حیرت کدۂ منشیات کے عجائبات

Ashraf qاشرف قریشی

گزشتہ ہفتے میکسیکو کے انتہائی مطلوب منشیات فروش کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر امریکہ میں مقدمہ چلے گا۔ منشیات کی دُنیا بھی ایک عجیب حیرت کدہ ہے۔ ایک زمانے میں کولمبیا کے منشیات کے گُرگے بہت مشہور رہے ہیں۔ کولمبیا کے شہر میداژین کو پابلو الیسکوبار نے میڈیا میں متعارف کرایا۔ اس نے 1970ءمیں جرائم کی دُنیا میں قدم رکھا۔ منشیات کی دُنیا میں آیا تو ایک دیو مالائی کی شخصیت بن گیا۔ 1989ءمیں فوربس میگزین نے اُسے دُنیا کے ارب پتیوں میں شمار کیا خود اس کی ذاتی دولت کا اندازہ تین ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔ دُنیا بھر میں کوکین کی تجارت میں اسی فیصد پر الیسکو بار کو بالا دستی حاصل تھی۔ میداژین کے لوگ اس کی ابتدائی مجرمانہ زندگی کو بھول کر اسے ایک ہیرو کی طرح پوجتے تھے۔ منشیات کی دُنیا میں کاروباری رقابت بے حد شدید ہوتی ہے۔ کوئی منشیات کا سرگروہ کسی دوسرے کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتا منشیات فروشی رفتہ رفتہ دوسرے جرائم بالخصوص قتل و غارت لڑائی بھڑائی کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔ مال حرام کمانے والے صحتمند کاروباری مقابلے کے قائل نہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں بھتہ خوری پر ایک دوسرے کو راستے سے ہٹانے کے لئے لڑائیاں اور ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے۔ پابلوالیسکو بار نے اپنے مخالفین کے ستائیس ہزار ایک سو افراد کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اس پر مستزاد چھ سو پولیس والوں کو قتل کرایا تھا۔

کولمبین حکومت نے بالاخر الیسکو بار سے سودے بازی کی کہ اگر وہ خود کو قانون کے حوالے کر دے تو اسے جیل میں تمام سہولتیں میسر رہیں گی۔ اسے اس کی اپنی بنائی ہوئی ذاتی جیل میں رکھا گیا۔ لیکن حکومت کو شکایت رہی کہ وہ اس جیل کے اندر سے بھی مجرمانہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ 1991ءکے آئین میں کولمبیا سے مجرموں کو امریکہ کے حوالے کرنے کی ممانعت تھی اور کہا جاتا ہے کہ آئین کی یہ شق الیسکو بار کے رسوخ کے نتیجے میں شامل کی گئی تھی۔ حکومت نے اسے عام جیل میں منتقل کرنا چاہا تو الیسکو بار کے ذرائع نے اس کا بروقت پتہ چلا لیا۔ 1992ءمیں امریکی نفاذ قانون کے اداروں اور کولمبین حکومت نے الیسکو بار کے مخالفین کو ساتھ ملا کر اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ اسی دوران کولمبیا کے ایک اور شہر ”کالی“ سے ایک اور منشیات فروش گروہ ابھر رہا تھا۔ اس گروہ کی مدد بھی حاصل کی گئی اور بالاخر 1993ءمیں الیسکو بار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کی موت کے بارے میں سرکاری تفصیلات تو کچھ اور تھیں لیکن لوگوں میں مختلف اور طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔ الیسکو بار کے گروہ میں کام کرنیوالی ایک عورت ہر سالدا بلانکو کو بعد میں بہت شہرت ملی۔ ہرسالدا کو بندہ مارنے میں ذرا بھی تامّل نہیں ہوتا تھا اپنے ایک خاوند سمیت اس نے کئی لوگوں کو کھڑے کھڑے گولی مار دی تھی۔ اس نے جیل کاٹنے کے بعد معمول کی زندگی گذارنا شروع کر دی تھی لیکن گزشتہ برس کسی نے اس کا مکان خریدنے کے بہانے اسے ایک جگہ بلایا اور دو موٹر سائیکل سواروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ قاتل پکڑے نہیں گئے۔ کہا جاتا ہے موٹر سائیکل سوار قاتلوں کی ابتدا ہر سالدا نے کی تھی۔

کالی کارٹل کے دو بھائی تھے جنہیں روڈریگوئز برادران کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کولمبیا سے امریکہ تک پر پرزے نکالے۔ کوکین بنانے کے لئے امریکہ سے کیمیکل منگوانے میں مشکلات پیش آئیں تو انہوں نے امریکہ میں ہی لیبارٹریز بنا لیں۔ ایف بی آئی انہیں پکڑنے کے لئے سالہا سال کوششیں کرتی رہی ان کوششوں کی تفصیل بھی بڑی عجیب ہے۔ ایف بی آئی کے حکام ان کوششوں کے نام پر موج میلے اور سیر و تفریح بھی کرتے رہے۔ ایک دور میں امریکہ میں سالانہ سات بلین ڈالر کی کوکین سپلائی ہو رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ شروع میں امریکی حکام کوکین کے بارے میں زیادہ سخت رویہ نہیں رکھتے تھے اسے محض ”دل پشوری“ کرنے والا نشہ سمجھتے رہے لیکن جب کوکین کے ذریعہ امریکہ سے ہر سال سات بلین ڈالر کھینچے جانے لگے تو یہ ایک معاشی مسئلہ بھی بن گیا اور اس حوالے سے اس کا قلع قمع کرنا ضروری ہو گیا۔

منشیات کی تجارت سے میکسیکو کا بھی کسی نہ کسی طرح تعلق رہا ہے۔ کولمبین منشیات فروش بھی میکسیکو کو راہداری کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پکڑے جانے والے سرگروہ کو تیرہ سال سے پکڑنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں ۔ اب بھی کہا یہ جاتا ہے کہ مخالف گروہوں نے پکڑنے میں مدد دی ہے۔ بعض لوگوں کا الزام ہے کہ میکسیکو کے اعلیٰ حکام کو ہوکین ال چاپو سے جو بھتہ ملتا تھا اب وہ کم محسوس ہونے لگا تھا۔ ال چاپو نے بھی باہمی لڑائیوں میں دس ہزار بندے مارے ہیں۔ میکسیکو کے منشیات فروشوں کے دلچسپ عرفی نام ہیں۔ ال چاپو کا مطلب ہے جھوٹے قد والا، ال چاپو ایک بار لانڈری کے لئے کپڑے لے جانے والے بکس میں چھپ کر جیل سے بھاگ گیا تھا اور اس کے لئے اس نے جیل حکام کو بھاری رشوت دی تھی۔ میکسیکو کا ایک اور منشیات فروش ال گیسو کہلاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے stewکیوں کہ وہ اپنے دشمنوں کو ایک بڑے کڑھاﺅ میں زندہ ابال ڈالتا ہے۔ ایک ”ٹونی تباہ کار“ کہلاتا ہے۔ ایک کی عرفیت ال کوچو ہے جس کے معنی ہیں دھڑ، وہ اپنے مخالفین کے بازو ٹانگیں کاٹ کر دھڑ الگ پھینک دیتا ہے۔ ایک کو ”یار مار“ کے نام سے پہچانا جاتا ہے کیونکہ اس نے اب تک اپنے دوستوں پر ہی مشق ستم کی ہے اور ایک ہیں جنہیں ”کیڑے خور“ کہا جاتا ہے۔

ہوکین گو سمان المعروف ال چاپو کو فوربس میگزین نے اکتالیسواں، ساٹھواں اور55واں دنیا کا طاقتور یا با اثر آدمی قرار دیا تھا۔ اسے میکسیکو کا دسواں امیر ترین شخص بھی قرار دیا گیا تھا اور اس کی دولت کا اندازہ ایک ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔ ال چاپو کی سب سے بڑی منڈی امریکہ تھی۔ جہاں اس کے تقسیم کنندگان کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اس کے شہر کا نام سنالو آہے اور اس کی گرفتاری کے چھ دن بعد اس شہر میں اس کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ لوگوں نے ال چاپو کے حق میں نعرے لگائے۔ مظاہرین میں سکول کے طلبہ و طالبات بھی شامل تھیں۔ انہوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے کہ ”ہم ال چاپو سے پیار کرتے ہیں۔“ ال چاپو کو رہا کرو“ شہر کے ایک مقبول بینڈ نے مظاہرین کے ساتھ ساتھ مارچ کرتے ہوئے ال چاپو کے پسندیدہ نغموں کی دھنیں بجائیں۔ ایک اور شہر کو کیا کان میں بھی ایسے مظاہرے ہوئے ہیں۔ دونوں جگہ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ال چاپو کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کا روزگار لگا ہوا تھا۔ اخبار ”دی سٹار“ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ حکام کا یہ خیال غلط ہے کہ ال چاپو یا اس کے دوسرے نائیبین کی گرفتاریوں سے منشیات کی فروخت میں کوئی نمایاں کمی آ جائے گی۔ دی سٹار کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کیوں کہ امریکہ جو دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہے وہاں اس کی تقسیم اور استعمال پر قابو پانے میں کوئی کامیابی نہیں ہے یہی نہیں بعض اوقات سی آئی اے خود اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے اس کاروبار میں ملوث رہی ہے۔

گلوبل ریسرچ کے مائیکل چوسودوسکی کا خیال ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کا منشیات سے گہرا رشتہ ہے اقوام متحدہ کے انسداد منشیات کے ادارے UNODCکی رپورٹ ہے کہ افغانستان میں افیون کی پیداوار میں 2013ءمیں 36فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جب سے امریکی فوجیں وہاں گئی ہیں افیون کی پیداوار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2007ءمیں ایک لاکھ ترانوے ہزار ہیکٹر رقبے پر افیون کاشت کی گئی جسے اب تک ریکارڈ سمجھا جا رہا تھا۔ 2012ءمیں یہ رقبہ کم ہو کر ایک لاکھ چون ہزار ہیکٹر رہ گیا۔ لیکن 2013ءمیں دو لاکھ 9ہزار ہیکٹر رقبے پر افیون کاشت ہوئی۔

اس وقت کولمبیا یا لاطینی امریکہ کے مقابلے میں افغانستان میں افیون اور ہیروئن کی پیداوار زیادہ ہے دنیا بھر میں افیون کی اسی فیصد مقدار افغانستان سے فراہم ہو رہی ہے۔

امریکہ میں نچلے طبقوں میں زیادہ تر ”ماری ہوانا“ (ماروانہ) استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اعلیٰ طبقوں میں ہالی وڈ میں یونیورسٹیوں اور سیاست دانوں میں کوکین، میتھمفٹاین اور کئی طرح کے خطرناک نشے استعمال ہوتے ہیں۔ ابھی چند ہفتے پہلے ایک اداکار کوکین کے نشے کی زیادہ مقدار کی وجہ سے مر گیا ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ امریکہ میں منشیات کن راستوں سے اندر آتی ہے اور ان راستوں پر اسے کیوں نہیں روکا جاتا؟

حیرت کدئہ م شیات کے عجائبات

گزشتہ ہفتے میکسیکو کے ا تہائی مطلوب م شیات فروش کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر امریکہ میں مقدمہ چلے گا۔ م شیات کی دُ یا بھی ایک عجیب حیرت کدہ ہے۔ ایک زما ے میں کولمبیا کے م شیات کے گُرگے بہت مشہور رہے ہیں۔ کولمبیا کے شہر میداژی کو پابلو الیسکوبار ے میڈیا میں متعارف کرایا۔ اس ے 1970ءمیں جرائم کی دُ یا میں قدم رکھا۔ م شیات کی دُ یا میں آیا تو ایک دیو مالائی کی شخصیت ب گیا۔ 1989ءمیں فوربس میگزی ے اُسے دُ یا کے ارب پتیوں میں شمار کیا خود اس کی ذاتی دولت کا ا دازہ تی ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔ دُ یا بھر میں کوکی کی تجارت میں اسی فیصد پر الیسکو بار کو بالا دستی حاصل تھی۔ میداژی کے لوگ اس کی ابتدائی مجرما ہ ز دگی کو بھول کر اسے ایک ہیرو کی طرح پوجتے تھے۔ م شیات کی دُ یا میں کاروباری رقابت بے حد شدید ہوتی ہے۔ کوئی م شیات کا سرگروہ کسی دوسرے کو برداشت کر ے کو تیار ہیں ہوتا م شیات فروشی رفتہ رفتہ دوسرے جرائم بالخصوص قتل و غارت لڑائی بھڑائی کے فروغ کا باعث ب تی ہے۔ مال حرام کما ے والے صحتم د کاروباری مقابلے کے قائل ہیں ہوتے۔ ہمارے ہاں بھتہ خوری پر ایک دوسرے کو راستے سے ہٹا ے کے لئے لڑائیاں اور ٹارگٹ کل گ ہو رہی ہے۔ پابلوالیسکو بار ے اپ ے مخالفی کے ستائیس ہزار ایک سو افراد کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ اس پر مستزاد چھ سو پولیس والوں کو قتل کرایا تھا۔

کولمبی حکومت ے بالاخر الیسکو بار سے سودے بازی کی کہ اگر وہ خود کو قا و کے حوالے کر دے تو اسے جیل میں تمام سہولتیں میسر رہیں گی۔ اسے اس کی اپ ی ب ائی ہوئی ذاتی جیل میں رکھا گیا۔ لیک حکومت کو شکایت رہی کہ وہ اس جیل کے ا در سے بھی مجرما ہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ 1991ءکے آئی میں کولمبیا سے مجرموں کو امریکہ کے حوالے کر ے کی مما عت تھی اور کہا جاتا ہے کہ آئی کی یہ شق الیسکو بار کے رسوخ کے تیجے میں شامل کی گئی تھی۔ حکومت ے اسے عام جیل میں م تقل کر ا چاہا تو الیسکو بار کے ذرائع ے اس کا بروقت پتہ چلا لیا۔ 1992ءمیں امریکی فاذ قا و کے اداروں اور کولمبی حکومت ے الیسکو بار کے مخالفی کو ساتھ ملا کر اس کے گرد گھیرا ت گ کر دیا۔ اسی دورا کولمبیا کے ایک اور شہر ”کالی“ سے ایک اور م شیات فروش گروہ ابھر رہا تھا۔ اس گروہ کی مدد بھی حاصل کی گئی اور بالاخر 1993ءمیں الیسکو بار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس کی موت کے بارے میں سرکاری تفصیلات تو کچھ اور تھیں لیک لوگوں میں مختلف اور طرح طرح کی کہا یاں مشہور تھیں۔ الیسکو بار کے گروہ میں کام کر یوالی ایک عورت ہر سالدا بلا کو کو بعد میں بہت شہرت ملی۔ ہرسالدا کو ب دہ مار ے میں ذرا بھی تامّل ہیں ہوتا تھا اپ ے ایک خاو د سمیت اس ے کئی لوگوں کو کھڑے کھڑے گولی مار دی تھی۔ اس ے جیل کاٹ ے کے بعد معمول کی ز دگی گذار ا شروع کر دی تھی لیک گزشتہ برس کسی ے اس کا مکا خرید ے کے بہا ے اسے ایک جگہ بلایا اور دو موٹر سائیکل سواروں ے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ قاتل پکڑے ہیں گئے۔ کہا جاتا ہے موٹر سائیکل سوار قاتلوں کی ابتدا ہر سالدا ے کی تھی۔

کالی کارٹل کے دو بھائی تھے ج ہیں روڈریگوئز برادرا کہا جاتا ہے۔ ا ہوں ے کولمبیا سے امریکہ تک پر پرزے کالے۔ کوکی ب ا ے کے لئے امریکہ سے کیمیکل م گوا ے میں مشکلات پیش آئیں تو ا ہوں ے امریکہ میں ہی لیبارٹریز ب ا لیں۔ ایف بی آئی ا ہیں پکڑ ے کے لئے سالہا سال کوششیں کرتی رہی ا کوششوں کی تفصیل بھی بڑی عجیب ہے۔ ایف بی آئی کے حکام ا کوششوں کے ام پر موج میلے اور سیر و تفریح بھی کرتے رہے۔ ایک دور میں امریکہ میں سالا ہ سات بلی ڈالر کی کوکی سپلائی ہو رہی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ شروع میں امریکی حکام کوکی کے بارے میں زیادہ سخت رویہ ہیں رکھتے تھے اسے محض ”دل پشوری“ کر ے والا شہ سمجھتے رہے لیک جب کوکی کے ذریعہ امریکہ سے ہر سال سات بلی ڈالر کھی چے جا ے لگے تو یہ ایک معاشی مسئلہ بھی ب گیا اور اس حوالے سے اس کا قلع قمع کر ا ضروری ہو گیا۔

م شیات کی تجارت سے میکسیکو کا بھی کسی ہ کسی طرح تعلق رہا ہے۔ کولمبی م شیات فروش بھی میکسیکو کو راہداری کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے پکڑے جا ے والے سرگروہ کو تیرہ سال سے پکڑ ے کی کوششیں کی جا رہی تھیں ۔ اب بھی کہا یہ جاتا ہے کہ مخالف گروہوں ے پکڑ ے میں مدد دی ہے۔ بعض لوگوں کا الزام ہے کہ میکسیکو کے اعلیٰ حکام کو ہوکی ال چاپو سے جو بھتہ ملتا تھا اب وہ کم محسوس ہو ے لگا تھا۔ ال چاپو ے بھی باہمی لڑائیوں میں دس ہزار ب دے مارے ہیں۔ میکسیکو کے م شیات فروشوں کے دلچسپ عرفی ام ہیں۔ ال چاپو کا مطلب ہے جھوٹے قد والا، ال چاپو ایک بار لا ڈری کے لئے کپڑے لے جا ے والے بکس میں چھپ کر جیل سے بھاگ گیا تھا اور اس کے لئے اس ے جیل حکام کو بھاری رشوت دی تھی۔ میکسیکو کا ایک اور م شیات فروش ال گیسو کہلاتا ہے۔ جس کا مطلب ہے stewکیوں کہ وہ اپ ے دشم وں کو ایک بڑے کڑھاﺅ میں ز دہ ابال ڈالتا ہے۔ ایک ”ٹو ی تباہ کار“ کہلاتا ہے۔ ایک کی عرفیت ال کوچو ہے جس کے مع ی ہیں دھڑ، وہ اپ ے مخالفی کے بازو ٹا گیں کاٹ کر دھڑ الگ پھی ک دیتا ہے۔ ایک کو ”یار مار“ کے ام سے پہچا ا جاتا ہے کیو کہ اس ے اب تک اپ ے دوستوں پر ہی مشق ستم کی ہے اور ایک ہیں ج ہیں ”کیڑے خور“ کہا جاتا ہے۔

ہوکی گو سما المعروف ال چاپو کو فوربس میگزی ے اکتالیسواں، ساٹھواں اور55واں د یا کا طاقتور یا با اثر آدمی قرار دیا تھا۔ اسے میکسیکو کا دسواں امیر تری شخص بھی قرار دیا گیا تھا اور اس کی دولت کا ا دازہ ایک ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔ ال چاپو کی سب سے بڑی م ڈی امریکہ تھی۔ جہاں اس کے تقسیم ک دگا کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اس کے شہر کا ام س الو آہے اور اس کی گرفتاری کے چھ د بعد اس شہر میں اس کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ لوگوں ے ال چاپو کے حق میں عرے لگائے۔ مظاہری میں سکول کے طلبہ و طالبات بھی شامل تھیں۔ ا ہوں ے کتبے اٹھا رکھے تھے کہ ”ہم ال چاپو سے پیار کرتے ہیں۔“ ال چاپو کو رہا کرو“ شہر کے ایک مقبول بی ڈ ے مظاہری کے ساتھ ساتھ مارچ کرتے ہوئے ال چاپو کے پس دیدہ غموں کی دھ یں بجائیں۔ ایک اور شہر کو کیا کا میں بھی ایسے مظاہرے ہوئے ہیں۔ دو وں جگہ مظاہری کا کہ ا تھا کہ ال چاپو کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کا روزگار لگا ہوا تھا۔ اخبار ”دی سٹار“ ے خیال ظاہر کیا ہے کہ حکام کا یہ خیال غلط ہے کہ ال چاپو یا اس کے دوسرے ائیبی کی گرفتاریوں سے م شیات کی فروخت میں کوئی مایاں کمی آ جائے گی۔ دی سٹار کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کیوں کہ امریکہ جو د یا کی سب سے بڑی م ڈی ہے وہاں اس کی تقسیم اور استعمال پر قابو پا ے میں کوئی کامیابی ہیں ہے یہی ہیں بعض اوقات سی آئی اے خود اپ ے اخراجات پورے کر ے کے لئے اس کاروبار میں ملوث رہی ہے۔

گلوبل ریسرچ کے مائیکل چوسودوسکی کا خیال ہے کہ دہشتگردی کے خلاف ج گ کا م شیات سے گہرا رشتہ ہے اقوام متحدہ کے ا سداد م شیات کے ادارے UNODCکی رپورٹ ہے کہ افغا ستا میں افیو کی پیداوار میں 2013ءمیں 36فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جب سے امریکی فوجیں وہاں گئی ہیں افیو کی پیداوار مسلسل بڑھ رہی ہے۔ 2007ءمیں ایک لاکھ ترا وے ہزار ہیکٹر رقبے پر افیو کاشت کی گئی جسے اب تک ریکارڈ سمجھا جا رہا تھا۔ 2012ءمیں یہ رقبہ کم ہو کر ایک لاکھ چو ہزار ہیکٹر رہ گیا۔ لیک 2013ءمیں دو لاکھ 9ہزار ہیکٹر رقبے پر افیو کاشت ہوئی۔

اس وقت کولمبیا یا لاطی ی امریکہ کے مقابلے میں افغا ستا میں افیو اور ہیروء کی پیداوار زیادہ ہے د یا بھر میں افیو کی اسی فیصد مقدار افغا ستا سے فراہم ہو رہی ہے۔

امریکہ میں چلے طبقوں میں زیادہ تر ”ماری ہوا ا“ (ماروا ہ) استعمال ہوتی ہے۔ لیک اعلیٰ طبقوں میں ہالی وڈ میں یو یورسٹیوں اور سیاست دا وں میں کوکی ، میتھمفٹای اور کئی طرح کے خطر اک شے استعمال ہوتے ہیں۔ ابھی چ د ہفتے پہلے ایک اداکار کوکی کے شے کی زیادہ مقدار کی وجہ سے مر گیا ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ امریکہ میں م شیات ک راستوں سے ا در آتی ہے اور ا راستوں پر اسے کیوں ہیں روکا جاتا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *