نئی بوتلوں میں پرانی شراب

imad zafar

وطن عزیز میں آج کل "ضمیر" کے جاگنے کا سیزن پھر سے بام عروج پر ہے. ہمارے وطن میں اکثر ضمیر "فرشتوں " کی مہربانی سے جاگتے ہیں اور پھر چند عہدے، پلاٹ، گاڑیوں اور بک بیلینس میں اضافے کے بعد ستو پی کر سو جاتے ہیں. اکثر ریٹائرڈ بیروکریٹس اور جرنیلوں کے ضمیر بھی آمروں کے رخصت ہونے یا مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ہی جاگتے ہیں اسی طرح اکثر سیاستدانوں کے ضمیر بھی اپنی جماعت میں مزے لوٹنے کے بعد جب مشکل وقت آئے اور نظر آ رہا ہو کہ اب جماعت یا قائد کا بوریا بستر گول ہونے والا ہے فورا جاگ جاتے ہیں. جس طرح آج کل روزانہ کی بنیاد پر متحدہ قومی مومنٹ کو ایک ایک کر کے چھوڑنے والوں کے ضمیر جاگ رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ جلد ہی کراچی اور حیدر آباد میں ضمیروں کا جمعہ بازار لگ جائے گا. وطن عزیز میں اکثر بلکہ ہمیشہ ہی "ضمیر" کو جگانے میں "فرشتوں " کا ہاتھ رہا ہے. مزے کی بات یہ ہے کہ ضمیر کے جاگتے ہی ڈی ایچ اے میں پلاٹ، بلٹ پروف ڈبل کیبن جیپ اور بے تہاشا سادہ کپڑوں والے کمانڈوز حفاظت پر بھی معمور ہو جاتے ہیں. اکثر ضمیر کے جاگنے پر تمام گناہوں سے قانونی طور پر نہ صرف مکتی مل جاتی ہے بلکہ تمام فائلیں بھی بند ہو جاتی ہیں. ایسے میں اب کوئی بیوقوف یا بے ضمیر ہی ہو گا جس کا کہ ضمیر نہ جاگے. سکندر مرزا کے دور سے لیکر آج تک مختلف حالات و واقعات کے تناظر میں "ضمیر" کے  جاگنے کا یہ عمل جاری و ساری ہے.ضمیر  کم بخت جاگتا بھی تب ہے جب ایک جگہ سے طاقت،  اور مراعات کے حصول کے بعد دوسری جگہ سے مزید مراعات اور عہدوں کی پیشکش ہو. فوجی بھائیوں کا ضمیر جاگے تو وطن میں سیدھا سیدھا مارشل لا لگ جاتا ہے. سیاستدانوں کا ضمیر جاگے تو قاف لیگ اور حقیقی جیسی لاتعداد جماعتیں وجود میں آ جاتی ہیں. بیوروکریسی اور بابووں کا ضمیر جاگے تو "پیارے افضل" کی مانند دھرنے میں معافی طلب کی جاتی ہے یا قدرت الہ شہاب اور اوریا مقبول جان کی طرح مذہب اور روحانیت کی چھتری تلے پناہ حاصل کی جاتی ہے.کسی جج کا ضمیر جاگے تو جوڈیشل ایکٹوزم شروع ہو جاتا ہے. یہ ضمیر بھی اشرافیہ کے گھر کی لونڈی کے مانند بن گیا ہے.جب دل چاہا سلا دیا اور جب جی چاہا بیدار کروا لیا. ضمیر کے بیدار ہونے کی کہانی قیام پاکستان سے شروع ہوئی اور ابھی تک جاری و ساری ہے. ایوب خان کا ضمیر جاگا تو پہلا مارشل لا آیا اور فاطمہ جناح بھی بے ضمیر ٹھہرائی گئیں. جنرل یحی کا ضمیر جاگا تو ایک اور مارشل لا آیا اور بھٹو صاحب کا ضمیر جاگا  تو بنگالیوں کو پیغام دیا گیا ادھر ہم ادھر تم. پھر دونوں نے ضمیر کو بیدار کر کے مشرقی پاکستان کو جدا کر دیا. ضیاالحق کا ضمیر جاگا تو ایک اور مارشل لا اور بھٹو کو تختہ دار پر پہنچا گیا. مشرف کا ضمیر جاگا تو پھر مارشل لا اور ایک جمہوری وزیراعظم کی جلا وطنی.  یہ ضمیر جاگ جائے تو اشرافیہ کے سارے جرائم اور گناہ بخشوا کر موجیں کروا دیتا ہے. ان کے تمام کالے کرتوتوں کی فائلوں کو دفن کر کے انہیں کلین چٹ بھی دے دیتا ہے. اس ضمیر کے جاگنے کیلئے "راولپنڈی " کی جانب سے ایک "خواب" کا نزول بے حد ضروری ہوتا ہے. اور اس خواب کو  فرشتے کمال مہارت کے ساتھ عملی جامہ بھی پہنا دیتے ہیں. مشرف دور میں چوہدری برادران کا ضمیر جاگ گیا تھا اور دیکھیے اس کے جاگنے سے ایک بھائی وزات عظمی کی کرسی پر  جا بیٹھا اور دوسرا پنجاب کی وزارت اعلی کی گدی پر. شاہ محمود قریشی کا ضمیر بھی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وزارت خارجہ کی کرسی سے فارغ ہونے کے بعد جاگا اور انہیں تحریک انصاف کا وائس صدر بنا ڈالا. تعجب کی بات ہے کہ کسی عام آدمی کا ضمیر اگر جاگ جائے تو یا تو وہ چار بائی چار کی کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا ہے یا سیدھا عالم ارواح میں بھیج دیا جاتا ہے. کسٹم آفیسر جس نے ایان علی کو رنگے ہاتھوں گرفتار  کر کے ضمیر جگانے کی کوشش کی اس کا انجام سب کے سامنے ہے. جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے وطن میں ضمیر بھی صرف اشرافیہ کے استعمال کرنے کی چیز ہے. غریب یا متوسط طبقے کی پہنچ سے یہ باہر ہی ہے .ضمیر کو جگانے والے "فرشتے"  شاید حقیقت سے آنکھیں موڑ کر تجربات پر ہی یقین رکھتے ہیں وگرنہ اب ضمیر کے جاگنے اور سونے والی کہانی تو دودھ پیتے بچوں کو بھی ہضم نہیں ہوتی. کم سے کم اب کوئی عنوان ہی نیا رکھ لینا چاہیے.  متحدہ قومی مومنٹ کے جتنے لوگوں کا ضمیر اب جاگنا شروع ہو گیا ہے اس کو دیکھتے هوئے یہ اندازہ لگانا ہرچند مشکل نہیں ہے کہ ضمیر کے اس موقع پر جاگنے کی کیا قیمت ہے. ویسے تو مرحوم جون ایلیا بہت عرصہ قبل کیہ گئے تھے کہ "ہم جو عظیم لوگ ہیں ہم بے ضمیر ہیں " لیکن اس کا عملی ثبوت آج کل ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آتا ہے. میڈیا پر بیٹھے پرانے اور بابے قسم کے صحافی جو پلاٹ گھر بنک بیلنس تمام نعمتوں سے بہرہ مند ہو چکے ہیں ان کا ضمیر بھی یکایک بیدار نظر آتا ہے اور وہ قوم کو یہ سمجھانے میں مصروف ہوتے ہیں کہ مصطفی کمال ہرگز بھی فرشتوں کے بھیجے ہوئے آدمی نہیں ہیں.  مزہد برآں صرف فرشتے ہی ملک کے تمام  مسائل حل کر سکتے ہیں.ان بابے صحافیوں میں سے اکثر تو وہ صحافی ہیں جو خود کسی زمانے میں  نواز شریف زرداری اور الطاف حسین صاحب کی تقریریں لکھتے رہے ہیں.لیکن جونہی فرشتوں کا ہاتھ پڑا یا نظر کرم تو فورا ضمیر بیدار کروا بیٹھے.  آفرین ہے ویسے مصطفی کمال پر بھی جو اپنے جرائم کی معافی میڈیا پر ایسے مانگ رہے تھے جیسے ان کے جرائم کی وجہ سے انسان نہیں مرے بلکہ گاجریں مولیاں کٹی تھیں اور اب شرمندہ ہو کر ان کے وہ تمام گناہ دھل گئے ہیں. شنید ہے کہ متحدہ قومی مومنٹ کے بعد پیپلز پارٹی کے بھی کچھ رہنماوں کے ضمیر جگانے کا بندوبست ہو چکا ہے. میاں نواز شریف کو غالبا 1999 کا مارشل لا بہت جلد بھول گیا.اس دور میں خود ان کے اپنے ساتھیوں کے ضمیر جس رفتار اور مقدار سے جاگے تھے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور کیا گارنٹی ہے کہ فرشتے متحدہ اور پیپلز پارٹی کے چند لوگوں کا ضمیر جگانے کے بعد میاں نواز شریف کے رفقا کا ضمیر جگانے کی کوشش نہیں کریں گے.آخر کو وقت بدلتے دیر تھوڑی لگتی ہے. متحدہ کو ضیاالحق کے دور سے لے کر مشرف تک کس کی پشت پناہی حاصل رہی اگر متحدہ کے "بےضمیر" لوگ لب کھولنے پر آئے تو غالبا بہت سے فرشتے بھی بے نقاب ہو جائیں گے. الطاف حسین آصف زرداری یہ دونوں حضرات جب تک طاقت میں تھے تو کسی کا ضمیر نہ تو جاگا اور نہ ہی کسی نے ضمیروں کو بیدار کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا .اب چونکہ سیاسی محاذ پر کچھ بکروں کی بلی دکار ہے اس لیئے ضمیروں کے بیدار ہونے کا سیزن آن پہنچا ہے.  مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ ضمیر جگانے کا یہ سلسلہ اب بند کریں کہ ضمیر جگانے کے سارے خرچے کا بوجھ غریب عوام کے ناتواں کاندھوں پر ہوتا ہے. وہ عوام جس کا ضمیر نہیں بلکہ وجود تک چھلنی  چھلنی کر دیا گیا ہے اور جسے آج بھی پرانی شراب نئی بوتلوں اور پیکنگ میں دوبارہ پیش کر دی جاتی ہے. یہ کھیل اب بند ہو جانا چاہیے کیونکہ اگر کبھی عوام کا ضمیر جاگ گیا تو پھر اشرافیہ کو لینے کے دینے پڑ جانے ہیں . عام آدمی کا ضمیر پھر پلاٹ اور بنگلوں کے حصول کیلیۓ نہیں جاگتا اور نہ ہی ان پر اکتفا کرتا ہے بلکہ پورے کے پورے گلے سڑے نظام اور اس کو چلانے والوں کو خس و خاشاک کی مانند بہا لے جاتا ہے.

نئی بوتلوں میں پرانی شراب” پر ایک تبصرہ

  • مارچ 10, 2016 at 1:23 PM
    Permalink

    A-very-good-article

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *