خسارے کا سودا

Asif

انسان اپنے موجودہ اور حاضر علم کا اسیر ہوکر بعض حقیقتوں کا انکار کرتا چلا جاتا ہے.اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ییں . انسان کو فطرت نے غیر معمولی قوتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے.اس میں جذبات ہیں, احساسات ہیں, عدل و انصاف کا مادہ ہے, خیر اورشر کی تقسیم کاشعور ہے, اس میں تعصب بھی ہے اور حقیقت کو محض سوچ لینے سے اس کے کمال اور اس کا استنباط کرنے کی قوت بھی, یہ اس خوبی سے بھی متصف ہے کہ غیر محسوس سے محسوس تک کا سفر طے کر سکے. انسان محدود سے لامحدود کو پہچان سکتا ہے. یہ تمام کمالات اپنے اپنے درجےمیں اپنی اپنی خوبیوں اور اصولوں کے ساتھ ہر انسان میں موجود ہوتے ہیں یہ جب تک ان میں اعتدال رکھتا ہے ان سے فائدہ حاصل کرتا رہتا ہے. مگر جب کسی معاملے میں اپنی کم نگاہی کو اصل اور حقیقت سمجھنے لگتا ہے اپنے فہم اور شعور کی تمام جہتوں کو استعمال نہیں کرتا تو  وہیں صحیح راستہ کھو بیٹھتا ہے.
ابتدا میں انسان موحد تھا ایک خدا کو مانتا تھا مذہب کے تمام مقدمات پر یقین رکھتا تھا مگر زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے اعتقادات میں تبدیلی آتی گئی, مذہب کے اس پیغام کو انسان نے پسِ پُشت ڈال دیا. انھی معاملات کو دہرانے اور یاددہانی کے لیے انبیاء اکرام آئے.
وہ دن تھے کہ جب پیغام پہنچانے والوں نے منادی دے دی کہ انسان کو اپنے اعمال کا جواب دینا ہی پڑے گا. یہ ممکن نہیں کہ فرار کی کوئی راہ نکل سکے. مگر تب تسلسل سے یہی اعتراض اٹھتا رہا یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان مٹی ہو کر دوبارہ جی اٹھے. ہڈیوں کے گلنے سڑنے کے بعد بھی کوئی دنیا ہے؟
انسان کے لیے اس دنیا میں بہت سی نیرنگیاں ہیں جن کی جانب وہ کھینچتا چلا جاتا ہے.ان میں سے ایک انصاف بھی ہے. تاریخ ایسے واقعات سے اس قدر بھری پڑی ہے کہ دنیا میں کئی اقوام نے محض انصاف کی خاطر انقلاب برپا کر دئے. جانیں تک دےدی گئیں. فطرت نے ہمارے اندر یہ خواہش پیدا کردی ہے کہ ہم انصاف چاہتے ہیں. ادنی سے ادنی درجے کا انسان بھی اپنی زات کے حوالے سے یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس کے ساتھ انصاف ہو. انسان کی بنیادی ضروریات....انصاف سے تعلق رکھتی ہیں.
ازہان تک جب یہ آواز آتی ہے کہ وہ اپنی زات میں سب سے بڑا عدل کرنے والا ہے انصاف کرنے والا ہے تو لامحالا عقل اس چیز کا تقاضہ کررہی ہوتی ہے کہ دنیا انصاف کا اور امن کا گہوارہ ہونا چاہیے. مگر اس کے ساتھ ہی اس دنیا کا ظلم اور جبر ایک اور ہی صورت دکھا رہے ہوتے ہیں.  بھوک افلاس کی اس دنیا میں ان اوصاف کی  کامل شکل میں ظہور پذیری نہیں ہو پاتی اور  ان اوصاف کے ہمارے مطلوبہ زہنی معیار پر پورا نہ اترنے کی صورت میں ہم  اپنے موجودہ علم اور تجربے کی بنیاد پر حقیقت کا انکار کردیتے ہیں انسان محض چند مصائب و آلام کا شکار ہو کر کہ اگر کوئی ہستی ہے تو یہ ظلم و ستم کیوں؟ تکالیف کیوں؟ اور انھی موقعوں پر انسان اپنے نفس کے اندر جھانکنے سے انکار کردیتا ہے وہ اس قدر چھوٹے سے نکتے پر نگاہ غلط تک نہیں ڈالتا کہ یہ دنیا امتحان گاہ ہے اسی امتحان کے نتیجے میں آلام و مصائب پیدا ہوتے ہیں اسی کے نتیجے میں تکالیف آتی ہیں لیکن یہ انسان کے ارادے کی بات ہے کہ وہ اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اُس عظیم دن کا انکار کرتا ہے جس کے وقوع پذیر ہونے کی وہ کئی صورتیں عملی شکل میں اس دنیا میں دیکھ چکا ہوتا ہے.
مذہب نے زمانہ اول سے اس دن کی مختلف صورتیں بنی نوع انسان کے سامنے رکھیں. کبھی طوفانِ نوع تو کبھی موسی و فرعون کی شکل میں ایسی قیامتیں برپا کیں مگر یہ سب صحائف اور سینہ بہ سینہ سلسلے تھے اور نا معلوم زمانے میں سے تعلق ہونے کی وجہ سے احاطہِ اعتراض میں آجاتے تھے. مگر سرزمینِ عرب میں جب ایک اکیلا شخص اٹھتا ہے اور اس وقت کا انسان اس مقدمے کو ماننے سے انکاری ہوجاتے ہیں. ایسے وقت میں وہ اعلان کرتا ہے کہ جو اس کی آواز پر لبیک کہے گا بقا پائے گا باقی سب فنا ہوجائیں گے. تب بھی یہی ہوا کہ انسانوں نے اپنے محدود علم کی بنیاد پر تکیہ کرتے ہوئے آنے والے زمانے کی ایک حقیقت کو جھٹلا دیا. اپنے اندر کے تعصب کی بنیاد پر, فطرت کی طرف سے ودیعت کردہ اپنے نفس کے اندر حقائق کو جانچنے ان کو پرکھنے کی طاقت اور صلاحیت کے باوجود محض اس لیے انکار کیا کہ ماننے کی صورت میں اس کائنات کی توجیح بدلنی پڑے گی. سارا منظر بدل جائے گا. زندگی کو ایک نیا رُخ دینا پڑے گا. یہ ایسے ہی ہے کہ جب ہم اس کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں تو اپنے سامنے کچھ حقائق پاتے ہیں انھی حقائق کی بنیاد پر ہم اس دنیا کے بارے میں ایک قیاس فرض کرلیتے ہیں کہ فلاں مظہر کے پیچھےیقیناً ایک قوت ہے جوکارفرما ہے. یہ قوت ہم سے کچھ مطالبات کررہی ہوتی ہے.یعنی ہمارے حواس جس چیز کا مشاہدہ کررہے ہوتے ہیں ان سے جو نتائج نکلتے ہیں عقل ان کا منطقی طور پر تقاضا کررہی ہوتی ہے کہ اس سے کوئی نتیجہ پیدا کیا جائے کہ ایسا کیوں ہے. بالکل اسی طرح ہمارے اندر نفس اور مادے کا مشاہدہ یہ بتارہا ہوتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک نہیں ہیں تو لازماً ان کے مشاہدے کی صورت میں ان سے حاصل شُدہ نتیجہ بھی ایک جیسا نہیں ہوسکتا.جب ہم یہاں تک پہنچتےہیں تو نفس جس چیز کو خیر اور شر میں فرق کر کے ہمارے سامنے رکھتا ہے تو لامحالا خیر اور شر کو اپنے مکمل کمال اور اعلی درجے کی صورت میں ظہور پذیر ہونے کی خواہش رکھتا ہے-قیامت اسی خیر اور شر کے اپنے اصل کے ساتھ قائم ہونے کا ہی نام ہے.اُسی انصاف اور عدلکے اوصاف کو اپنے کمال درجے پر ظاہر ہونے کا نام ہے. انسان کی اسی فطری انصاف پسندی کی خواہش کا نام ہے. مگر افسوس کہ انسان خسارے کا سودا کرتا ہے. عقل وشعور میں محض اپنے نفسانی رجحانات میں اعتدال نہ رکھنے کی بدولت حقیقت سے دور ہوجاتا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *