یادگارِ بزمِ لاہور ایک دانہ

Intizarانتظار حسین

ذکر لاہور لٹریچر فیسٹول کا تھا۔ ہم نے چلتے چلتے تھوڑا اشارہ اس طرف بھی کیا کہ لاہور جیسے شہر میں یہ فیسٹول ہو رہا تھا اور اردو کا ادیب اس میں برائے نام نظر آ رہا تھا۔ اس وقت تو ہم نے اسے منتظمین کی کوتاہ نظری جانا تھا۔ اس حساب سے کہ اردو کی نئی شاعری کی روایت نے تو اسی شہر سے آغاز کیا تھا اور اسی شہر میں سب سے بڑھ کر پھولی پھلی۔ اس اعتبار سے کہ اس روایت نے کتنی جلدی ایک بڑے شاعر کو جنم دیا۔ یعنی کہ اقبالؔ کو۔ اور یہ کوئی اتفاق نہیں تھا۔ تسلسل میں دیکھیے کہ اقبالؔ کے فوراً بعد فیضؔ‘ راشدؔ اور ہاں میرا جی۔ اور ذرا آگے بڑھیں تو ناصرؔ کاظمی اور منیرؔ نیازی۔

ایک دوست نے اعتراض کیا ہے کہ ناصرؔ اور منیرؔ نیازی پر آ کر رک کیوں گئے۔ کیا اس وجہ سے کہ آگے قدم بڑہاؤ تو ظفرؔ اقبال کھڑا نظر آئے گا۔ واہ‘ خوب یاد دلایا؎

زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا

ارے ظفرؔ اقبال کو نظر انداز کرنے کی کون مائی کا لال جرأت کر سکتا ہے کہ؎

یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

دیکھیے شاعری کے نام پر اس شہر میں کیسے کیسے شگوفے پھوٹے‘ کیسے کیسے گل کھلے‘ کیسے کیسے تنازعے کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد اس وقت کے آتے آتے سارے ہنگامے ختم۔ اکیلے ظفرؔ اقبال رہ گئے۔ جو ہنگامہ برپا ہوا‘ اس عزیز ہی سے وہ وابستہ نظر آتا ہے۔ اس پر ہمیں اقبالؔ کا ایک شعر یاد آیا ہے۔ داغؔ کے انتقال پر اقبالؔ نے کتنا دل سوز مرثیہ لکھا ہے اور تان اس پر ٹوٹی کہ؎

اٹھ گئے ساقی جو تھے میخانہ خالی رہ گیا

یاد گار بزم دہلی ایک حالیؔ رہ گیا

یہاں دہلی کی جگہ لاہور تصور کر لیجیے۔ اور حالیؔ کی جگہ ظفرؔ اقبال کا نام لکھ لیجیے۔ لاہور اب کتنا خاموش چلا آ رہا ہے۔ اب اس شہر میں شاعری کے نام کوئی آواز‘ کوئی للکار سنائی دیتی ہے تو بس اسے ظفرؔ اقبال کے خانے میں رکھیے۔ مگر لاہور میں جو ان کے ہمعصر ہیں انھوں نے جواب میں ہر مرتبہ چپ سادھ لی۔ ہم نے اس عزیز سے کہا کہ اب تمہارا مصرعہ اٹھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ داد بیداد کا جتنا بھی حق ادا کر سکتے ہیں ہم ہی کرتے ہیں۔

دیکھیے‘ ایک بات ہمارے ذہن نشین رہنی چاہیے کہ تعلی ہماری شعری روایت کا حصہ رہی ہے۔ اور وہ جائز سمجھی جاتی ہے۔ ظفرؔ اقبال نے زور بیان میں بس اتنا فرق ڈالا ہے کہ اس فن کو انھوں نے شعر کے دائرے سے نکل کر نثر میں برت کر دکھایا۔ خیر پہلے تو انھوں نے بصورت شعر ہی لنگر ہلایا تھا؎

سچ ہے کہ میرے چاروں طرف جمگھٹا بھی ہے

میں پوچھتا ہوں ’’کیا کوئی میرے سوا بھی ہے‘‘

کوئی ہوتا تو بولتا۔ اگر اکا دکا شہر میں بیٹھا بھی تھا تو اس نے چپ رہنے ہی میں عافیت جانی۔ تب ظفرؔ اقبال نے طے کیا کہ میرے زمانے میں تو میرے سوا کوئی نظر نہیں آ رہا۔ ذرا پیچھے نظر دوڑا کر دیکھتے ہیں۔ پیچھے جو نظر دوڑائی تو غالبؔ کھڑا نظر آیا۔ سوچا کہ پھر اسی سے دو دو ہاتھ کر لیے جائیں۔ اس پر کسی کو اعتراض کیوں ہو۔ ارے بھئی جب اپنے عہد میں کوئی مدمقابل نہ ہو تو پھر پیچھے مڑ کر ہی دیکھنا پڑے گا کہ کون ہمارے جوڑ کا ہے۔ آخر مرزا یگانہؔ نے بھی اپنے عہد کے سورماؤں کو خاطر میں نہ لا کر غالبؔ سے زور آزمائی کی ٹھانی تھی اور سچ پوچھو تو دل ناتواں نے مقابلہ خوب کیا۔ آخر میں آ کر تھوڑا تھک گئے تھے۔ سو یہ کہہ کر چپ ہو گے کہ    ؎

پڑے ہو کونسے گوشے میں تنہا

یگانہؔ کیوں خدائی ہو چکی بس

ظفرؔ اقبال نے دم خم زیادہ دکھایا۔ چپ ہو کر نہیں بیٹھے۔ جن کا سہارا تھا انھوں نے بھی ہاتھ کھینچ لیا‘ تب بھی میدان میں ڈٹے رہے۔ مگر اس سے ان کی ا یک کمزوری ظاہر ہو گئی۔ یگانہؔ نے کسی اپنے پرائے پر تکیہ نہیں کیا تھا۔ جتنا لڑے اپنے بوتے پر لڑے۔ ظفرؔ اقبال ایک سہارے پر تکیہ کر رہے تھے۔ وہ شمس الرحمن فاروقی کے ایک بیان پر تکیہ کر رہے تھے جس کے گواہ وہ خود تھے۔ مگر شمس الرحمن فاروقی نے آخر میں کہہ دیا کہ میں نے تو ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا کہ ظفرؔ اقبال غالب سے بڑے یا برابر کی ٹکر کے شاعر ہیں۔ ادھر شمیم حنفی سے جو بیان منسوب کیا تھا انھوں نے بھی کہہ دیا کہ میں نے تو ایسی کوئی بات نہیں کہی تھی۔ لیجیے؎

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

ظفرؔ اقبال نے یوں فاروقی صاحب پر بہت لے دے کی مگر یہ سب مار پچھلے پکار کی باتیں ہیں    ؎

جو ہونا تھا سو ہو چکا اے کہا رو

چلو لے چلو ڈولی یاں سے کہارو

اس سارے قصے سے یہ نکلا کہ آدمی جب لڑے تو اپنے بوتے پر لڑے۔ غالبؔ نے صحیح کہا تھا کہ    ؎

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو

خیر اب بھی کچھ نہیں گیا ہے۔ سبق ہمیں اپنی کرکٹ ٹیم سے لینا چاہیے۔ جب پٹتے ہیں تو بری طرح پٹتے ہیں کہ چاروں طرف سے تھو تھو ہوتی ہے۔ مگر وہ ہمت نہیں ہارتے۔ کپڑوں سے مٹی جھاڑ کر پھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر اس دلاوری سے لڑتے ہیں کہ حریفوں کے دانت کھٹے کر دیتے ہیں۔ پس پھر ان کی واہ واہ ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ  ؎

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں

تو ظفرؔ اقبال‘ قدم  بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

ارے تو! ہم کیا بات کرنے چلے تھے اور کدھرنکل گئے۔ کہنے یہ لگے تھے کہ نا انصافی ساری غیر کی طرف سے نہیں ہوا کرتی۔ کچھ خط کچھ کمزوری اپنی بھی ہوتی ہے۔ ہم لاہور کے حوالے سے جس شعری روایت کا ذکر کر رہے تھے کچھ ادھر بھی تو بازار کسی قدر سونا سونا ہے۔ اس لیے دوسروںکو بھی اس روایت کی طرف سے آنکھیں پھیر لینے کا بہانہ مل جاتا ہے۔ وہ جو حفیظؔ جالندھری نے کہا تھا کہ   ؎

بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں

وہ زور شور اب کہاں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *