ایسی فلائٹس جن میں صرف اور صرف خواتین تھیں

16

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا مگر ہوابازی کے شعبے میں جہاں اب تک خواتین کی موجودگی بہت کم تھی اس بار خواتین کے عالمی دن کو مختلف طریقے سے منایا گیا۔بھارتی قومی فضائی کمپنی کے صرف خواتین کے عملے نے دارالحکومت نئی دہلی سے امریکی شہر سان فرانسسکو تک پرواز کی۔پرواز اے آئی 73 کی کپتان کشامتا باجپائی اور سوبھانگی سنگھ تھیں جن کے ساتھ شریک عملے میں شامل پائلٹ، کیبن کا عملہ، چیک ان عملہ، گراؤنڈ پر عملہ، ڈاکٹر سب خواتین تھیں۔

 ایئر انڈیا کی اس پرواز کا سارا عملہ خواتین پر مشتمل تھا جس میں ہوائی اڈے پر عملہ بھی شامل تھا

ایئر انڈیا کی پرواز کے لیے بوئنگ سیون ایٹ سیون طیارہ استعمال کیا گیا تھا جو خواتین کے عملے کے ساتھ دنیا کی طویل ترین پرواز تھی۔یہ پرواز چھ مارچ کو دہلی سے روانہ ہوئی اور اس نے 17 گھنٹوں میں 14,500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور 8 مارچ کو دہلی کے لیے واپس روانہ ہوئی۔ایئر انڈیا نے اس کے علاوہ دہلی سے سڈنی اور دہلی سے لندن کے روٹ پر بھی صرف خواتین کے عملے پر مشتمل پروازیں روانہ کیں اور درجن سے زائد اندرون ملک پروازوں پر بھی سارا عملہ خواتین پر مشتمل تھا۔

 فضائی کمپنی لفتھانسا کے زیرِ انتظام فضائی کمپنیوں سوئس، برسلز ایئر لائنز، آسٹریئن ایئرلائنز نے بھی تمام خواتین کے عملے پر مشتمل پروازوں کا اہتمام کیااس کے علاوہ فضائی کمپنی لفتھانسا کے زیرِ انتظام فضائی کمپنیوں سوئس، برسلز ایئر لائنز، آسٹریئن ایئرلائنز نے تمام خواتین کے عملے پر مشتمل پروازوں کا اہتمام کیا۔سوئس فضائی کمپنی سوئس ایئر کی پرواز ایل ایکس 22 پر تمام عملہ خواتین پر مشتمل تھا جو جینیوا سے نیو یارک کے لیے تھی۔اس پرواز کے لیے ایئر بس A330 طیارہ استعمال کیا گیا۔لفتھانسا نے اپنے بوئنگ سیون فور سیون طیارے کا انتظام خواتین کے ہاتھ میں دیا جو ایل ایچ 400 پر فرینکفرٹ سے نیو یارک پہنچا۔
خواتین کے عملے پر مشتمل لفتھانسا کی پروازاس کے علاوہ لفتھانسا نے خواتین عملے کے ساتھ میونخ سے نیو یارک کی پرواز بھی چلائی۔جبکہ برسلز ایئر لائنز کی پرواز ایس این 501 برسلز سے نیو یارک کپتان لوریٹا فرسٹ آفیسر سارہ کی کپتانی میں چلائی گئی۔اسی طرح بھارتی فضائی کمپنی جیٹ ایئر ویز نے بھی دو پروازوں کا اہتمام کیا جبکہ سپائس جیٹ نے ایک پرواز کا اہتمام کیا جس کا سارا عملہ خواتین پر مشتمل تھا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *