محمد ابراہیم ضیاء اور پشاور کے فنکار

MHTمستنصر حسین تارڑ

فیض صاحب نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ٹھیک ہے ہم سینئر لکھنے والے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم بڑے لکھنے والے ہیں۔۔۔ بڑے لوگ رخصت ہوتے گئے اور ہم جگہ خالی ہونے پر آگے کی صف میں جا کھڑے ہوئے۔ اس طرح مجھ ایسے معمولی لکھنے والے آگے کی صف میں پہنچ گئے ہیں۔ بڑے ادیب ہم ہو نہیں سکتے البتہ سینئر ادیب ہو گئے ہیں۔۔۔ چنانچہ اس جعلی سنیارٹی کی وجہ سے بیشتر مصنف اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں کہ مجھے اپنی تصنیفات برائے تبصرہ روانہ کریں یا پیش کریں اور یہ ایک نہایت جان لیوا صورت حال ہوتی ہے۔۔۔ آپ کے پاس نہ وقت ہوتا ہے اور نہ صبر کہ تمام کتابیں پڑھیں اور اُن پر جھوٹی سچی رائے دیں۔۔۔ خاص طور پر شاعری کے تو انبار وصول ہوتے ہیں۔۔۔ بہرطور پچھلے دنوں ایک صاحب فون پر رابطہ مسلسل کرتے تھے کہ میں پشاور سے آیا ہوں آپ کی خدمت میں اپنی تصنیفات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اُن کے لب و لہجے سے عیاں نہ ہوتا تھا کہ وہ کوئی لکھنے والے ہیں اور مسلسل اور تیز تیز بولتے تھے جو ایک کان سے مکمل بہرا ہونے کے سبب میرے پلے نہ پڑتا تھا۔ تنگ آ کر میں نے اُنہیں گھر بلا لیا۔۔۔ وہ اپنے ایک ڈاکٹر بھائی کے ساتھ تشریف لائے۔ شکل سے کسی پرائمری سکول کے ناآسودہ سکول ماسٹر لگتے تھے۔۔۔ مسلسل معلومات فراہم کرتے تھے اور کسی کی سنتے نہ تھے چنانچہ ایک بار تو میں نے تھوڑی سی سرزنش کر دی کہ قبلہ آپ چپ ہوں گے تو میں کچھ عرض کروں گا۔۔۔ نام اُن کا بھی خاصا غیر ادیبانہ تھا، یعنی محمد ابراہیم ضیاء۔۔۔ آپ جانتے ہیں ضیاء نام سے میں یوں بھی الرجک ہوں۔۔۔ انہوں نے مجھے اپنی دو تحقیقی کتب عنایت کیں۔۔۔ وہ رخصت ہوئے تو میں اُنہیں سرسری نظر ڈال کر پہلے سے وصول شدہ کتابوں کے ڈھیر میں دفن کر دینا چاہتا تھا لیکن نہ صرف میری نظر بلکہ دل بھی ٹھہرنے کو آیا کہ وہ دونوں کتابیں حیرت انگیز اور شاندار تھیں۔۔۔ پہلی کتاب ’’خطاطی اور مصوری (صوبہ سرحد میں)‘‘ ایسی ہے کہ اسے آرکائیو میں محفوظ کر لینا چاہیے۔ اس میں بہت سارے ایسے خطاط ہیں جن سے ملاقات کا شرف مجھے حاصل ہو چکا ہے اور اُن میں حافظ یوسف سدیدی اور صادقین سر فہرست ہیں۔ کتاب میں قدیم پشاور کی نایاب قلمی تصاویر بھی شامل ہیں۔۔۔ محمد ابراہیم ضیاء کے والد کا نام ایم ایس جانباز آرٹسٹ تھا۔ جانباز صاحب بھی ایک ایسے باکمال شخص تھے جن کی حیات کے بارے میں ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے۔۔۔ مصوری کے عشق میں فنا، سنیما بورڈ پینٹ کرتے، پوسٹر بناتے‘ ’’ہم لوگ‘‘ والے ضیاء سرحدی کے دوست۔ پرتھوی راج نے جن کی فنکاری کی توصیف کی، جنہوں نے والی سوات کی خواہش پر ریاست کے سٹامپ پیپر، دستاویزات وغیرہ کے ڈیزائن بنائے۔ قصہ خوانی کے قتل عام کے دوران انگریزوں کی گولیوں سے بچ کر گھر پہنچ گئے۔۔۔ کیسی بھرپور اور تخلیقی زندگی انہوں نے بسر کی۔۔۔ کمال کے لوگ تھے۔
لیکن یہ محمد ابراہیم ضیاء کی دوسری کتاب ’’پشاور کے فنکار (تھیٹر اور فلموں میں)‘‘ تھی جسے میں نے شروع سے آخر تک پڑھا اور اُن کی تحقیق اور جستجو کا گرویدہ ہو گیا۔ بلکہ ایک اداسی میں مبتلا ہوا کہ کیسے کیسے نابغۂ روزگار لوگ پشاور اور خیبر پختون خواہ میں پیدا ہوئے۔ اپنے فن کے مہاراج تھے۔ پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا اور میرے جیسے لوگ بھی اُن کے نام سے واقف نہیں۔ اس کتاب میں سینکڑوں اداکاروں، موسیقاروں، ہدایت کاروں اور نغمہ نگاروں کے تذکرے ہیں جنہوں نے اس سرزمین سے جنم لیا، جہاں آج سنیما گھروں کو بموں سے اڑایا جا رہا ہے، تماشائیوں کو اُن کے گناہوں کی سزا کی پاداش میں ہلاک کیا جا رہا ہے۔ موسیقی کو حرام قرار دے کر قدیم ساز نذر آتش کیے جا رہے ہیں۔۔۔ اور ماضی میں ان فنون سے وابستہ اس خطے کے تخلیق کاروں نے نہ صرف لاہور بلکہ بمبئی کی فلم انڈسٹری پر اپنی حکمرانی قائم کی۔ کتاب میں سینکڑوں پرانے گیت درج ہیں، نایاب تصاویر اور تاریخی واقعات درج ہیں۔۔۔ میں پڑھتا جاتا تھا اور حیرت میں ڈوبتا جاتا تھا۔۔۔ مجھے یہ تو معلوم تھا کہ بالی وڈ کا سب سے بڑا شاہی خاندان، پرتھوی راج کپور کی آل اولاد، راج کپور، شمی کپور، ششی کپور، رندھیر کپور، رشی کپور۔۔۔ اور آج کی کرینہ کپور اور رنبیر کپور دراصل لائل پور کے نواحی قصبے سمندری سے پشاور منتقل ہوئے، اصلاً پنجابی تھے۔۔۔ دلیپ کمار تو پشاور کی پہچان ہیں، اُن کے بھائی پاکستان کی پہلی فلم کے ہیرو ناصر خان وغیرہ بھی پٹھان نہ تھے پنجابی ہند کو سپیکنگ تھے۔ شاہ رخ خان نے بھی ایک کٹری پشاوری خاندان میں جنم لیا۔ البتہ اداکار جنیت ایک شاندار آواز والے پٹھان تھے جن کے بیٹے امجد خان نے فلم ’’شعلے‘‘ میں گبر سنگھ کا کردار ادا کرتے ہوئے کہا تھا ’’تیرا کیا ہو گا کالیے‘‘ میں یہ بھی جانتا تھا کہ خاموش فلموں کے سب سے مشہور اور خوش وجاہت ہیرو گل حمید پشاوری تھے۔ رفیق غزنوی، ہدایت کار محبوب، گلو کار جی آر درانی، ضیاء سرحدی، انیل کمار، اے کے سہگل، فلم سٹار رحمن، سدھیر، الناصر، آغا طالش، پریم ناتھ، منوج کمار، انیل کپور، اچلا سچدیو، ونود کھنہ، رنگیلا، قوی خان، رحیم گل اور بہت سے دوسرے تخلیق کار کا جن میں مدھو بالا بھی شامل ہیں اس سرزمین کے گل بوٹے ہیں لیکن ان کے سوا درجنوں ایسے لوگ ہیں جنہیں میں نہیں جانتا اور وہ یادگارِ زمانہ لوگ ہیں جنہیں زمانے نے بھلا دیا اور محمد ابراہیم ضیاء نے اُنہیں یاد رکھا۔ آغا پیر جان، ماسٹر گل زمان، اے آر کابلی، پروفیسر میراں بخش، اختر نواز، مُلا محمد ٹائیگر، ماسٹر بچہ، کریم جان پشاوری، زیب النساء، نایاب سرحدی، سدیش کمار، سعید گیلانی۔۔۔ اور درجنوں ایسے بے مثال تخلیق کار جنہیں زمانے نے فراموش کر دیا اور یہ سب لوگ اپنے زمانے میں نامور اور اپنے فن میں یکتا تھے۔ کوئی تو توبہ کرے کہ حکومتی اعزاز ہر برس لطیفے سنانے والوں، مسخروں اور تلوے چاٹتے والے ادیبوں اور شاعروں پر نچھاور کیے جاتے ہیں، کسی کو محمد ابراہیم ضیاء، کا خیال نہیں آتا۔۔۔ میں ہلاک ہو جاتا لیکن ظلمت کے اس ضیاء کو سلام نہ کرتا۔ لیکن میں اس ابراہیم ضیاء کو اپنی نشست سے اٹھ کر سلام کرتا ہوں۔
میں بچھڑ چکے عزیز دوست اور زیتون بانو کے رفیق حیات تاج سعید کو یاد کرتا ہوں جس نے کہا تھا۔
’یہ میری ارض پشاور
ادب اور شعر کا مرکز، ہنر مندوں کا گہوارہ۔۔۔
اسی مٹی سے اٹھے ہیں کئی فلمی ستارے بھی،
کہ جن میں گل حمید اور پرتھوی اور جنیت شامل ہیں
ادیبوں، شاعروں نے بھی
اس ارضِ پاک کو مہرومہ رنج بنایا ہے
ضیاء نے اور پطرس نے کئی نسلوں پر اپنا رنگ چھوڑا ہے
یہاں پر برق اور فارغ، رضا، محسن ، فراز، آذر
کتاب زیست میں ہر جا کہ ان کا تذکرہ بکھرا ہے
یہ میری ارضِ پشاور۔۔۔ یہ میری ارضِ پشاور

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *