ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کو میانمار سے نکل جانے کا حکم

dwbجنگوں اور تنازعات میں اپنے کام کی وجہ سے مشہور، بین الاقوامی غیر سرکاری ایجنسی ( این جی او) ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کو میانمار سے باہر نکل جانے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے یہ تنظیم دنیا کے انتہائی غریب ملک میں گزشتہ بیس سال سے بیمار اور لاچار افراد کی مدد کررہی تھی اور جمعے کو تنظیم کو بےدخل کرنے سے ہزاروں افراد کی زندگیوں میں پریشانیاں مزید بڑھ جائیں گی۔
حکومت نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے این جی او پر الزام لگایا ہے کہ وہ تشدد کی شکار ریاست راکھنی میں عدم استحکام اور تناؤ کی وجہ بن رہی ہے۔ واضح رہے کہ اس تنظیم کو راکھنی اسٹیٹ میں تشدد کے شکار مسلمانوں کے علاج اور داد رسی پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
یہ تنظیم ایچ آئی وی اور ایڈز کے شکار مریضوں کی ملک میں سب سے بڑی مددگار تنظیم ہے جو کم و بیش 30,000 افراد کو علاج اور دوائیں فراہم کرتی ہے اور یہ علاج دنیا بھر میں پیچیدہ اور مہنگا تصور کیا جاتا ہے۔
شمالی راکھنی میں گزشتہ ماہ ہونے والے ایک حملے کے بعد تنظیم پر لوگوں کو بدگمان کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق اس حملے میں چالیس روہنگیا مارے گئے تھے جبکہ حکومت نے اس سے انکار کیا تھا۔ لیکن جب ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈر سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا تھا کہ اس نے گولیاں لگنے اور دیگر تیز دھار آلات سے زخمی ہونے والے افراد کا علاج کیا تھا۔
صدارتی ترجمان کے مطابق ہم نے ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی ہوئی تھی، اور وہ علاقے میں مدد کی بجائے وہاں تنازعات کو ہوا دے رہے تھے اور یہ خلافِ قانون بھی تھا۔
اس کے بعد سے اب تک میانمار میں مذہبی اور نسلی فسادات جاری ہیں جن میں 180 افراد مارے جاچکے ہیں ۔ بدھ مت کے ماننے والوں نے روہنگیا کو نشانہ بنایا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *