُگے درختوں کے شانوں پر پنجاب وویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے زندگی کے مختلف شعبہ ہائے جات میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین کی تصاویر کے ہمراہ من موجی کیپشن لکھے ہوئے دیکھے۔ کچھ تصاویر دیکھنے اور کچھ کیپشن پڑھنے کے بعد زوجہ محترمہ نے اضطرابی کیفیت کا اظہار کیا ۔ چونکہ ہم خود اندر سے پہلے ہی اس تصاویری کیمپئن پر حیرت میں گم تھے اب بیگم صاحبہ کی اضطرابی کیفیت نے کچھ سہارا دیا۔ جن دوستوں نے اس تصاویری کیمپئن کو نہیں دیکھا اُنہیں ایک بار ضرور اس نظارے سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ چلیں کافی کچھ برداشت کرنے کے قابل ہے مگر ایک تصویر کے نیچے لکھا ہوا تھا ۔’’خواتین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 63سال بڑھانے کی منظوری‘‘۔ بیگم صاحبہ فرمانے لگیں ۔اب خواتین 63سال کی عمر میں ریٹائرہونگی؟ یہ تو خود کو خود ہی خوار کرنے والی بات ہوئی۔ اس کیمپئن کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے اس ڈیپارٹمنٹ میں ابھی تک کوئی حکومتی انفارمیشن افسر موجود نہیں وگرنہ اس قدر مری ہوئی کیمپئن میں کچھ نہ کچھ جان ہوتی۔ ویسے بھی پچھلی ایک دہائی سے پاکستان میں آزادیِ نسواں کا کافی شوروغوغا ہے۔ اس شور و غوغا کے پیچھے کون سا دماغ کارفرما ہے ابھی تک اس کا پتا لگانا مشکل ہے۔ ہمارے قانون ساز اداروں نے یہ وطیرہ بنا رکھا ہے کہ ایک دو کیس رونما ہوں تو فوری طور پر ایک بل آتا ہے اور زیادتی کرنے والے کی بلی اس بل کے ذریعے ماردی جاتی ہے اور اس کے بعد اس قانون کا کہاں کہاں غلط استعمال ہوتا ہے اس سے کسی کو کچھ غرض نہیں ہوتی۔ شرمین عبید چنائے صاحبہ نے دوسری بار آسکرایوارڈ حاصل کیا ہے۔ یہ خوش خبری ہے جو بہت سوؤں کو ہضم نہیں ہورہی۔ اُن بیمار ذہنوں میں ایک ذہن اس ناقص العقل راقم کا بھی ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ جو سچ ہے وہ دکھانا چاہیے چاہے اس میں ملک کی بدنامی ہوتی ہے یا نہیں ۔سچ بہرحال سچ ہی ہوتا ہے۔ پہلے شرمین صاحبہ نے پاکستان میں خواتین پر تیزاب پھینکنے کے واقعات کو موضوع بنایا اور آسکر ایوارڈ حاصل کیا۔حالانکہ تب بھی جس خاتون کو فلمایا گیا اسے کئی لالچ دیے گئے، علاج کا لالچ اس میں سب سے نمایاں تھا۔ مگر آسکر کے بعد اس خاتون کا پتا تک نہیں پوچھا گیا۔ اس بار انہوں نے غیرت پر قتل کو موضوع بنایا اور ایوارڈ حاصل کیا۔اس بار بھی معروف پاکستانی ڈائریکٹر سید نور نے پریس کانفرنس کے ذریعے شرمین پر الزام لگایا کہ شرمین نے ان کی فلم سے کہانی چوری کی ہے۔ چونکہ راقم ایک نمایاں انگلش اخبار میں بحیثیت کرائم روپورٹر کے فرائض سرانجام دے چکا ہے اس لیے پاکستان میں جرائم کی نوعیت کی کافی معلومات حاصل ہیں۔ تیزاب پھینکنے یا غیرت پر قتل کے کیسز کا تقابلی جائزہ کیا جائے تو یہ محض ایک فیصد یا زیادہ سے زیادہ دو فیصد سے زیادہ نہیں ہیں۔ اس ملک میں چوری، ڈکیتی، راہزنی، زیادتی ، اغوا ء برائے تاوان اور دیگر جرائم زور ں پر ہیں۔ لیکن یقیناًشرمین نے وہی موضوع زیرِ بحث لانا تھا جس پر دنیا کی سطح پر انہیں پذیرائی حاصل ہو اس لیے انہوں نے خواتین کے خلاف زیادتیوں کو موضوع بنایا ۔ یہ وہ موضوع ہے جو مغرب کا پسندیدہ ہے۔ مغرب میں خواتین کی آزادی کی بہت ساری تحریکیں چلی ہیں۔ ان تحریکوں کے پیچھے بہت سارے عوامل شاملِ حال رہے ہیں۔ جب خواتین کو مغرب میں مکمل آزادی مل گئی تو انہیں احساس ہوا کہ مردوں نے اُنہیں اپنے برابر کھڑا کردیا ہے ۔ اس لیے زندگی کے ہر شعبہ میں انہیں ویسا ہی کام کرنا پڑے گا جس قدر مرد کررہے ہیں۔ مثلاََ انہیں بھی وہی ملازمت کرنا پڑے گی جو مرد کرتا ہے۔ نسوانیت، نزاکت اور احترام بالکل نہیں ہوگا۔ جہاں جہاں عورت عریاں ہوتی گئی وہیں وہیں مغرب نے خواتین کے خلاف ایگریشن پر قانون سازی کردی لیکن عورت کو دی گئی آزادی سے پیچھے نہیں ہٹنے دیا۔ حالانکہ مغرب کی خواتین کے کئی انٹرویوز اور ریسرچ آرٹیکلز چھپ چکے ہیں جن میں خواتین نے مغرب کی دی ہوئی آزادی سے بے زاری کا اظہار کیا ہے ۔ مغرب کی خواتین کو یقین کامل ہوچکا ہے کہ مردوں نے اپنے معاشرے کی خواتین کے ساتھ کھیل کھیلا ہے۔ اس لیے مغربی خواتین کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ مشرق میں خواتین کو اس قدر احترام دیا جاتا ہے کہ وہ محض گھر میں بنتی سنورتی ہیں ، بچوں کا خیال رکھتی ہیں، پارٹیوں میں جاتی ہیں جہاں ان کی عزت افزائی کی جاتی ہے۔ ہر خاتون بہت سارے رشتوں سے جڑی ہوتی ہے ۔ ہررشتہ اس کے لئے احترام کا باعث بنتا ہے۔ مغرب میں ایسا نہیں ہے۔ مغرب میں آزادیِ نسواں اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب باپ اپنی ہی بیٹی سے گھر میں رہنے کا کرایہ وصول کرتا ہے۔ وہ لڑکی سمجھانے پر والدہ کو تھانے میں بند کراسکتی ہے۔ وہی لڑکی جب بڑی ہوتی ہے تو سینکڑوں مردوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہے اور عمر کے آخری حصے میں اُسے کوئی مردا اپنانے کو تیار نہیں ہوتا اور وہ عورت اپنی زندگی پر نظر دوڑاتی ہے تب اُسے یقین ہوتا ہے کہ مشرقی خواتین کیوں اچھی زندگی گزارتی ہیں۔ اب مشرقی معاشروں میں بھی اخلاقی انحطاط پذیری پروان چڑھنے لگتی ہے۔ اب یہاں کی خاتون اپنے لیے وہ سب کچھ مانگے کو تیار ہے جو مرد کو بھی حاصل نہیں۔ مثلاََ مرد کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال ہی ہے مگر خاتون نے اپنے لیے یہ عمر 63سال کرائی ہے اور اس پہلو کو باعثِ عزت لیا جارہا ہے۔ حالانکہ اس شق پر بہت سارے ایسے کیسز وجود میں آئیں گے جہاں خاتون کو مرد اپنے مقصد کے لئے استعمال کرے گا۔ تیزب اور غیرت پر قتل تو ویسے بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے اور اس جرم پر باقاعدہ سزا کا تصور موجود ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے کی خاتون کو سمجھ نہیں آرہی۔ حالات کا تھوڑا عمیق جائزہ لیں تو خواتین کے حق میں بے جا قانون سازی کے پیچھے جو خواتین موجود ہیں وہ بھی ماڈ سکاڈ طرح کی ہیں ۔ جن کا تعلق فیشن اور ایسے تعلیمی اداروں سے ہے جو طرزِمغرب کو اپنائے ہوئے ہیں۔ ایسے قوانین کو پاس کرنے والوں کو بھی دیکھیں تو انہیں بھی فیشن ایبل خواتین ہی اچھی لگتی ہیں کیونکہ مخصوص معاشرتی رویوں کو جس قدر وہ اپنا تی ہیں وہ ہمارے مشرقی معاشرے کی جنرل خواتین کو پتا بھی نہیں۔ اس لیے میری تعلیم یافتہ، زندگی کے شعبہ میں کامیاب اور وہ خواتین جن کے کردار پر دھبہ نہیں انہیں مل بیٹھ کر اس صورتحال کا نہ صرف جائزہ لینا چاہیے بلکہ دیگر معاشروں میں رائج نظاموں کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح اسلام کے زریں اصولوں کو بھی سامنے رکھا جائے کہ اسلام نے خواتین کے حق میں جو قانون سازی کی ہے اور زریں اصول وضع کیے ہیں ان کی موجودگی میں کس چیز کی کمی موجود ہے۔ جہاں جہاں گنجائش پیدا ہوتی ہے وہاں قانون سازی کی جائے ۔ اگر قوانین موجود ہیں تو ان کو نافذ کرانے کے لئے زور لگانا چاہیے نہ کہ ایسے قانون بنائے جائیں جن سے خواتین کی آزادی پر ڈاکہ ڈالا جائے۔ اب شرمین عبید چنائے کے معاملے کو دیکھا جائے تو آزادیِ اظہار ہر کسی کا حق ہے مگر صرف اُن پہلوؤں کو اٹھانا جو مغرب اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ہیں وہ شاید مناسب نہ ہو۔ ہاں ڈرونز حملے اور دہشت گردی ایک گلوبل مسئلہ ہے۔ شرمین عبید چنائے کو چاہیے کہ وہ ان مسئلوں پر بھی غور کریں اور اپنی فلموں کا موضوع یہی رکھیں کیونکہ انہیں گلوبل سطح پر نہ صرف پذیرائی ملے گی بلکہ وہ اپنے ملک کا کیس بھی اچھے انداز میں پیش کرسکیں گی کہ وطن عزیز کے کتنے جوانوں ، معصوموں، خواتین اور بزرگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ شرمین کی اگلی فلم کا انتظار رہے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *