حکومتی اعلان ہوامیں، پرائیویٹ اسکولز بند

Pvt Schools

لاہور -آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن اور پاکستان ایجوکیشن کونسل کی کال پر پنجاب بھر کے پرائیویٹ اسکولز بند ہیں جب کہ پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات نہ مانے تو کل پریس کانفرنس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں پرائیویٹ اسکولز مالکان کی جانب سے فیسوں میں اضافے کے مطالبے کی منظوری کے لیے پاکستان ایجوکیشن کونسل کے زیر اہتمام لاہورسمیت پنجاب بھر کے ہزاروں اسکولز بند ہیں۔ لاہور کے 2 ہزار سے زائد، راولپنڈی سمیت فیصل آباد میں بھی 5700 سے زائد پرائمری ،مڈل اور ہائی اسکول بند ہیں۔ صدر آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینیجمنٹ ایسوسی ایشن کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ہڑتال کا دورانیہ غیر معینہ مدت تک بڑھا دیں گے،پنجاب حکومت کی جانب سے اسمبلی سے منظور کرایا گیا ایجوکیشن اتھارٹی بل فوری طور پر واپس لیا جائے۔ صوبے بھر کے ہزاروں پرائیوٹ اسکولزبند ہونے کی وجہ سے والدین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب کہ والدین کا کہنا ہے کہ امتحان بچوں کے سر پر ہیں اور اسکول بند ہونے کی وجہ سے ان کی تعلیم کا حرج ہورہا ہے۔ پرائیوٹ اسکولز مالکان کا موقف ہے کہ حکومت نے اعتماد میں لیے بغیر اسمبلی میں بل پاس کیا جو انہیں کسی بھی صورت منظور نہیں، آل پاکستان پرائیوٹ اسکولز فیڈریشن کے عہدیداران کے مطابق بند ہونے والے اسکولوں میں بیکن ہائوس، الائیڈ سکول سسٹم ، ایفا ، کمز سکول ،لاہور گرائمر ، لکاس ، لاہور سکول سسٹم ، سٹی سکول سسٹم ، سلامت سکول سسٹم، ریسورس ایکیڈیمیا ، کڈز کیمپس ، لاہور پری سکول ، لرننگ الائنس ، دارالارقم اور امریکن لائسٹف، بلوم فیلڈ سمیت دیگر اسکولز بند ہیں۔ دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود نے دعویٰ کیا کہ آج بھی پنجاب میں 97 فیصد اسکول کھلے ہیں ، پرائیوٹ اسکول طے شدہ معاہدے کے مطابق فیسیں نہیں بڑھارہے لیکن ابھی تک کسی بھی اسکول کے خلاف کاررروائی نہیں کی گئی، حکومت کسی کی اجارہ داری قائم نہیں ہونے دے گی، تعلیم کےنام پرسیاست اورکاروبارنہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی اسکولوں کے ساتھ مذاکرات میں آج کل میں اہم پیش رفت ہوگی، حکومت کی کمٹمنٹ ہے کہ بچوں کومعیاری تعلیم دی جائے جب کہ پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں والدین اوراسکولوں کوسامنے بٹھایا گیا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *