سیتا وائٹ : ایک بد قسمت شہزادی کی کہانی

aaaaa

جب ایک برطانوی صنعت کار لارڈ گورڈن وائٹ مرحوم کی 43 سالہ بیٹی سیتا وائٹ گزشتہ مئی کو سانتا مونیکا میں اپنی یوگا کلاس میں دم توڑ گئی تو اْس وقت اْس کی زندگی ایک کٹی پتنگ کی طرح بے رحم ہواؤں کے دوش پر تھی۔ وہ منشیات اور مشکوک کردار کے ’’مالی مشیران ‘‘ کے رحم و کرم پہ تھی۔ اس کے پاس ایک بچی تھی جو ایک پاکستانی سیاست دان، عمران خان، جس کی جمائما گولڈ سمتھ سے بھی علیحدگی ہو چکی ہے، کے ساتھ بیتے ہوئے دنوں کی نشانی ہے۔ سیتا وائٹ کو اپنے باپ کی جائیداد کے حوالے سے اپنے سوتیلے بھائی اور نوجوان سوتیلی ماں کے ساتھ بھی کشمکش کا سامنا تھا۔ چوبیس مئی سوموار کی ایک روشن سہ پہر تھی جب لاس اینجلس کے سینٹ مونیکا کیتھولک چرچ میں سیتا وائٹ، جو تیرہ مئی کو نو بج کر پندرہ منٹ پرسانتا مونیکا کی مین سٹریٹ میں ’’یوگا ورکس اسٹوڈیو‘‘ میں اپنی یوگا کلاس شروع ہونے سے پہلے فوت ہو گئی تھی، کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ وفات سے پہلے وہ اپنی اکتالیس سالہ سوتیلی والدہ وکٹوریہ وائٹ او گرا ، جو کہ سیاہ بالوں والی ایک پر کشش خاتون اور سابقہ ماڈل تھی، کے ساتھ رہ رہی تھی۔ چرچ سروس میں چالیس کے قریب شرکا تھے مگر اْن میں سے کوئی بھی سیتا وائٹ کا قریبی رشتے دار نہ تھا، حتیٰ کہ اْس کی والدہ ، بہن ، سوتیلا بھائی، سوتیلی والدہ اور بیٹی بھی وہاں موجود نہ تھے۔ ارجنٹائن نڑاد پرکشش شخصیت کے مالک اکتالیس سالہ ویٹر جون ارسک(John Ursich)، جس سے سیتا نے جون2002 میں شادی کی لیکن اب اْن کی علیحدگی ہو چکی تھی، نے اْس کا تابوت چرچ میں پہنچایا۔ سیتا وائٹ نے اپنے قانونی کاغذات میں کہا ہے کہ وہ اس کے ساتھ ناروا سلوک کرتا تھا (جون ارسک اس الزام کی تردید کرتا ہے)۔ چرچ سروس سے دو راتیں قبل بیورلے ہلز میں مسٹر چو(Chow Mr.)میں سیتا کے دوست ، بشمول لندن سے تعلق رکھنے والے نیکولس کیمیلری ، برطانیہ کا سابقہ کار ریس ڈرائیور رپرٹ کیگن، سابقہ ماڈل انگ ھازبروک اور جائیداد میں سرمایہ کاری کرنے والا علی ونسٹن بیٹھے شمپئن پی رہے تھے۔ وہ سب کسی بات پر پریشان تھے۔ سیتا کے ایک دوست نے پوچھا ...’’ وہ ای میل کس نے بھیجی ہے؟‘‘ وہ سب اس بات پر حیران تھے کہ سیتا کی تجہیز و تکفین کے لیے اتنے پیچیدہ انتظامات کس نے کیے ہیں اور اس موقع پر کون آرہا ہے؟ان سوالات کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔ تدفین کے موقع پر سرخ گالوں والے چوالیس سالہ کیمیلیری نے مرحومہ کے لیے آلوداعی گیت گایا۔ اْس نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ سیتا کی اڑتالیس سالہ بہن کیرولینا نے اس صبح سب عزیزوں اور رشتے داروں کو فون کرکے بتا دیا تھا کہ وہ چرچ میں نہیں جا رہی ہے۔ درحقیقت وہ اس جنازے کو رکوانے کے لیے عدالت بھی گئی تھی کیونکہ اْس نے سیتا کے لیے اْس کے دو ملین ڈالر مالیت سے بیورلے ہلز پر بنے ہوئے مکان پر آخری رسومات کا پرائیویٹ طور پر اہتمام کیا تھا۔ کیمیلیری کے کئی سالوں سے کیرولینا سے تعلقات ہنگامہ خیز رہے تھے۔ آخر میں اْس نے افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان جذبات کی وجہ سے سیتا کے لیے اْن اچھے خیالات کا اظہار نہ کرسکا جس کی مستحق تھی۔ اْس نے کہا کہ وہ فراخ دل عورت تھی اور ہو سکتا ہے جن ڈرامائی حالات میں اْس کی موت واقع ہوئی ، اْس نے اْس نے لطف اٹھایا ہو کیونکہ وہ ایک ’’ڈرامے کی ملکہ تھی‘‘۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سیتا کو وہ توجہ موت کے وقت نصیب ہوئی جس کی زندگی بھر اْسے تمنا رہی تھی... زندگی میں نہ صرف اْس کے والد ، جس کا کہنا تھا کہ سیتا نے اْسے مایوس کیا ہے، اور بہن نے نظر انداز کیا بلکہ وہ اپنے پاکستانی دوست اور کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی عمران خان ، جس نے اْس کی بیٹی تیرائن، جو اب بارہ سال کی ہے، کو اپنانے سے انکار کر دیا تھا ، کی بے اعتنائی کا بھی شکار ہوئی۔ دراز قامت، سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والی سیتا وائٹ ایک پرکشش خاتون تھی۔ اْس نے تمام عمر اپنے جسم کو سمارٹ رکھا۔ زندگی کے آخری ایام میں اگرچہ ہنگامہ خیز زندگی، منشیات ، کاسمیٹک سرجری اورڈائیٹنگ نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا تھا تاہم اپنی جوانی میں وہ بہت جاذب نظر تھی... اگرچہ اتنی نہیں جتنی اس کی بڑی بہن کیرولینا، جو ماڈلنگ کرتی تھی۔ زندگی کے جذبوں سے بھر پور دلفریب آنکھوں اور غمزہ و ادا سے لبریز مسکان والی سیتاوائٹ باغ زندگی کی ایک دلکش کلی تھی جس کے خدوخال دیکھنے والوں کو بے خود کر دیتے تھے۔کبھی وہ Ford Econovan چلایاکرتی تھی اور اس کے اندرونی حصے کو اس نے Learjet جیسی شکل دے رکھی تھی جبکہ موت سے پہلے اْس کے زیرِ استعمال گاڑیHummer تھی... اس سے کم معیار کی گاڑی اْس کو زیب نہیں دیتی تھی۔ جنازے کے بعد اْس کے جسدِ خاکی کو دفنانے یاجلانے کی بجائے مردہ خانے میں اْس وقت تک رکھا جانا تھا جب تک پوسٹ مارٹم کے نتائج نہ آجاتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لاس اینجلس پولیس ڈپارٹمنٹ نے قتل کے امکانات کو ابھی تک مکمل طور پر رد نہیں کیا تھا۔ دو ماہ کی تحقیق کے بعد آخرکار اس بات کا تعین کر لیا گیا کہ اْس کی وفات طبی تھی اور اس کی وجہ پھیپھڑوں میں بننے والی کینسر کی ایک گلٹی تھی اور یہ بات حیران کن تھی کہ سیتا نے کبھی منشیات استعمال نہیں کی تھیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات بھی باعثِ حیرت تھی کہ سیتا وائٹ اور وکٹوریہ وائٹ او گرا اکٹھے یوگا کی کلاس لینے جاتے تھے کیونکہ قانونی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں... اور کچھ دوست بھی اس بات کی تصدیق کرتے تھے ... کہ سیتا اپنی سوتیلی والدہ کو نا پسند کرتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب وکٹوریہ نے لارڈ وائٹ سے شادی کی تو وہ اْس سے عمر میں چالیس سال بڑے تھے۔ ان کی ازدواجی زندگی ، جس کا دورانیہ تین سال تھا ، 1995 میں ختم ہو گئی جب لارڈ وائٹ72 سال کی عمر میں فوت ہو گئے۔ ایک دوست کا کہنا ہے کہ وکٹوریہ شاید مشہور امریکی ماڈل سٹیفنی سیمور سے بھی زیادہ دلکش تھی۔ سیتا کا خیال تھا کہ وکٹوریہ، کیرولینا اور اْس کے انتیس سالہ سوتیلے بھائی لیوکس نے اس کی جائیداد ، جو سیتا کے اندازے کے مطابق 400 ملین ڈالر کے قریب تھی، کے حصے سے اْس کو محروم کر دیاہے۔ لیوکس کے ترجمان کے مطابق جائیداد کے تخمینے اور الزامات کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ ان میں غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے۔ سیتا اور کیرولینا، دونوں کو کیلی فورنیا میں ایک گھر ایک گھر ملا تھا لیکن وہ قانونی طور پر Panamanian ٹرسٹ کی ملکیت تھے۔ ان دونوں بہنوں کوبیرونِ ملک ٹرسٹ سے تیرہ ہزار ڈالر فی کس ماہانہ رقم بھی ملتی تھی تاہم وہ اس کے اصل سرمائے تک دسترس نہیں رکھتی تھیں اور نہ ہی اْن کو اس کی تفصیل کا علم تھا۔ اس کے علاوہ دونوں بہنوں کو ان کاغذات ، جن کے مطابق وہ باپ کی انگلستان میں موجودجائیداد کے اپنے حصے سے دستبردار ہوتی ہیں، پر دستخط کرنے کے عوض فوری طور پر پانچ لاکھ ڈالر فی کس رقم بھی ملی تھی۔ دونوں بہنوں نے اس پردستخط تو کر دیے لیکن، جیسا کہ سیتا نے بعد میں بتایا کہ اْنہیں مکمل طور لاعلمی میں رکھا گیا اور دستخط کرتے وقت اْن کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کررہی ہیں۔ لارڈ وائٹ 1995 میں یو سی ایل اے میڈیکل سنٹر، جہاں وہ پھیپھڑوں کی بیماری کے لیے داخل تھے، میں قومے میں تھے اور وہ اسی حالت میں فوت ہو گئے۔ وہاں وکٹوریہ کی والدہ ، ڈکسی ٹکر اور ایک نرس نے اْن کی دیکھ بھال کی۔ لارڈ وائٹ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ لاس اینجلس کاونٹی کے دفتر میں موجود نہیں ہے۔ ان کی وفات کے فوراً بعد وکٹوریہ نے اپنے سابقہ بوائے فرینڈ ٹام اوگرا کو وائٹ کے بیل ائیر منشن میں قیام کے دعوت دے دی۔ اْن دونوں نے اگلے سال ،1996، کے اختتام پر شادی کرلی۔ اسی دوران سیتا نے اپنے ایک جاننے والے کو بتایا کہ وہ اپنی جائیداد کا حصہ لینے کے لیے اپنی سوتیلی والدہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے گی۔ اْس کا کہنا تھا کہ اْس نے اپنے باپ سے یہ گرْ سیکھا تھا کہ’’ اپنے دوستوں کو قریب رکھو لیکن اپنے دشمنوں کو قریب تر رکھو۔‘‘دوسری طرف وکٹوریہ کی اوگرا سے جب 2002 میں علیحدگی ہو گئی تو وہ Idaho، جہاں وہ چارہزار ایکٹر پر محیط ایک فارم پر رہتی تھی،سے واپس لاس اینجلس چلی آئی۔طلاق کے کاغذات کے مطابق وہ وہاں کی تنہائی بہت اذیت ناک تھی۔ اب سیتا اور وکٹوریہ نے باقاعدگی سے فون پر بات چیت کرنا شروع کردی۔ سیتا نے وکٹوریہ کی تصویر بھی اپنا گھر میں آویزاں کر لی، تاہم وہ وقت کا انتظار کر رہی تھی جب وکٹوریہ مالی معاملات میں ہاتھ ڈالے۔ اْس نے وکٹوریہ کی طرف سے سیتا کے والد کی جائیداد میں سے فرنیچر، تصاویر اور کچھ نوادرات کو کرسمس پر فروخت کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کا بھی پروگرام بنا لیا تھا۔ اس سلسلے میں سیتا نے کئی سالوں سے اپنے والد کے ایک پرانے دوست تھامس کوربلی، جو سابقہ انٹیلی جنس ایجنٹ اور ایک زیرک انسان تھا، کو اعتما د میں لے رکھا تھا۔وہ ڈوریس ڈیوک، باربرہ ہٹن اور فیشن ڈیزائنر میری میک فیڈن سے اور بہت سی دوسری لڑکیوں سے کامیاب معاشقے لڑا چکا تھا، اور یہ وہی تھا جس نے 1963 میں برطانیہ کے لیے امریکی سفارت کار کو Profumo آفیئر کے بارے میں بتایا تھا۔ زندگی بھر اْس نے انتہائی راز داری کے ساتھ سراغ رسانی اور سیکورٹی فراہم کرنے والی ایک عقربی پرائیویٹ فرم ’’کرول ایسوسی ایٹس ‘‘کے ساتھ روابط رکھے تھے۔ کوربلی کے لارڈ وائٹ کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔ (جاری ہے ) بشکریہ ونٹی فیئر میگزین

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *