مشرف کا فرار، اس نظام کے منہ پر طمانچہ

imad zafar

الآخر مشرف کو سپریم کورٹ نے بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت دے دی.سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے سابق آرمی چیف کو اجازت ہے کہ وہ پاکستان سے باہر سفر کر سکتے ہیں.گویا ایک طرح سے مشرف کو بیرون ملک فرار کا پروانہ مل گیا. اب مشرف جب چاہے علاج معالجے کی غرض سے بیرون ملک فرار ہو سکتا ہے. کچھ صحافی دوستوں  اور کچھ حکمران جماعت کے انتہائی معتبر اعلی شخصیات سے بات ہوئی تو ان کے  مطابق مشرف علاج کے بہانے وطن عزیز سے باہر جا کر مستقل سکونت اختیار کر لے گا.مشرف کے باہر جانے کی صورت میں نواز شریف کو بھی غالبا حکومت کرنے میں آسانی ہو گی اور "فرشتے" ان کی راہ میں کوئی روڑے نہیں اٹکایں  گے. یوں "مقدس گائے " ایک بار پھر مقدس ہی رہے گی. سیاسی سطح پر نواز شریف نے  مشرف کی بیرون ملک روانگی کا فیصلہ سپریم کورٹ کے حوالے کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ آزاد عدلیہ نے ایک خود مختار فیصلہ دیا ہے.یقینا اس فیصلے پر قابل ذکر بڑی سیاسی جماعتیں بھی زیادہ شور نہیں مچائیں گی اور یوں یہ معاملہ دب جائے گا. لیکن اس فیصلے سے اور مشرف کے بیرون ملک متوقع فرار سے ملک میں قانون عدالتوں اور جمہوریت کے آزادـ یا مضبوط ہونے کے دعووں کی  قلعی خوب اچھے طریقے سے کھل گئی.  قانون نے ثابت کر دیا کہ وہ آج بھی نہ صرف اندھا ہے بلکہ گونگا اور بہرا بھی ہے. اس قانون کو کسی بھی فوجی آمر یا طاقتور شخصیت کو سزا دیتے وقت سانپ سونگھ جاتا ہے. لیکن غریب آدمی کو سزا دیتے وقت یہ قانون انصاف کے تمام تقاضوں اور اصولوں پر عملدرآمد کیلئے بے چین نظر آتا ہے. عجیب قانون ہے جو ڈنڈے اور طاقت کو سلامی دیتا ہے اور کمزور اور بے بس پر طاقت دکھاتا ہے. عدلیہ جو کہ وکلا تحریک کے بعد اپنے آپ کو آزاد ثابت کرنے پر مصر دکھائی دیتی ہے.کسی جمہوری وزیر اعظم کو پھانسی دینا ہو یا نااہل قرار دینا ہو تو فورا فیصلہ سنا دیتی ہے لیکن فوجی آمر کو سزا دینے کا معاملہ ہو تو قطعی طور پر عجلت کا مظاہرہ نہیں کرتی. گو اس فیصلے کے میرٹ پر قانون دان بہتر گفتگو یا مباحثہ کر سکتے ہیں لیکن ایک سوال اب یہ ابھرتا ہے کہ اگر جیلوں میں موجود قتل ڈکیتی دہشت گردی اور زنا بالجبر کے ملزم جن پر ابھی جرم بھی عدالت میں نہ ثابت ہوا ہو اگر وہ بھی بیماری کا عذر  بنا کر میڈیکل سرٹیفیکیٹ عدالت میں پیش کریں اور بیرون ملک علاج کی غرض سے جانے کی اجازت چاہیں تو پھر معزز عدلیہ کس اخلاقی جواز یا فیصلے کی رو سے ان کی درخواست مسترد یا رد کرے گی. جمہوریت ہمارے ہاں ہمیشہ ہی لنگڑی لوڑی رہی ہے اور مـشرف کے یوں باہر فرار ہونے سے صاف ظاہر ہے کہ آج بھی جمہوریت خاکی بیساکھیوں کی محتاج ہے. یہ بھی ایک خوب تماشہ ہے مشرف نے قانون اور آئیںن کو سر عام پامال کیا اس ملک میں دہشت گردی سے لے کر ججز کی نظربندی  اور بلوچستان میں لگی آگ مشرف کی مرہون منت ہے. یہ وہی آمر ہے جس نے دو تہائی مینڈیٹ والے وزیر اعظم کو سن 1999 میں ہتھکڑیاں لگا کر اٹک قلعہ بھیج دیا تھا. اور آج بھی اس فیصلے کے بعد ایک بار پھر اسی وزیر اعظم کے دو تہائی مینڈیٹ کی پھر سے دھجیاں بکھیر دیں. دوسرے الفاظ میں صاف ظاہر ہے کہ وطن عزیز میں کچھ خاص تبدیلی نہیں آئی اور آج بھی وطن عزیزـمیں اصل معاملات فوج کے ہاتھ میں ہیں. یعنی ہمارے سیاستدان اور عسکری حلقے ماضی کے تجربات سے کچھ بھی سیکھنے کو تیار نہیں.آج بھی سویلین بلڈی سویلین ہی ہے اور آمر آج بھی سب پر بھاری ہے. آصف زرداری یا الطاف حسین کے خلاف صبح شام شور مچاتے انکی کرپشن کی داستانیں سناتے سارے سچے کھرے صحافیوں دانشوروں کو اب سانپ سونگھ گیا ہے اور کوئی بھی مشرف کی اس ڈیل کے تحت رہائی پر دھائیاں مچاتا دکھائی نہیں دیتا.ویسے یہ بھی خوب ہے آپ اگر فوج کے ادارے سے تعلق رکھتے ہیں تو کوئی  قانون آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا  اور اگر آپ سویلین ہیں تو کسی بھی وقت قانون جاگ کر آپ کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے. اگر ہـزارہا بلوچ جوانوں کا خون اکبر بگٹی بالاچ مری کا قتل پاکستان کے آئین کی پامالی وکلا کو زندہ جلانے جیسے گھناونے جرائم کرنے والا شخص علاج کے بہانے ایک محفوظ راستہ لے کر بیرون ملک عیاشی کی زندگی گزار سکتا پے تو پھر حکومت وقت کے پاس کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ ممتاز قادری کو پھانسی دیتے.قاتل تو مشرف بھی هے،  اور ممتاز قادری بھی. صرف اس لیئے کہ وہ غریب کا بچہ تھا اور سویلین تھا اس کو سولی پر چڑھانا اور مشرف کو اس کے ادارے کی پشت پناہی اور فوجی ہونے کی بنا پر کوئی سزا نہ دینا انصاف کا قتل ہے. الطاف حسین کو اب آپ کس منہ سے قتل بھتہ خوری کے جرم میں گرفتار کر سکتے ہیں. کیوں کر آپ کسی بھی قاتل کو سولی پر چڑھا سکتے ہیں. سیاسی جماعتیں جو جمہوریت کی چیمپین بنتی ہیں ان کو کم سے کم اب جمہوریت کا نام لینا چھوڑ دینا چاہیے.  میاں نواز شریف نے اقتدار تو مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے پر بچا لیا لیکن جمہوریت کو مزید کمزور کر دیا. بہتر ہوتا کہ میاں صاحب سیاست میں آنے کے بجائے کاروبار ہی جاری رکھتے. سیاست میں اور قائدانہ رول میں آپ کو بعض اوقات رسک لینا پڑتا ہے بہت سا دباو برداشت کرنا پڑتا ہے. ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ جمہوریت کے نعرے مارتے پس پشت قوتوں کے دباو اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ معاہدوں کی وجہ سے مشرف جیسے بد ترین آمر کو تو کچھ نہ کہیں لیکن بلوچستان کے نوجوانوں کو چن چن کر مار دیں.ہزارہا افراد کو لاپتہ کر دیں. ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے وطن میں لیڈرز بھی ایسٹیبلیشمنٹ ہی ہم پر مسلط کرتی ہے.اور جب دل چاہے ہمیں کبھی جمہوریت اور کبھی آمریت کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے. مشرف کا یوں وطن سے فرار اور قانون کی گرفت سے آزاد ہونا اس سیاسی اور قانونی نظام کے منہ پر ایک زوردار تھپڑ ہے.ایک ایسا تھپڑ جو اس چیز کی نشاندہی کرتا ہے کہ وطن عزیز میں سیاسی قانونی اور عدالتی نظام گل سڑ چکا ہے. جو صرف اشرافیہ کو بچانے کیلئے غریب عوام کو چارے کے طور پر استعمال کرتا ہے. کم سے کم اب پس پشت قوتوں کو یہ الیکشن کا ڈرامہ کروا کر اربوں روپے ضائع کرنے کے بجائے سیدھا سیدھا سامنے آ کر حکمرانی سنبھال لینی چاہیے. بجائے سیاسی کٹھ پتلیاں استعمال کرنے کے سامنے سے آ کر معاملات چلانے چائیں. قائداعظم نے وطن عزیز کی بنیاد رکھنے کے بعد فوج کے اعلی افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا  کہ فوج کی زمہ داری صرف وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے.لیکن ہمارے خاکی بھائیوں نے اس قول کی تشریح کچھ اسـطرح کی کہ ان کا کام وطن کی سیاسی  نظریاتی اور کاروباری  سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے.فہم سے بالاتر ہے کہ کیا امریکہ میں کوئی ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی جیسی ہاوسنگ سکیم ہے. کیا اور ممالک میں افواج دلیہ سیمنٹ کھاد اور دیگر کاروبار بھی چلاتی ہیں؟ کیا کسی مہذب معاشرے میں آج بھی آمروں کو سرکاری جھنڈوں میں دفن کیا جاتا ہے.کیا وہاں سینکڑوں معصوم افراد کے قاتل آمر کو قانون کی گرفت سے بچانے کیلئے اس کا ادارہ چھپ کر حکومتوں پر دباوـڈالتا ہے. مـشرف صرف جمہوریت کا مجرم نہیں ہے لاپتہ افراد کے لواحقین نے اسے معاف نہیں کیا ہے.لال مسجد کے برین  واشڈ کم عمر مقتول طلبا کے والدین نے بھی اپنی اولاد کا خون اسے نہیں بخشا.نواب اکبر بگٹی کے لواحقین نے  بھی اسے معاف نہیں کیا. تو پھر نواز شریف یا کوئی اور ادارہ  مشرف کو معاف کرنے والے کون ہوتے ہیں. مشرف امریکہ میں بیٹھ کر باقی ماندہ زندگی گـزار کر روز و شب اس ملک کے  سیاستدانوں آور عدلیہ کے کھوکھلا اور اپاہج ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت ثابت ہو گا. شاید میاں نواز شریف نے مشرف کو جانے دے کر اپنے اقتدار کو طول دے دیا ہے شاید ججز نے مشرف کے کیسز کو طول دے کر اپنی اپنی نوکریاں یا بچوں کا مستقبل بہتر بنا لیا ہو. لیکن آج وفاق پاکستان کمزور ہوا ہے.آج پھر آمریت جیتی ہے اور جمہوریت کیلئے ایک اور یوم سیاہ ہے. لیکن مشرف اور اس کے ادارے کو مبارک ہو کہ ایک بار پھر اپنی ہی سرزمین کو فتح کرنے کی ریت کو جاری رکھتے ہوئے پھر سے انصاف قانون اور جمہوریت کو فتح کر کے اس وطن میں بسنے والوں کو بتا دیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں اور دراصل عوام یا عوامی نمائندوں کی اصل حیثیت اور اوقات اس وطن میں کیا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *