'چاروں طرف' ہے آگ برابر لگی ہوئی

khawaja mazhar nawaz

یہ جہان حیرتوں کا جہان ہے. زندگی قدم قدم پر امتحان لگتی ہے. دیکھنے والی آنکھیں روز نئے مناظر دیکھتی اور سوچ کے سمندر میں غوطہ زن ہوتی ہیں. سوچنے،سمجھنے اور غور کرنے والے ہر منظر اور واقعہ کو دیکھتے اور ذہن میں محفوظ کر لیتے ہیں. خدا کی بنائی اس نرالی اور انوکھی دنیا میں ہر رنگ و قسم کے نظارے ہیں. کہیں غور و فکر کے در وا ہوتے ہیں.  تو کہیں انسان کو عبرت و سبق حاصل ہوتے ہیں. غور و فکر اس کی اولین شرط ہے. خدا نے خود فرمایا ہے. دنیا میں گھومو پھرو اور اس سے نصیحت حاصل کرو. خاکسار نے انہی چند روز میں قابل ذکر مقامات پر کھلی آنکھوں سے جو دیکھا. اسے قلم سے قرطاس پر منتقل کر دیا ہے. لیجئے آپ بھی پڑھئے اور بتائیے کہ کیا ہم نے جو دیکھا ہے وہ درست ہے یا غلط.
میں جب کبھی ہسپتال میں جاتا ہوں تو آنکھیں ہی نہیں، سوچیں بھی حیرت زدہ ہو جاتی ہیں. لگتا ہے جیسے سارا شہر بیمار ہے اور ہسپتال کو دیکھو، طرح طرح کے امراض میں مبتلا لوگوں سے بھرا ہوا ہے. وارڈوں میں بستر کم پڑ جاتے ہیں. مریض زیادہ ہونے کی وجہ سے خوار ہونے پر مجبور ہیں.یہی لگتا ہے کہ جیسے تمام لوگ دکھ اور تکلیف میں ہیں...

میں کچہری جاتا ہوں تو ایسا لگتا ہے. جیسے سارے لوگ یہیں آئے ہوئے ہیں. سب کو وکیل کم پڑیں گے اور یہ سوچنے لگتا ہوں لاکھوں لوگوں کو اتنے کم تعداد میں بیٹھے ججز انصاف کیسے دے پائیں گے..

میں سٹیشن یا بس سٹینڈ پر جاتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ سارا عالم ہی حالت سفر میں ہے.سب کو منزل پہ پہنچنے کی فکر ہے. سب کے ذہن اضطراب میں ہیں کہ جلدی مطلوبہ مقام تک پہنچا جائے. وہاں کا منظر یہ پتہ دیتا ہے کہ شہر بھر کے لوگ سفر پر جا رہے ہیں.

میں جب بھی بازار میں جاتا ہوں. یا کسی شاپنگ مال میں جاوءں  تو وہاں کی رنگینیوں مجھے اپنے سحر میں مبتلا کر دیتی ہیں.
میں یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ سبھی لوگ گھروں سے نکل کر بازاروں میں خریداری کے لئے پہنچے ہیں.دنیا کے لوگوں کا جینے کا مقصد صرف شاپنگ کرنا ہی ہے.

مجھے ایک قیدی سے ملنے جیل جانا پڑا. مجھے یوں لگا جیسے دنیا کی اکثریت کسی نہ کسی جرم میں ملوث ہو کر جیل پہنچی ہے. سب جرائم پیشہ لوگ مجرم قرار پا کر قید کاٹ رہے ہیں..

میں جب کسی ریسٹورنٹ کا رخ کرتا ہوں تو وہاں کوئی خالی میز نظر نہیں آتی. مجھے کافی انتظار کے بعد جگہ ملتی ہے. وہاں کھانے اور قہقہے یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ یہاں خوشیوں اور سکھ کا بسیرا ہے..

مجھے قبرستان جانا ہو تو اس کی ویرانی مجھے اداس کرتی ہے. لگتا ہے یہاں اب نئے مرنے والوں کے لئے دفن ہونے کی کوئی جگہ نہیں، مگر روزانہ بیسیوں لوگ دفن ہونے کے لئ لائے جاتے ہیں اور وہ دفن ہو ہی جاتے ہیں.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *