آئین کے پانچ مغالطے

Yasir Pirzadaیاسر پیر زادہ

فرض کریں کسی شخص کی خواہش بہترین مسلمان بننے کی ہو ‘صالح اور پاکباز زندگی گذارنے کی ہو ‘متقی اور پرہیز گار بننے کی ہو‘ حتی الامکان اپنی زندگی قرآن و سنت کی روشنی میں گزارنے کی ہو اور اپنی اس خواہش کے حصول کے ضمن میں وہ ہر وقت کوشش بھی کرتا ہومگر ابھی کلی طور پر اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوپایا ہو تو کیا ایسے شخص کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے یا اسے طعنے دے دے کر مار دینا چاہئے کہ چونکہ تم ایک آئیڈیل مسلمان نہیں بن سکے لہٰذاثابت ہوا کہ تم کافر ہو ؟ احمق سے احمق شخص بھی اس رویئے کی تائید نہیں کرے گا بلکہ ایسے مسلمان کی حوصلہ افزائی ہی کی جائے گی ۔مگرکیا کیجئے ‘اپنا تو باوا آدم ہی نرالا ہے ‘ہمارے ہاں اس قسم کے لوگ بکثرت موجود ہیں جو ایسے مسلمان کو ’’غیرمسلم‘‘بنانے پر تلے بیٹھے ہیں‘ ‘یقین نہیں آتاتو آئین پاکستان اٹھائیں اور اس میں وضع کردہ ’’حکمت عملی کے اصول‘‘ پڑھ لیں جو باب دوم میں درج ہیں ۔یہ وہ اصول ہیں جن پر عمل کرنے کی خواہش کا اظہار مملکت پاکستان نے کیا ہے تاکہ ایک آئیڈیل اسلامی معاشرہ وجود میں آسکے۔ان اصولوں میں شہریوں کو انفرادی اور اجتمای طور پر اپنی زندگیاں اسلامی تصورات کے عین مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے ‘قرآن اور اسلامیات کی تعلیم کو لازمی قرار دینے ‘عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنے‘ قران کی صحیح اور من و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنے ‘اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دینے ‘زکوٰۃ ‘عشر ‘اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنے ‘عصمت فروشی ‘قمار بازی ‘فحش ادب اور اشتہارات کی طباعت‘نشرو اشاعت اور نمائش کی روک تھام کرنے اور ربا (سود) کو جلد سے جلد ختم کرنے جیسے اصول شامل ہیں ۔دوسرے الفاظ میں ریاست پاکستان ان اصولوں کے ذریعے اپنی اس خواہش کا اظہار کر رہی ہے کہ وہ ایک بہترین اسلامی ریاست بننا چاہتی ہے مگر طعنے دینے والے کہتے ہیں کہ چونکہ ان اصولوں پر عمل نہیں ہو رہا لہٰذا ثابت ہوا کہ ریاست اور اس کا آئین ہی غیراسلامی ہے ۔یعنی بہترین مسلمان بننے کی خواہش کرنے والا چونکہ بہترین مسلمان نہیں بن پایا لہذا کافر ٹھہرا‘کیا کہنے!
ہمارے آئین سے متعلق پہلا مغالطہ یہ ہے کہ’’ حکمت عمل کے اصول‘‘چونکہ اب تک نافذ نہیں ہو سکے لہٰذا یہ آئین کی خلاف وزری ہے ٗجبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اصول کسی عدالت کے ذریعے نافذ العمل نہیں ہوسکتے اور یہ بات اسی باب کی شق 30(2)میں لکھی ہے ‘ لہٰذا یہ کہنا کہ ان اصولوں پر عمل درآمد کا نہ ہونا دراصل آئین کی خلاف ورزی ہے اتنی ہی بے سروپا بات ہے جتنی جنرل (ر)پرویز مشرف کا یہ کہنا کہ انہوں نے آئین شکنی نہیں کی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اصولوں میں سے کئی ایسے ہیں جن پر عمل کرنے میں مملکت پاکستان بڑی حد تک کامیاب ہو چکی ہے ‘مثلاً قرآن اور اسلامیات کی لازمی تعلیم‘عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی (اسی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں فدوی نے بھی سکول میں عربی سیکھی جو آج مجھے ’’کیف حالک یا اخی ‘‘ سے زیادہ یاد نہیں رہی)‘قرآن کی صحیح اور من و عن طباعت اور اشاعت کا اہتمام زکوٰۃ‘عشر ‘اوقاف اور مساجد کی تنظیم اورقمار بازی اور فحش ادب کی روک تھام شامل ہیں ‘اس کے علاوہ ربا سے پاک بینکاری کی سہولت تو ملک کے کونے کونے میںدستیاب ہے ۔
دوسری دلیل جو آجکل بڑا ’’رش‘‘ لے رہی ہے کچھ یوں ہے کہ اگر طالبان آئین کو غیر اسلامی سمجھ کر نہیں مانتے تو صرف انہی کو الزام کیوں دیا جائے ‘اس ملک میں وہ لوگ بھی ہیں جو ببانگ دہل آئین کی اسلامی شقوں کے خلاف ہیں اور قرار داد مقاصد کو نہیں مانتے ‘ان کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کی جاتی ! یہ دلیل دہشت گردوں کی بے رحمانہ حمایت کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘کسی بھی ملک کے آئین اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین سے اختلاف کا حق ہر فرد کو آئین کے تحت ہی حاصل ہوتا ہے ‘ہر شخص کا یہ حق ہے کہ وہ اکثریت کے منظور کردہ آئین اور قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کرے یا پر امن احتجاج کرے اور اگر ہو سکے تو مطلوبہ اکثریت کو اپنا حامی بنا کر قانون تبدیل کروا لے‘مثلاً رمضان المبارک کے دوران سر عام کھانے پینے پر قانوناً پابندی ہے ‘ممکن ہے کچھ لوگ اس قانون کے خلاف ہوں مگر محض قانون کے خلاف ہونا قانون شکنی نہیں البتہ اگر وہ لوگ رمضان کے دوران سر عام کھائیں پئیں گے تو یہ صریحاً قانون کی خلاف ورزی ہوگی جس پر انہیں قانون ہی کے مطابق سزا دی جائے گی ۔دوسر ی صورت وہ ہے جس میں ایک گرو ہ آئین کو سرے سے غیر اسلامی کہتا ہے اور پھر معصوم شہریوں کو بم دھماکوں میں اڑا کے اپنی مرضی کا نظام مسلط کرنا چاہتا ہے ‘ ان کے اس عمل کے بعدبھی ان کے چاہنے والے مصر ہیں کہ انہیں اتنا ہی معصوم سمجھ کر ٹریٹ کیا جائے جیسے کسی ایسے شخص کو کیا جاتا ہے جو آئین کی کسی شق کے خلاف آواز بلند کرتا ہے ‘کیا کہنے !
آئین کے متعلق تیسرا مغالطہ اس قدر گھس چکا ہے کہ اب اس کی مونچھیں بھی سفید ہو چکی ہیں ‘اس مغالطے کی رو سے فوجی آمر بھی آئین پامال کرتے ہیں مگر انہیں سزا نہیں ہوتی لہٰذا آئین کی حرمت کا روناکوئی معنی نہیں رکھتا‘ دہشت گرد بہرحال ’’ہمارے اپنے‘‘ ہیں ‘کیا ہو ا اگر وہ بھی آئین کو نہیں مانتے ‘آپ مذاکرا ت کے ذریعے انہیں قومی دھارے میں شامل کریں ‘خدا نے چاہا تو وہ ہتھیار پھینک کرکھیتی باڑی شروع کردیں گے! اس دلیل میں نقص یہ ہے کہ فوجی آمر بندوق کے زور پر آئین کو پامال کرکے اقتدارپر قبضہ کرتا ہے جبکہ دہشت گردوں کا ایجنڈا اس سے بڑھ کر ہے ٗوہ یہ طے کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے شہری اپنے گھروں میں کیسے رہیں گے ٗوہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کیسے کریں گے ٗوہ کون سا کھیل کھیلیں گے (واضح رہے کرکٹ بھی حرام ہے)حتیٰ کہ وہ کون سے کپڑے پہنیں گے ٗاور جو کوئی بھی ان کی مرضی کے خلاف چلے گا ان کے خلاف سزائیں بھی وہی تجویز کریں اور ان سزائوں پر عملدرآمد کروانے کا اختیار بھی صرف انہی کے پاس ہوگا جو ان کے تئیں انہیں براہ راست آسمان سے ودیعت ہوتا ہے۔ بدترین فوجی آمر بھی یہ اختیار نہیں مانگتا۔چوتھا مغالطہ یہ ہے کہ فاٹا میں پاکستان کا آئین نافذ نہیں تو وہاں کے شہریوں سے آئین کی پاسداری کا مطالبہ کس منہ سے کیا جاتا ہے ! حقیقت یہ ہے کہ فاٹا میں صدر پاکستان کوآئین کے تحت ہی اختیار حاصل ہے کہ وہ وہاں قانون سازی کرے ٗعدالتیں قائم کرے یا کسی بھی نوعیت کے دیگر اقدامات کرے ٗیہ بالکل ویسا ہی اختیار ہے جیسا قومی اسمبلی کو آئین کے تحت حاصل ہے یا جس اختیار کے تحت وزیر اعظم روز مرہ کے امور چلاتا ہے ٗفاٹا میں قوانین کیسے مرتب ہوں گے یہ بھی آئین ہی میں درج ہے ۔
آئین سے متعلق ساپانچواں مغالطہ بلوچستان سے متعلق ہے ٗ کہا یہ جاتا ہے کہ ناراض بلوچ جو آئین کو نہیں مانتے انہیں تو ریاست پہلے دن سے قومی دھارے میں شامل ہونے کی دعوت دے رہی تو پھر طالبان کے بارے میں دہری پالیسی کیوں! بلوچستان کا مسئلہ ایک یکسر مختلف ہے ‘وہاں کے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے وسائل اور اختیارات کا تعین دوسرا اکثریتی صوبہ کرتا ہے ‘یہ مسئلہ نہ صرف جمہوری فریم ور ک میں رہتے ہوئے طے کیا جا سکتا ہے بلکہ بلوچوں کی اکثریت اس جمہوری فریم ورک میں یقین رکھتے ہوئے عام انتخابات میں حصہ بھی لیتی ہے لہٰذا انہیں کسی ایسے مسلح گروہ سے ملانا جو پورے ملک پر قابض ہونا چاہتے ہیں ایسے ہی ہے جیسے کوئی کینسر کے مریض کا علاج سر درد کی گولی سے کرنے کی کوشش کرے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *