خواجہ سرا اور اسلا می شریعت

151020202617_transgender_pakistan_624x351_afp یہ ایک مسلمہ طبی اور تمدنی حقیقت ہے انسانوں کی صنفی اعتبار سے دو ہی قسمیں ہیں ، ایک مرد اور دوسری عورت ۔ البتہ جسمانی خامیوں کی وجہ سے پیدایشی طور پر یا پیدا ہونے کے بعد جینیاتی بیماری کی وجہ سے بعض انسان نہ مکمل عورت ہوتے ہیں نہ مرد ۔ ان کو اردو میں خواجہ سرا کہتے ہیں۔ان کی متعدد اقسام ہیں ، البتہ عام طور پر تین قسمیں زیادہ مشہور ہیں ، اور انھی سے معاشرتی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ایک قسم میں انسان کی ظاہری صورت مرد کی ہوتی ہے لیکن اس کے مردانہ جنسی اعضاء نا کافی ہوتے ہیں ۔ اسی طرح بظاہر عورت نظر آنے والے انسان نسوانی اعضاء مخصوصہ کی اکملیت سے عاری ہوتے ہیں ۔ تیسری قسم کے انسان وہ ہیں جن میں دونوں طرح کے نامکمل اعضاء پائے جاتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر یہ لوگ اپنی عدم شناخت کا شکار ہوتے ہیں۔ بہرحال یہ تینوں اقسام جنسی طور پر غیر فعال ہوتے ہیں۔ اسلامی شریعت میں ان کے بارے میں براہ راست نہ قرآن میں کوئی حکم ہے نہ حدیث میں۔ البتہ ان کے بارے میں اجتہادی آراء ضرور بیان ہوئیں ہیں۔ ان میں بھی سب سے بڑی پیچیدگی یہ ہے کہ ان کی بطور تیسری جنس کوئی شناخت نہیں ہے۔
پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی کے مطابق خواجہ سراؤں میں مردانہ صنف زیادہ پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ شادیاں کرکے بچے پیدا کرر ہے ہیں۔اُنھوں نے اس سلسلے میں ایک بیان میں کہا کہ یہ خواجہ سرا ظاہری شکل کو بناؤ سنگھار کرکے عورت کا روپ دھالیتے ہیں۔
2015 ء میں اس حوالے سے جو اجلاس ہو ، اس میں اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے غور فکر کو میڈیا کے نمائندوں سے بیان کیا۔ گفتگو کرتے ہوئے چیئر مین مولانا شیرانی نے کہا کہ خواجہ سرا الگ صنف نہیں ہیں۔ بلکہ اُنھوں نے کاروبار کے لیے خواتین کا روپ دھار رکھا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ خواجہ سراؤں کی رجسٹریشن سے پہلے اُن کے طبی معائنے کو لازمی قرار دیا جائے اور اگر کوئی اس معاملے میں غلط بیانی کرے تو اُن کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ طبی معائنے کی رپورٹ کی روشنی میں اگر اُن میں مرد کی علامات پائی جاتی ہیں تو اُنھیں جائیداد میں مردوں کے برابر حصہ دیا جائے اور اگر اُن میں عورتوں کی علامات زیادہ ہیں تو اُنھیں جائیداد میں وہی حصہ دیا جائے جو عورتوں کے لیے دین اسلام میں کہا گیا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ ان افراد کو خاندان سے کسی طور پر بھی الگ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اُنھیں تیسری جنس کے طور پر شناخت دی جاسکتی ہے۔ عام طور پرعلماء نے اس رائے سے اتفاق کیا ہے۔ اس لیے اس طرح کی اولاد کو بیمار تصور کیا جائے گا اوراس کا وہی حکم ہے جو کسی عضو سے محروم شخص کا ۔ والدین پر اس اولاد کا وہی فرض ہے جو دوسری اولاد کا ۔ بلکہ بیمار ہونے کے ناتے زیادہ اور حساس فرض ہے کہ اس طرح کے بچے کی تعلیم و تربیت پرخصوصی توجہ دی جائے۔ حکومت ماہرین کی نگرانی میں ان کے لیے مخصوص سکول اور ادارے بنا سکتی ہے ، اسی طرح جس طرح خاص بچوں کے لیے ہوتے ہیں۔
البتہ پاکستان میں خواجہ سراہوں کی تنظیم کی سربراہ الماس بوبی کا اصرار ہے خواجہ سرا تیسری صنف ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ خواجہ سراہوں کے جسم مردانہ ہوتے ہیں لیکن اُن کی روحیں صنف نازک کی طرح ہیں۔الماس بوبی کا کہنا تھا کہ اُن کے شناختی کارڈ پر جنس کے خانے میں خواجہ سرا لکھا ہوا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ان کو تیسری جنس قرار دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اگرچہ خواجہ سرا شادیاں بھی کرلیتے ہیں اور اُن کے بچے بھی ہیں لیکن وہ خود کو عورت کی تصور کرتے ہیں۔ ان کے اس بیان سے مولانا شیرانی ہی کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے لیکن طبی اعتبار سے ایسے لوگ خواجہ سرا کہلانے کے حق دار نہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں80 ہزار کے قریب خواجہ سرا موجود ہیں۔
انڈیا کی سپریم کورٹ نے خواجہ سراؤں کا ایک دیرینہ مطالبہ مانتے ہوئے 2014 میں حکم دیا تھا کہ انھیں تھرڈ جینڈر یعنی تیسری جنس کے طور پر تسلیم کیا جائے۔عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ خواجہ سراؤں کو ریزرویشن سمیت وہ تمام سہولیات بھی فراہم کی جائیں جو دستور ہند کے تحت دیگر پسماندہ طبقات کو حاصل ہیں۔اس سے پہلے سرکاری ریکارڈز میں صرف دو جنسیں تسلیم کی جاتی تھیں، مرد اور عورت اور خواجہ سراؤں کو ان میں سے ایک خانے میں خود کو شامل کرنا پڑتا تھا۔عدالت میں یہ لڑائی غیر سرکاری ادارے نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی نے لڑی۔ اسی طرح ملیشیا میں بھی عدالت نے اپنے شہریوں کا یہ حق تسلیم کیا ہے کہ وہ اپنی شناخت چاہے مرد رکھیں یا عورت ، آخری اختیار ان ہی کو حاصل ہے۔ دنیا کے باقی سیکولر ممالک میں اسی سے ملتا جلتا قانون ہے جس میں فرد کا حق ہے کہ وہ جنسی طور پر جو شناخت چاہے اپنا سکتا ہے ۔ اس حوالے سے سب کے حقوق برابر ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *